اسلام
واپس

51. Adh-Dhariyat

1قسم ہے اُن ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں

2پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں

3پھر سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں

4پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں

5حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے وہ سچی ہے

6اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے

7قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی

8(آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے

9اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے

10مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے

11جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں

12پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟

13وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے

14(اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے

15البتہ متقی لوگ اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے

16جو کچھ اُن کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے

17راتوں کو کم ہی سوتے تھے

18پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے

19اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے

20زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے

21اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟

22آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

23پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو

24اے نبیؐ، ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟

25جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے اُس نے کہا "آپ لوگوں کو بھی سلام ہے کچھ نا آشنا سے لوگ ہیں

26پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر

27مہمانوں کے آگے پیش کیا اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟

28پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا انہوں نے کہا ڈریے نہیں، اور اُسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا

29یہ سن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی، "بوڑھی، بانجھ

30انہوں نے کہا "یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے

31ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟

32انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

33تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں

34جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں

35پھر ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے

36اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

37اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں

38اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا

39تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے

40آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا

41اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی

42کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا

43اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو

44مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے اُن کو آ لیا

45پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے

46اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے

47آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں

48زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں

49اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو

50تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

51اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

52یونہی ہوتا رہا ہے، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون

53کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں

54پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں

55البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے

56میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں

57میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

58اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست

59پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں

60آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے

ذریعہ: Abul A Ala Maududi

WEBREATH · 11:11

«If you are thankful, I will give you more» — Quran 14:7

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath