اسلام
واپس

26. الشعراء

1ط س م

2یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

3اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

4ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

5اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں

6اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

7اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟

8یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

9اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

10اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا

11فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟

12اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

13میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں

14اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے

15فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے

16فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے

17کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے

18فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے

19اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے

20موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا

21پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیا

22رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا

23فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟

24موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو

25فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟

26موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں

27فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں

28موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں

29فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں

30موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟

31فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے

32(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھا

33پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا

34فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے

35چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟

36انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

37کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں

38چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئے

39اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟

40شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے

41جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟

42اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے

43موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے

44انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے

45پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا

46اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے

47اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو

48موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو

49فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا

50انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے

51اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں

52ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا

53اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے

54(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں

55اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے

56اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے

57اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں

58اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے

59یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا

60صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے

61جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے

62موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا

63ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا

64اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے

65موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا

66اور دوسروں کو غرق کر دیا

67اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں

68اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

69اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

70جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟

71انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں

72اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟

73یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟

74انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے

75اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم

76اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟

77میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے

78جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

79جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

80اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

81جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

82اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا

83(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا

84اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر

85اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما

86اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

87اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

88جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد

89بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو

90(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی

91اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی

92اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟

93کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟

94پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ

95اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے

96وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے

97کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے

98جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے

99اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

100اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے

101اور نہ کوئی جگری دوست

102کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں

103یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

104اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

105قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

106یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

107میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

108لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

109میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

110پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو

111انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟

112نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں

113ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو

114میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں

115میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں

116انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا

117نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

118اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے

119آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا

120اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا

121یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

122اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

123عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

124یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

125میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

126لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

127میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

128یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو

129اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے

130اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو

131پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

132ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو

133تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں

134باغ دیے اور چشمے دیے

135مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

136انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے

137یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں

138اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں

139آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں

140اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

141ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا

142یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

143میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

144لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

145میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

146کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟

147اِن باغوں اور چشموں میں؟

148اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟

149تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو

150اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

151اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو

152جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے

153انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے

154تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے

155صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا

156اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا

157مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے

158عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

159اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

160لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا

161یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

162میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

163لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

164میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

165کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو

166اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو

167انہوں نے کہا “اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا

168اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں

169اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے

170آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا

171بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

172پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا

173اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی

174یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں

175اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

176اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا

177یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

178میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

179لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

180میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

181پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو

182صحیح ترازو سے تولو

183اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو

184اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے

185انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے

186اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں

187اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے

188شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

189انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا

190یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

191اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

192یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

193اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے

194تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں

195صاف صاف عربی زبان میں

196اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

197کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟

198(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے

199اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے

200اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے

201وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں

202پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے

203اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ “کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟

204تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟

205تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں

206اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے

207تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟

208(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے

209اور ہم ظالم نہ تھے

210اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں

211نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں

212وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں

213پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے

214اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ

215اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ

216لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں

217اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو

218جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو

219اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے

220وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

221لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟

222وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں

223سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں

224رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں

225کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں

226اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں

227بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں

ذریعہ: Abul A Ala Maududi

WEBREATH · 11:11

«If you are thankful, I will give you more» — Quran 14:7

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath