صحیح مسلم 52 · Characteristics of the Day of Judgment, Paradise, and Hell
7045حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( قیامت کے دن ایک بہت بڑا ( اور ) موٹا آدمی آئے گا ، ( لیکن ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ( وزن میں ) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا ( یہ آیت ) پڑھ لو : " پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ۔
7046افضیل بن عیاض نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا ، اور زمینوں کو ایک انگلی پر ، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اورپانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، بادشاہ میں ہوں ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئےہنسے ، پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " انھوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ۔ وہ ( ہراس چیز کی شراکت سے ) پاک اور بلند ہے جنھیں وہ ( اس کے ساتھ ) شریک کر تے ہیں ۔
7047جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، فضیل کی حدیث کے مانند ، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا : "" وہ ( اللہ ) ان ( انگلیوں ) کو ہلائے گا ۔ "" اور ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ( اس طرح ) ہنسے کہ آپ سے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انھوں نے ( اس طرح ) اللہ کی قدر نہیں کی ( جس طرح ) اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ "" ( اور ( پوری ) آیت تلاوت فرمائی ۔
7048حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا : میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں بادشاہ میں ہوں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ( اس بات پر ) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، پھرآپ نے ( اس آیت کی ) تلاوت کی : " انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ( اس طرح قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے ۔)
7049ابو معاویہ ، عیسی بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگران سب کی روایتوں میں ہے : " اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لےگااور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے " اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا " لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے : " اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا " اور انھوں نے جریر کی حدیث میں مذید یہ کہا : " اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ( آپ ہنسے ۔)
7050ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟
7051سالم بن عبداللہ نے کہا : مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل قیامت کےدن آسمانوں کو لپیٹے گا ، پھران کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا : بادشاہ میں ہوں ۔ ( آج دوسروں پر ) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، ( آج ) جبر کرنےوالے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ ‘ ‘
7052یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا : مجھے ابو حازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ ( حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً ) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کرکے دکھاتے ہیں ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا " میں اللہ ، میں بادشاہ ہوں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا پنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے ۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا ، وہ اپنے نچلے حصے سے ( لے کر او پرکے حصے تک ) ہل رہاتھا ۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گرجائے گا؟
7053عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا : مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " ( اللہ ) جبارعزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا ۔ " پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7054سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا : "" اللہ عزوجل نے مٹی ( زمین ) کو ہفتے کےدن پیداکیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کےدن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلادیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ ( کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں پیدا فرمایا ۔ "" جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حسین بن علی بسطامی ، سہل بن عمار ، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی ۔)
7055حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی ، سفید زمین پر اکٹھا کیا جا ئے گا ، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہو تی ہے اور اس کسی شخص کے لیے کو ئی علامت موجود نہیں ہو گی ۔
7056حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا : " جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جا ئے گی اور آسمان ( بھی بدل دیا جائےگا ) تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( پل صراط پر ۔)
7057عطاءبن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روئی بن جائے گی ۔ جبار ( اللہ تعالیٰ ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرروئی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کو ئی شخص سفر میں روئی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ۔ ( حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آگیا اس نے کہا : ابو القاسم الرحمٰن آپ پر برکت نازل فرمائے !کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے ارشاد فرمایا : " کیوں نہیں ! ( بتاؤ ) اس نے کہا : زمین ایک ( بڑی سی ) روئی بن جا ئے گی ۔ جس طرح ( اس کی آمد سے قبل خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ ( ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے ۔ اس نے ( پھر ) کہا : کیامیں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ( بتاؤ ) " اس نے کہا " ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیل اور مچھلی یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو ( جوا صل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہو تا ہے ) ستر ہزار لوگ کھائیں ۔
7058محمد بن سیرین نے ہمیں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دس ( بڑے ) یہودی ( عالم ) میری پیروی کر لیتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا مگر مسلمان ہو جا تا ۔
7059حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے ( کر چل ) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کے بارے میں تمھیں شک کس بات کا ہے؟ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوکر آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا ۔ ( حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تھوڑی دیر کے لیے ) خاموش ہو گئے اور ان کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پروحی نازل ہو رہی ہے ۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر ( رک کر ) کھڑا ہو گیا ۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ پڑھتے ہوئے ) فرمایا : " یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم ( انسانوں ) کو بہت کم علم دیا گیا ہے ۔
7060ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ۔ ان دونوں ( وکیع اور عیسیٰ ) نےاعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک ( اجزائے ہوئے ) کھیت میں جارہاتھا ۔ حفص کی حدیث کے مانند مکروکیع کی حدیث میں ہے : "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" "" اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے ۔ "" ( جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قرآءت ہے ۔ اور عیسیٰ بن یو نس کی اس روایت میں جوان سے ( علی ) بن خشرم نے بیان کی ہے وما اوتوا "" انھیں نہیں دیا گیا "" کے الفاظ ہیں ۔
7061ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں ( کھجور کی ) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے ( چلے جارہے ) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انھوں نے ( بھی ) اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" بیان کیا ۔ ان روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرث ( کھیت ) اور نخل ( کھجورکے درختوں ) کے درمیان جارہے تھے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حرث ہے ۔ ( حدیث 4721 ۔ ) جبکہ دوسری روایت میں "" خرب "" ( اجازجگہ ) ہے ۔ ( حدیث : 125 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیت جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے ۔ مدینہ کے عام کھیتوں کی طرح کھجور کے باغ میں تھا اور اب اس میں کچھ کاشت نہیں ہو رہاتھا اجڑاہوا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے آپ اس کے اندرکھجور کی شاخ کا سہارا لے کر چل رہے تھے ۔ جامع ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ روح کے متعلق یہودیوں سے پوچھ کر قریش مکہ نے بھی سوال کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا ( جمع المومنین حدیث 3140 ) مدینہ میں جب یہود نے خود سوال کیا تو چونکہ وہ اہل کتاب تھے اس لیے یہ امکان تھا کہ ان کی کتاب میں یہی بات کسی اور رنگ میں کہی گئی ہو اور وہ انداز کے اس اختلاف کو اپنے لیےدلیل بنانے کی کو شش کریں اس لیے جواب دینے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف کیا اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ وہی جواب وحی فرمادیا جو تورات کےعین مطابق تھا اور یہود کو اپنے لیے آپ کی رسالت سے انکار کا کو ئی عذر نہ مل سکا ۔
7062وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت خباب ( بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا ۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا : میں اس وقت تک تمھیں ادائیگی نہیں کروں گا ۔ یہاں تک کہ تم نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرو ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : تم مر کردوبارہ زندہ ہو جاؤ گے ۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا ۔ اس نے کہا : اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟تو ( اس وقت ) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گاتو تمھیں ادائیگی کردوں گا ۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا : انھوں نے کہا : اس پریہ آیت نازل ہوئی : "" کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا : مجھے ( اپنا ) مال اور ( اپنی ) اولاد ضروری دی جائے گی "" سے لے کر اس ( اللہ ) کے فرمان "" اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا "" تک ۔
7063ابو معاویہ عبد اللہ بن نمیر جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے ۔ ( حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے ( اجرت کا ) تقاضا کرنے کے لیے آیا ۔
7064شعبہ نے عبد الحمید زیادی سے روایت کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ ابو جہل نے کہا : اے اللہ !اگر ( یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ ۔ تو اس پر ( آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر ( اس طرح کا ) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ ( علیحدگی میں ) استغفار کیے جارہے تھے ۔ اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دےجبکہ وہ ( ایمان لانے والوں کو ) مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ " آیت کے آخرتک ۔
7065عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبد الاعلی قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے نعیم بن ابی ہندنےابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ابوجہل نے کہا : کیا محمدتم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو کہا گیا : ہاں چنانچہ اس نے کہا : لات اور عزیٰ کی قسم !اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرےکو مٹی میں ملاؤں گا ( العیاذ باللہ! ) کہا : پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کوروندے ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تووہ انھیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں ( کو آگے کر کے ان ) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو اس سے کہا کیا : تمھیں کیا ہوا ؟تو اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول ( پیدا کرنے والی مخلوق ) اور بہت سے پر تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیاتنازل فرمائیں ۔ ( ابو حازم نے کہا ۔ ( ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ) اپنی حدیث ہے یا انھیں ( کسی کی طرف سے ) پہنچی ہے ۔ ( وہ آیات یہ تھیں ) "" اس کے سواکوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ ( اسے ) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے ۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے ۔ ( اللہ کے ) بندے کو جب وہ نماز اداکرتا ہے ۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ ( اللہ کا بندہ ) ہدایت پر ہو اور تقوی کا حکم دیتا ہو ( تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟ ) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابو جہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیراہے ۔ ( تو ) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے ۔ ہر گز نہیں !اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ( اسے ) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں کے ۔ ( اس کی ) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو ( مددکے لیے ) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے ۔ ہر گز نہیں!آپ اس کی ( کوئی بات بھی ) نہ مانیں ۔ "" عبید اللہ ( بن معاذ ) نے اپنی حدیث میں مزید کہا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہا : اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس ( اللہ ) نے اسے حکم دیا ہے ۔ اور ( محمد ) بن عبد الاعلیٰ نے مزید یہ کہا : "" وہ اپنی مجلس کو پکارے "" یعنی اپنی قوم کو ۔
7066منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صحیح ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان ( اپنے بستر یا بچھونے پر ) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابو عبدالرحمان!ابواب کندہ ( کوفہ کا ایک محلہ ) میں ایک قصہ گو ( واعظ ) آیا ہوا ہے ، وہ وعظ کررہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی ( اللہ کی ) نشانی آئے گی اور ( یہ د ھواں ) کافروں کی روحیں قبض کرلے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا ۔ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے ، لوگو! اللہ سے ڈرو ، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو ، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتاہو اور جو نہیں جانتا ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ بے شک وہ ( اللہ تعالیٰ ) تم میں سے اس کو ( بھی ) زیادہ جاننے والاہے ۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا ، یہ کہتا ہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ عزوجل نے ا پنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا؛ "" کہہ دیجئے : میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔ "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : "" اے اللہ! ( ان پر ) یوسف علیہ السلام کےسات سالوں جیسے سات سال ( بھیج دے ۔ ) "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو انھیں ( قحط کے ) ایک سال نے آلیا جس نے ہر چیز کاصفایاکرایا ، یہاں تک کہ ان ( مشرک ) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے ۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی ۔ چنانچہ ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ آئے ہیں ، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں ، آپ کی قوم ( قحط اور بھوک سے ) ہلاک ہورہی ہے ۔ ان کےلیے اللہ سے دعا کریں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : "" آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا ۔ ( اور وہ ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا ۔ یہ دردناک عذاب ہوگا ، سے لے کر اس کے فرمان : "" نے شک تم ( کفر میں ) لوٹ جانے والے ہوگئے "" تک ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ "" جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے ( اس دن ) ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ "" وہ گرفت بدر کے دن تھی ۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانےوالا عذاب ( بدر میں شکست فاش اور قتل ) اور روم ( کی فتح ) کی نشانی ( سب ) آکر گذر چکی ہیں ۔
7067ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔
7068قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : پانچ ( نشانیاں گزر چکی ہیں : دھواں ، چمٹ جانے والا عذاب ( بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں ) روم کی فتح ( بدر کےدن ستر مشرکوں کی گرفتاری ) سخت گرفت اور چاند ( کادو ٹکڑے ہونا ۔)
7069وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
7070محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے عزرۃ سے انھوں نے حسن عرفی سے ، انھوں نے یحییٰ بن جزار سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان : " اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انھیں قریب کا ( چھوٹا ) عذاب چکھائیں گے ۔ " ( کی تفسیر ) کے بارے میں روایت کی ، انھوں نے کہا ( اسی ) دنیا میں پیش آنے والے مصائب ، روم کی فتح ، گرفت ( جنگ بدر ) یا دھواں ( مراد ) ہیں ۔ گرفت اور دھوئیں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں ۔ ( ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا ۔ شعبہ نے کہا : انھیں شک ہوا ہے)
7071مجاہد نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکر دوٹکڑے ہوگیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ( لوگو! اس کو دیکھ لو اور ) گواہ بن جاؤ ۔
7072ابو معاویہ ، حفص بن غیاث اور ( علی ) ابن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجودتھے کہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے ( نظر آتا ) تھا اوردوسرا ٹکڑا اس سے آگے ( دوسری طرف نظر آتا ) تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ۔
7073شعبہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکردوٹکڑے ہوگیا ، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا ( اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا ) اورایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ ! تو گواہ رہ ۔
7074معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
7075محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے ، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث نے مانند روایت کی ، مکر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ، گواہ بن جاؤ ۔
7078یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر اور ابو داود سب نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ۔ اور ابو داود ( طیالسی ) کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا ۔
7079حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا ۔
7082عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے ابو عبدالرحمان سلمی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو ، لوگ ( دوسروں کو ) اس کاشریک ٹھہراتے ہیں ، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس ( سب کچھ ) ک باوجود انھیں رزق دیتا ہے ، عافیت بخشتا ہے اور ( جو مانگتے ہیں ) عطا کرتا ہے ۔
7083معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عوان جونی سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص سے ، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا ، فرمائے گا : اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ۔ تمہارے پاس ہوتو ( عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے ) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو وہ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے ، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا ۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگے یہ ) فرمایا ۔ ۔ ۔ اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا ، مگر تم نے شرک ( کرنے ) کے سوا ہر چیز سے انکارکردیا ۔
7084محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عمران سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے ، اسی کے مانند ، سوائے ( اللہ تعالیٰ کے ) اس قول کے : " اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا " انھوں نے اسے بیان نہیں کیا ۔
7085ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔
7086سعید بن ابی عرو بہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا؛ " تو اس سے کہاجائے گا : تم جھوٹ بولتے ہو ، تم سے تو اس سے بہت آسان ( بات کا ) مطالبہ کیاگیا تھا ۔
7087شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
7088سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
7089ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔
7090معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی : " بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔
7091سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
7092۔ عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے ۔ ہوا مسلسل اس کو ( ایک یا دوسری طرف ) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے ( جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے ) ۔ بلتا نہیں حتیٰ کہ ( ایک ہی بار ) اسے کاٹ کر گرادیاجاتا ہے ۔
7093عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اسے جھکاتی رہتی ہے " کے بجائے " اسے موڑتی رہتی ہے " کے الفاظ ہیں ۔
7094زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔
7095زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نمانرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے ، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کردیتی ہے ، حتیٰ کہ اس ( کے پک کرکٹنے ) کا وقت آجاتا ہے ، اور منافق کی مثال ویودار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے ، اس پر ( ایسی ) کوئی مشکل نہیں آتی ، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ ( کرگر ) جاتا ہے ۔
7096محمد بن حاتم اور محمود بن غیلان نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں بشر بن سری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، مگر محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا : " کافر کی مثال ویودار کے درخت کی طرح ہے ۔ " اور ابن حاتم نے " منافق کی مثال " کہا ، جس طرح زہیر نے کہا ہے ۔
7097محمد بن بشار اور عبداللہ بن ہاشم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ۔ ابن ہاشم نے کہا : عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ابن بشار نے کہا : ابن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے انھوں نے اپنے والد سے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جیسے ان سب کی حدیث ہے ۔ اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے : " اورکافر کی مثال ویودار کے درخت جیسی ہے ۔
7098عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے ۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سادرخت ہے؟ "" تو لوگوں کا دھیان جنگل کے مختلف درختوں کی طرف کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بتائیے کہ وہ کون سا ( درخت ) ہے؟ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ "" ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میں نے یہ ( بات اپنے والد ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتائی تو انھوں نے کہا : اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ ( جواب ) فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
7099ابوخلیل الضبعی نے مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے صحابہ سے فرمایا؛ "" مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے ۔ "" تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی ( نہ کوئی ) درخت بتانے لگے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور میرے دل میں یا ( کہا : ) میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا د رخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتادوں ، لیکن ( وہاں ) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہوکر بولنے سے رک گیا ۔ جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔
7100ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کانرم گودا لایا گیا ۔ پھر ان دونوں ( ابوخلیل ضبعی اورعبداللہ بن دینار ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7101سیف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے مجاہد کو سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا کیا ، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7102نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ نے فرمایا : "" مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا ( فرمایا : ) کی طرح ہے ، اس کے پتے نہیں جھڑتے ۔ "" ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد ) ابراہیم ( بن سفیان ) نے کہا : غالباً ( ہمارے شیخ ) امام مسلم نے "" اور وہ ( درخت ) اپنا پھل دیتاہے "" کہا ہوگا ( لیکن میرے پاس "" نہیں دیتا "" لکھا ہے ) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی ( ان کے نسخوں میں ) یہی پایا ہے : اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ مگر میں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھاکہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ بات ناپسندی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں ، چنانچہ ( میری بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے زیادہ پسندہوتا ۔
7103جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیر ہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے ( مایوس نہیں ہوا ۔)
7104وکیع اور ابو معاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
7105جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ابلیس کا تخت سمندرپر ہے ۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں ۔ اس کے نزدیک ( شیطنت کے ) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے ۔
7106ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے ان میں سے ایک آکر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کا م کیا ہے ، وہ کہتا ہے ۔ تم نے کچھ نہیں کیا ، پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے : میں نے اس شخص کو ( جس کے ساتھ میں تھا ) اس وقت تک نہیں چھوڑا ، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی کہا : کہا : وہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے تم سب سے بہتر ہو ۔ "" اعمش نے کہا میراخیال ہے اس ( ابو سفیان طلحہ بن نافع ) نے کہا : "" پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگالیتا ہے ۔
7107ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور وہ لوگوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اس کے نزدیک ان میں سے بڑے مرتبے والا وہ ہو تا ہے جو زیادہ بڑا فتنہ ڈالتا ہے ۔
7108عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نےاپنے والد سے اور انھوں نےحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کو ئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کردیا ہے ( جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے ۔ ) " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ، اس لیے ( اب ) وہ مجھے خیر کے سواکوئی بات نہیں کہتا ۔
7109سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر سفیان کی حدیث میں ہے : " ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیاہے ۔ ( جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف ۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے ۔)
7110عروہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی ، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں ( شدید غصے کے عالم میں ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھیں کیاہوا ہے کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟ " میں نے کہا : مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو ( جس کی کئی سو کنیں ہوں ) آپ جیسے مرد پر ( جو ایک کو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو ) غیرت نہ آئے " تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا ( اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا؟ ) " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے ساتھ بھی ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں لیکن میرے رب نے اس پر ( قابو پانے میں ) میری مددفرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے ۔
7113ایوب نے محمد ( بن سیرین ) اسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت میں چھپالے ۔
7114ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور مغفرت میں چھپالے ۔ " اور ابن عون نے اس طرح اپنے ہاتھ سے بتایا اور اپنے سرکی طرف ( رحمت سے ڈھانپ لینےکا ) اشارہ کیا ( فرمایا ) " اور مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے ( اس طرح ) اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ لے ۔
7115سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں لے لے ۔
7116حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
7117محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابو صالح سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( عمل کے اعلیٰ ترین معیار کے ) قریب تر رہنے کی کوشش کرو ۔ صحیح راستہ اختیار کرو اور یقین رکھو کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ۔ " انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے ۔
7118ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
7119جریر نے اعمش سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
7120ابو معاویہ نے اعمش سے انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور اس میں مزید کہا : " اور خوش خبری لو ۔ " ( کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے ، اچھے عمل قبول ہو جائیں گے ۔)
7121ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نہ جنت میں لے جائے گا ۔ نہ دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ کی طرف سے رحمت کے ( جو نجات کا سبب بنے گی ۔)
7122عبد العزیزبن محمد اور وہیب نے کہا : ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صحیح عمل کرو ( اعلی ترین معیار کے ) قریب تر رہواور ( اللہ کی رحمت کی ) خوش خبری ( کی امید ) رکھو ۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی کو اس کا عمل ہر گز جنت میں داخل نہیں کرے گا ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟فرمایا : " مجھے بھی نہیں الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے چاہے کم ہو ۔
7123عبد العزیز بن مطلب نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " خوش خبری ( کی امید ) رکھو " ذکر نہیں کیا ۔
7124ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی ( اتنی لمبی ) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟
7125سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ( اتنا لمبا ) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلےتمام گناہ معافکردیے ہیں ( پھر اس قدر مشقت کیوں؟ ) تو آپ نے فرمایا : " کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
7126عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو ( بہت لمبا ) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ایسا کرتے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے اگلےپچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی ( یقین دہانی کرائی ) جاچکی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !کیا میں ( اللہ تعالیٰ کا ) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
7127ابو معاویہ نے اعمش سے اور انھوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازےپربیٹھےہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا : ان ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کردیں وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آگئے ۔ اور فرمایا : " مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کردی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈرسے صرف بعض دنوں میں ہی وعظو نصیحت سے نوازاکرتے تھے ۔
7128ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں منجانب بن حارث تمیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، نیز ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔ اور منجانب نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا : ابن مسہر سے روایت ہے اعمش نے کہا : اور مجھے عمرو بن مرہ نے شیقق سے اور انھوں نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
7129منصور نے شیقق ابو وائل سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا : ابو عبد الرحمٰن !ہمیں آپ کی باتیں ( بہت ) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں ۔ انھوں نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کردوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ ( خاص ) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نواازاکرتے تھے ۔
ذریعہ: Sahih Muslim
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath