صحیح مسلم 37 · The Book of Clothes and Adornment
5385امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے زید بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابوبکرصدیق سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
5386قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی ۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بشر نے حدیث سنا ئی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا : ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مو سیٰ بن عقبہ نے حدیث سنا ئی ۔ شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے ان سب ( لیث بن سعد ایوب محمد بن بشر یحییٰ بن سعید عبید اللہ موسیٰ بن عقبہ اور عبد الرحمٰن سراج ) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے ( اوپر ) انھی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا : " بلا شبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھا تا یا پیتا ہے ۔ " ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے ( کےبرتن ) کا ذکر نہیں ۔ صرف ابن مسہرکی حدیث میں ہے ۔
5387عثمان بن مرہ نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص سونے یا چا ندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
5388(ابو خیثمہ ) زہیر نے کہا : ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اورسات چیزوں سے روکا میریض کی عیادت کرنے جنازے کے ساتھ شریک ہو نے چھنیک کا جواب دینے ( اپنی ) قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم پو ری کرنے مظلوم کی مددکرنے دعوت قبول کرنے انگوٹھی پہننے سے چاندی کے برتن میں ( کھا نے ) پینے ارغوانی ( سرخ ) گدوں سے ( اگر وہ ریشم کے ہوں ) مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں ( جو ریشم کے ہو تے تھے ۔ ) اور ( کسی بھی قسم کے ) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا ( استبراق ریشم کا مو ٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک ۔)
5389ابو عوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنا ئی ، سوائے " اپنی قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم ) " کے الفاظ کے ، انھوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا : اور اس کے بجا ئے گمشدہ چیز کا اعلا ن کرنے کا ذکر کیا ۔
5390علی مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے انھوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سندکے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے ( کی قسم ) پو ری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا : " اور چاندی ( کے برتن ) میں پینے سے ( منع کیا ) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا ۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا ۔
5391ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو اسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا ۔
5392شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، سوائے ان کے روایت کردہ الفا ظ : " سلام عام کرنے " کے بجا ئے کہا : " اور سلام کا جواب دینے " اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرما یا ۔
5394سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابو فروہ سے ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ انھوں نے عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت خذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی ما نگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہو ں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلا ئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے ۔ " سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو کیونکہ یہ چیز یں دنیا میں ان ( کا فروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھا رے لیےہیں ۔
5395ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے ابو فروہ جہنی سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں " قیامت کے دن " ( کے الفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
5396ابن ابی نجيح نے پہلے ہمیں مجا ہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی ۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر ہمیں ابو فروہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ، انھوں نے کہا : ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( انکے دستے میں ) تھے ۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے ۔
5397عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پا نی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت کے مانند بیان کیا ۔
5398وکیع محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور بہز ، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انھی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا ، ان میں سے کسی نے حدیث میں " میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا " کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سب نے یہی کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا ۔
5399منصور اور ابن عون دونوں نے مجا ہد سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
5400سیف نے کہا کہ میں نے مجا ہد کو کہتے و ئے سنا ، عبد اللہ الرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لا یا تو انھوں ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہو ئے سناہے ۔ " ریشم پہنو دیباج پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان ( قیمتی دھاتوں ) کی رکابیوں ( پلیٹوں ) میں کھا ؤکیونکہ یہ برتن دنیا میں ان ( کفار ) کے لیے ہیں ۔
5401مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب ( بازار میں ) ایک ریشمی حُلَہ ( ایک جیسی رشیمی چادروں کا جوڑا بکتے ہو ئے ) دیکھا ۔ انھوں نے کہا : کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خریدلیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے ( خطبہ دینے کے لیے ) اور جب کو ئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرما ئیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو ( دنیا میں ) صرف وہ لو گ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما یا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد ( بن حاجب بن ز رارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے ) کے حلے کے بارے میں جو فرما یا تھا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا ۔ " پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھا ئی کو دے دیا جو مشرک تھا ۔
5402عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نا فع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
5403جریر بن حازم نے کہا : ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت بیان کی کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ عُطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ ( بیچنے کے لیے ) اس کی قیمت بتا رہا ہے ۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام واکرا م وصول کرتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے ، آپ اسے خرید لیتے تو آپ عرب کے وفود آتے ( اس وقت ) آپ اس کو زیب تن فرما تے اور میراخیال ہے ( یہ بھی ) کہا : اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرما تے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ہو تا ۔ اس واقعے کے بعد ( کا ایک دن آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی بھیجا ، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرما یا : " اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لا ئے اور عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نےکل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا ۔ جو آپ نے فرما یا تھا؟ آپ نے فرمایا : " میں نے تمھا رے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو ، بلکہ میں نے تمھا رے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم کچھ ( فائدہ ) حاصل کرو ۔ " تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انھیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا امھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " میں نے تمھا رے پاس اسلیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو ۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمھا رے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
5404یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ استبرق ( موٹے ریشم ) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہو تا ہوا دیکھا انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " کہا : پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا ( لفظی ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی حالت میں رہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرما یا تھا : " یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ یاآپ نے ( اس طرح ) فرما یا تھا : " اس کووہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( اس لیے کہ ) تم اس کو فروخت کر دواوراس ( کی قیمت ) سے اپنی ضرورت پو ری کرلو ۔
5405عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
5406یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن حفص نے سالم سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی ( کےکندھوں ) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا : " اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ " پھر ( بعد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ، کہا : میں نے عرض کی : آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے ۔ جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں ، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سوفرمایا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اسے تمھارے پا س صرف اس لئے بھیجاہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
5407روح نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو بکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے آل عطارد کے ایک آدمی ( کے کندھوں ) پر ( بیچنے کےلیے ایک حلہ ) دیکھا ، جس طرح یحییٰ بن سعید کی ایک حدیث ہے ۔ ، مگر انھوں نے یہ الفاظ کہے : " میں نے اسے تمھارے پاس صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لئے تمھارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم ( خود ) اسے پہنو ۔
5408یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی ، کہا : سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا ، کہا : میں نے کہا : وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص ( کے کندھے ) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا ، وہ اس ( حلے ) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر انھوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ اس میں یہ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نےیہ جبہ اس لئے تمھارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے ( اسے بیچ کر ) کچھ مال حاصل کرلو ۔
5409حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ ( کیسان ) سے روایت ہے ، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو ، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں ، دوسرے ارجوان ( یعنی سرخ ڈھڈھاتا ) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے ) ۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر ( ریشم ) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر ( ریشم ) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش ، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے ۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے ، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ ( جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا ) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا ۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لئے پلاتے ہیں ۔
5410شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب کو ( یہ حدیث بیا ن کرتے ہوئے ) سنا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ر یشم نہ پہنو ، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
5411احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہماری طرف ( خط میں ) لکھ بھیجا : عتبہ بن فرقد!تمھارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمھاری کمائی سے ہے ، نہ تمھارے ماں باپ کی کمائی سے ، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھرکے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش وعشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناؤوں سے دور رہنا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے ، مگر اتنا ( جائز ہے ) ، ( یہ فرما کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں ، درمیانی انگلی اورانگشت شہادت ملائیں اورانھیں ہمارے سامنے بلند فرمایا ۔ زہیر نے کہا : عاصم نے کہا : یہ اس خط میں ہے ، ( ابن یونس نے ) کہا : اور زہیر نے ( بھی ) اپنی دو انگیاں اٹھائیں ۔
5412جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی ،
5413جریر نے سلیمان تیمی سے ، انھوں نے ابو عثمان سے روایت کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ریشم ( کالباس ) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو ، سوائے اتنے ( ریشم ) کے ( اتنی مقدار جائز ہے ) " ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان ( نشانات والی عبا ) کے بٹنوں والی جگہ ( کے برابر ) ہو ، یہاں تک کہ میں نے ( اصل ) طیلسان دیکھے ، ( وہ اتنی مقدار ہی تھی ۔)
5414معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ، جریر کی حدیث کے مانند ۔
5415شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا ، کہا : ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکتوب آیا ، اس وقت ہم آزر بائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے ، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے ۔ ابوعثمان نے کہا : ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کریں ان کی مراد نقش ونگار سے ہے ( جو کناروں پر ہوتے ہیں)
5416ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابو عثمان کا قول ذکر نہیں کیا ۔
5417معاذ کے والد ہشام نےقتادہ سے ، انھوں نے عامر شعبی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں ( کی پٹی ) کے ۔
5418سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5419ابو زبیر نے کہا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دی ۔ آپ سے کہا گیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کردیا ۔ "" پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک چیز نا پسند کی اور وہ مجھے دے دی!اب میرے لئے کیا ( راستہ ) ہے؟آپ نے فرمایا؛ "" میں نے یہ تمھیں پہننے کےلیے نہیں دی ، میں نے تمھیں اس لئے دی کہ اس کو بیچ لو ۔ "" تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کردیا ۔
5420عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو صالح سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنارہے تھے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا ، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا ، میں نے اسکو پہن لیا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو ، میں نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
5421عبیداللہ کے والد معاذ اور محمد بن جعفر ، دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ معاذ کی بیان کردہ حدیث میں ہے؛ " آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے کاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا " اور محمد بن جعفر کی حدیث میں ہے : " میں نے اس کوکاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا ۔ " اور انھوں نے " آپ نے مجھے حکم دیا " ( کےالفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
5422ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ زہیر کے ہیں ۔ کہا : ہیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عون ثقفی سے ، انھوں نے ابو صالح حنفی سے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے ( حکمران ) اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ بھیجا ، آپ نے وہ کپڑاحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرمایا : "" اس کو کاٹ کر ( تینوں ) فاطماؤں ( فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ بنت اسد ، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ، اور فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنھن میں اوڑھنیاں بانٹ دو ۔ "" ابو بکر اور ابو کریب نے ( "" فاطماؤں کے مابین "" کے بجائے ) "" عورتوں کے مابین "" کہا ۔
5423زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا ، میں اسے پہنکر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرغصہ دیکھا ، کہا : پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کردیا ۔
5424حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سُندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ بھیجا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے ۔ حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ( پہلے ) جو فرمایاتھا وہ فرماچکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو ، میں نے تمھارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ ۔
5425حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دینا میں ر یشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
5426حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ا س کو نہیں پہنے گا ۔
5427لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی ، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی ، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا ، جیسے آپ اسے ناپسند کررہے ہوں ، پھر فرمایا : " یہ ( عبا ) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
5428عبدالحمید نے جعفر نے کہا : مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
5429ابو اسامہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سفر میں خارش کی بنا پر یا کسی اور تکلیف کی بنا پر جو انھیں لا حق ہو گئی تھی ۔ ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ ( حالات میں یہی مداوامیسر تھا ۔)
5430محمد بن بشر نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سفر میں " کا ذکر کیا ۔
5431وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیربن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انھیں لا حق ہو نے والی خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی ۔
5432محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی مانند حدیث بیان کی ۔
5433ہمام نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث سنا ئی کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں ( کی خارش ) کی شکا یت کی تو آپ نے ان دونوں کو انھیں پیش آنے والی جنگ کے دورا ن میں ریشم پہننے کی اجادت دے دی ۔
5434معاذ بن ہشام نے ہمیں بیان کیا ، کہا : مجھے میرے والد نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے محمد بن ابراہیم بن حارث نے حدیث سنا ئی کہ ابن معدان نے انھیں بتا یا کہ انھیں جبیر بن نفیر نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے دیکھا تو آپ نے فرما یا : " یہ کا فروں کے کپڑے ہیں تم انھیں مت پہنو ۔
5435یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ہشام نے خبر دی وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا ، ہشام اور علی بن مبارک دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، دونوں نے ( ابن معدان کے بجائے ) خالد بن معدان کہا ۔
5436طاوس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے دیکھا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھا ری ماں نے تمھیں یہ کپڑےپہننے کا حکم دیا ہے؟ " میں نے عرض کی : میں ان کو دھو ڈالوں ؟آپ نے فرما یا : " بلکہ ان کو جلا دو ۔
5437نافع نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قس ( علاقے ) کے بنے ہو ئے ( ریشمی کپڑے ) اور گیروے رنگ کے کپڑے پہننےسے ، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پرھنے سے منع فرما یا ۔
5438یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث بیان کی ان کے والد نے انھیں حدیث سنا ئی کہ انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب میں رکو ع کر رہا ہوں ۔ قرآن مجید پڑھنے سے اور ( عمومی حالت میں ) سونا اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرما یا ۔
5439معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننےسے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکو ع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لبا س پہننے سے منع فرما یا ۔
5440ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قسم کا لباس زیادہ محبوب تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوزیادہ اچھا لگتا تھا ؟ انھوں نے کہا : دھاری دار ( یمنی ) چادر ۔
5441ہشام نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں سب سے زیادہ پسند دھاری دار ( یمنی چادر تھی ۔)
5442سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں حمید نے ابو بردہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے ایک مو ٹا تہبند جو یمن میں بنایا جا تا ہے اور ایک اوپر کی چادر ( موٹی سخت اور پیوند لگےہو نے کی وجہ سے ) جسے مُلْبَدَہکہا : جا تا ہے نکال کر دکھا ئی ، کہا : انھوں نے اللہ کی قسم کھا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی دوکپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا ۔
5443علی بن حجر سعدی محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابرا ہیم نے ( اسماعیل ) ابن علیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں ایک تہبنداور ایک پیوند لگی ہو ئی مو ٹی چا در نکا ل کر دکھا اور فرما یا : " انھی دوکپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو ئی تھی ۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا : مو ٹا تہبند ۔
5444معمرنے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " موٹا تہبند ۔
5445صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر نکلے کے آپ کے جسم پر ایک موٹی مربع لکیروں والی کالے بالوں سے بنی ہو ئی چادر تھی ۔ ( عام سی کھردری اور کم قیمت چادر ۔)
5446عبد ہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگا تے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھا ل بھری ہو ئی تھی ۔
5447علی بن مسہر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ( گدا ) جس پر آپ سوتے تھے ، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہو ئی تھی ۔
5448ابن نمیر اور ابو معاویہ دونوں نے ہمیں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استراحت کا بچھونا ۔ " اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ۔ جس پر آپ سوتے تھے ۔
5449قتیبہ بن سعید ، عمروناقد اور اسحٰق بن ابرا ہیم نے کہا : ہمیں سفیان نے ابن منکدرسے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کہا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہو ں گے ۔
5450وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے محمد بن منکدرسےانھوں نے حضرت جابر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کیا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہوجا ئیں گے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری بیوی کے پاس ایک غلا ف تھا میں اس سے کہتا تھا : اسے مجھ سے دور رکھو ، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تھا : " عنقریب غلا ف ہوا کریں گے ۔
5451عبد الرحمن نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اور یہ اضا فہ کیا : تو میں اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیتا ۔
5452حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرما یا : " ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسرا بستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے ۔
5453امام مالک نے نافع عبد اللہ بن دینا اور زید بن اسلم سے روایت کی ، ان سب نے انھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کرچلے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا ۔
5454عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضا فہ کیا : " قیامت کے دن ( نظر نہیں کرے گا ۔)
5455عمربن محمد نے اپنے والد سالم بن عبد اللہ اور نافع سے روایت کی ، انھوں نے نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرما ئے گا ۔
5456محارب بن دثاراور جبلہ بن سحیم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
5457عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
5458اسحق بن سلیمان نے کہا : ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہےتھےاسی کے مانند مگر انھوں نے ( کپڑا گھسیٹا کے بجا ئے ) " کپڑے ( گھسیٹے ) " کہا ۔
5459شعبہ نے کہا : میں نے مسلم بن یناق سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انھوں نے اس سے پو چھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے نسب بتا یا وہ شخص بنو لیث سے تھا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے اپنی ازار ( کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
5460عبد الملک بن ابی سلیمان ابو یو نس اور ابرا ہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابو یونس کی حدیث میں ہے : ابو الحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے ، " جس نے اپنی ازارگھسیٹی " انھوں نے " اپنا کپڑا " نہیں کہا ۔
5461ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کریں کہا : اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا ( انھوں نے سوال کیا : ) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کو ئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازارگھیسٹتا ہے؟ انھوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا تھا : " قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فر ما ئے گا
5462عبد اللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی توآپ نے فرما یا " عبد اللہ ! اپنی چادر اوپر کرلو ۔ " میں نے اپنی چادر اوپر کرلی ۔ آپ نے فر ما یا : " اور زیادہ کر لو " میں نے ااورزیادہ اوپر کی ، پھر میں اس کواوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لو گوں نے عرض کی کہاں تک ( اوپر کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا : " پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک ۔
5463عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔
5464محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابن جعفر کی روایت میں ہے : مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا ( قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔
5465ربیع بن مسلم نے محمد بن زیا د سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر ما یا : " ایک شخص اپنے بالوں اور اپنی چادروں پر اتراتا ہو ا چل رہا تھا کہاچا نک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
5466شعبہ نے ہمیں محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ما نند حدیث بیان کی ۔
5467عرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک شخص اکڑتا ہوا اپنی دو چادروں میں چلا جا رہا تھا اپنے آپ پر اترارہا تھا اللہ تعا لیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
5468معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی کہا : یہ اھادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں سنا ئیں ، پھر انھوں نے کچھ اھادیث سنائیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص دوچادروں میں اتراتا ہوا جا رہا تھا " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
5469ابو رفع نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ " تم سے پہلے کی ایک امت میں ایک شخص چادروں کے ایک جوڑے میں اتراتا ہوا جا رہاتھا " پھر ان سب کی حدیث کے مانند ذکر کیا ۔
5470عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے ، انھوں نے بشیر نہیک سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی ( پہننے ، استعمال کرنے ) سے منع فرما یا ۔
5471محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے نضر بن انس سے سنا ۔
5472حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد غلام کریب نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہا تھا ( کی انگلی ) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرما یا " تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھا تا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جا نے کے بعد اس شخص سے کہا گیا : اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کو ئی فائدہ اٹھا لو ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم !میں اسے کبھی نہیں اٹھا ؤں گا ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے ۔
5473یحییٰ بن یحییٰ تمیمی محمد بن رمح اور قتیبہ نے کہا : ہمیں لیث نے نافع سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی آپ اسے پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیا کرتے تھے تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو ئے ۔ اس انگوٹھی کو اتار دیا اور فرما یا : " میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو نگینے کو اندر کی طرف کر لیتا تھا : " پھر آپ نے اسے پھینک دیااور فر ما یا : " اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا ۔ " پھر لو گوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیا ں پھینک دیں ۔ حدیث کے الفا ظ یحییٰ کے بیا ن کردہ ) ہیں ۔
5474محمد بن بشر یحییٰ بن سعید خالد بن حارث اور عقبہ بن خا لد سب نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں حدیث روایت کی ، عقبہ بن خالد کی روایت میں ( عبید اللہ نے ) یہ اضافہ کیا : اور آپ نے اسے دا ئیں ہاتھ میں پہنا ۔
5475ایو ب مو سیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ،
5476عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چا ندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پہلے وہ آپ کے ہا تھ میں تھی پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھا میں رہی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھ میں رہی پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ ان ( حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سےاریس کے کنویں میں گر گئی ، اس ( انگوٹھی ) پر "" محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "" نقش تھا ۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے : یہاں تک کہ وہ ایک کنویں میں گر گئی ، انھوں نے یہ نہیں کہا : ان سے ( گر گئی ۔)
5477نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پھر آپ نے اس کو پھینک دیا ، اس کے بعد آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں یہ نقش کرایا : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " اور فرمایا : " کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے ۔ " جب آپ اس انگوٹھی کو پہنتے توانگوٹھی کے نگینے ( موٹے چوڑے حصے ) کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کرلیاکرتے تھے اور یہی وہ انگوٹھی تھی جو معیقیب ( کے ہاتھ ) سے چاہ اریس میں گر گئی تھی ۔
5478حماد نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا؛ " میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اوراس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ہے ، سوکوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے ۔
5479اسماعیل ( ابن علیہ ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں " محمد رسول اللہ " ( نقش کرانے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
5480شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ ) کی طرف خط لکھنے کاارادہ کیا تو صحابہ نےعرض کی : وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، ایسالگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ، اس پر " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " نقش ہے ۔
5481معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عجم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس ( انگوٹھی ) کی سفیدی کو دیکھ رہاہوں ۔
5482خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی ، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ۔
5483ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت کی ایک انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی ، پھر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں اور پہن لیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
5484روح نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ان جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے زیاد نے بتایا کہ ابن شہاب نے انھیں خبر دی ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی ، پھر سب لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں ڈھلوائیں اور پہن لیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
5485ابو عاصم نے ابو جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
5486عبداللہ بن وہب مصری نے کہا : مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کانگینہ حبش کاتھا ۔
5487طلحٰہ بن یحییٰ انصاری نے یونس سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی ، اس میں حبش کا نگینہ تھا ، آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے ۔
5488سلیمان بن بلال نے یونس بن یزید سے اسی سندکے ساتھ طلحہ بن یحییٰ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
5489ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی ، یہ کہہ کر انھوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
5490ابن ادریس نے کہا : میں نے عاصم بن کلیب سے سنا ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں ( پہننے سے منع کیا تھا ) ۔ ۔ ۔ اور آپ نےمجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ انھوں نے ( حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا قَسَی ( ریشمی ) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا ، اس میں کچھ شبیہیں ( تصویروں جیسے نقش ونگار ) ہوتی ہیں ۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں ، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں ۔
5491سفیان نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو موسیٰ ( اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ایک بیٹے سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
5492شعبہ نے عاصم بن کلیب سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : منع فرمایا ، یا مجھے منع فرمایا ، ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( اس کے بعد ) اسی طرح بیان کیا ۔
5493ابو احوص نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاتھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں ، پھر انھوں نے درمیانی اور ( انگوٹھے کی طرف سے ) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
5494ابو زبیرنے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ایک غزوے کے دوران میں ، جو ہم نے لڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کثرت سے ( اکثر اوقات ) جوتے پہنا کرو ، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے ۔ ( اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے)
5495محمد بن زیاد نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں ( پاؤں ) سے ابتدا کرے اور جب جوتا اتارے تو بائیں ( پاؤں ) سے ابتداکرے اور دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے ۔
5496اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایک جوتے میں نہ چلے ، دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے ۔
5497ابن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابو رزین سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس آئے ، انھوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر فرمایا : سنو! کیا تم اس طرح کی باتیں کرتے ہوکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باتیں منسوب کرتا ہوں ۔ تاکہ تم ہدایت پاجاؤ اور میں خود گمراہ ہوجاؤں ، سن لو!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس کو ٹھیک کرنے سے پہلے دوسرے ( جوتے ) میں نہ چلے ۔
5498علی بن مسہر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو رزین اور ابو صالح سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
5499مالک بن انس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ، یا ایک جوتا پہن کرچلے اور ایسا کپڑا پہنے جس میں باہر نکالنے والے اعضاء ( سر ، ہاتھ ، پاؤں ) کےلیے سوراخ نہ ہوں اور ایک ہی کپڑا اس طرح کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو ۔
5500ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یاانھوں نے کہا : ) ۔ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ۔ ۔ ۔ " جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ یا ( فرمایا ) جس شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ تو وہ ایک ( ہی ) جوتے میں نہ چلے ۔ یہاں تک کہ اپنا تسمہ ٹھیک کرلے ، ایک موزے میں بھی نہ چلے ، اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ، نہ ( اکڑوں بیٹھ کر ) اکلوتے کپڑے کوکمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے ، نہ ہاتھ پاؤں بند کردینے والا لباس پہنے ۔
5501لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بندکردینے والا لباس پہننے ، ایک کپڑے سےکمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر ( رکھتے ہوئے اس کو ) اٹھانے سے منع فرمایا ۔
5502ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک جوتا پہن کر نہ چلو اور ایک چادر ( ہوتواس ) کو گھٹنے کھڑے کرکے ان کے اور کمر کے گرد نہ باندھو ، بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ ، ہاتھ پاؤں بند کردینے والا کپڑا نہ پہنو اور جب چت لیٹے ہوتو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ ( کھڑی کر کے اس ) پر نہ رکھو ۔
5503عبیداللہ بن اخنس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص چٹ لیٹ کر اپنی ٹانگ کودوسری ٹانگ ( کھڑی کرکے اس ) پر نہ رکھے ۔
5504مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس حالت میں چت لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ نے ( دونوں ٹانگوں زمین پر بچھائے ہوئے ) ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا ۔
5505ابن عینیہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5506یحییٰ بن یحییٰ ، ابو ربیع اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ ( سے رنگے کپڑے پہننے ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ نے کہا کہ حماد نے کہا : یعنی مردوں کو ( منع فرمایا)
5507اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔
5508ابوخیثمہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایاگیا ، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کےبال ثغام یا ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کوحکم دیا ، یا ان کے بارے میں ( ان کےگھر کی عورتوں کو ) حکم دیا گیا ، فرمایا : " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز ( اور رنگ ) سے بدل د یں ۔
5509ابن جریج نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا ، ان کے سر اورداڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔
5510حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود اوراور نصاریٰ ( بالوں کو ) رنگ نہیں لگا تے تم ان کی مخالفت کرو ( بالوں کو رنگ لگا ؤ ۔)
5511عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے ، چنانچہ وہ گھڑی آگئی لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ۔ ( اس وقت ) آپ کے دست مبارک میں ایک عصاتھا ۔ آپ نے اسے اپنے ہا تھا سے ( نیچے پھینکا اور فرمایا : " نہ اللہ تعا لیٰ اپنے وعدے کی خلا ف ورزی کرتا ہے نہ رسول ( خلا ف ورزی کرتے ہیں ۔ ) " جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیا ء علیہ السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے ) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چار پا ئی کے نیچے کتے " کا ایک پلا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! یہ کتا یہاں کب گھسا ؟ " انھوں نے کہا : واللہ !مجھے بالکل پتہ نہیں چلا ۔ آپ نے حکم دیا تو اس ( پلے ) کو نکال دیا گیا ، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا : " آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ۔ " انھوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا ، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں دا خخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں جہاں تصویر ہو ۔)
5512ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے حدیث سنا ئی کہ جبرا ئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابو حازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتا ئی ۔
5513عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتا یا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر مندی کی حالت میں صبح کی ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آج دن ( کے آغاز ) سے آپ کی حالت معمول کے خلا ف دیکھ رہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے ۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلا فی نہیں کی ، " کہا : تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا ۔ جو ہمارے ( ایک بستر کے نیچے بن جا نے والے ) ایک خیمہ ( نما حصے ) میں تھا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکا ل دیا گیا ، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا ۔ جب شام ہو ئی تو جبرائیل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟انھوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں ادا خل نہیں ہو تے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ پھر جب صبح ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آوارہ یا بے کا ر ) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا ، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی ( جورکھوالی نہیں کر سکتا ) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے ۔ ( ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پو ری کرتے ہیں)
5514سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
5515یو نس نے مجھے ابن شہا ب سے ، خبر دی انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سئے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
5516معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صرا حت کرتے ہو ئے روایت کی ۔
5517لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنا ئی انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے زید بن خالد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کو ئی تصویر ہو ۔ "" بسر نے کہا : پھر اس اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ( دیکھا ) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر ( بنی ہو ئی ) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لے پا لک عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا حضرت زید نے پہلےدن ( جب ملا قات ہو ئی تھی ۔ ) ہمیں تصویر ( کی ممانعت ) کے بارے میں خبر ( حدیث ) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا : جب انھوں نے "" کپڑے پربنے ہو ئے نقش کے سوا "" کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
5518مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انھیں بکیر بن اشج نے حدیث سنا ئی ، انھیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انھیں حدیث سنائی اور ( اس وقت ) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولا نی تھے ۔ ( کہا ) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں تصویر ہو ۔ بسر نے کہا : پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ، ہم ان کی عیا دت کے لیے گئے تو ہم نے ان گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا ( حضرت زید بن خالد نے ) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی ؟ ( عبید اللہ نے ) کہا : انھوں نے ( ساتھ ہی یہ ) کہا تھا : " سوائے کپڑے کے نقش کے " کیا آپ نے نہیں سنا تھا " میں نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! انھوں نے اس کا ذکر کیا تھا ۔
5520بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔
5523ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے ، میں نےروئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے ( اتار نے کا ) حکم دیا تو میں نے اس کو اتاردیا ۔
5524عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں ( ہشام بن عروہ سے ) حدیث بیان کی ، عبدہ کی حدیث میں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔
5525ابراہیم بن سعد نے زہری سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا ، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا ، پھر فرمایا؛ " قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ ( بھی ) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ( جاندار ) اشیاء کے جیسی ( مشابہ ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
5526یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ( آگے اسی طرح ) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے ، البتہ انھوں نے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( پردے ) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا ۔
5527سفیان بن عینیہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں ہے : " لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے ( وہ لوگ ہوں گے ) " انھوں نے " میں سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
5528ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا ساکپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالاآپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا؛ "" عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے اس پردے کو کاٹ دیااور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے ( ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے ۔)
5529محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ا یک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کو مجھ سے ہٹا دو ۔ " تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اسکے تکیے بنالیے ۔
5530سعید بن عامر اور ابو عامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
5531وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہواتھا ، اس میں تصویریں تھیں ، آپ نے اس کو ہٹوادیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے ۔
5532بکیر نے کہا : عبدالرحمان بن قاسم نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ایک پردہ لٹکا رکھاتھا جس میں تصاویر تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنالیے ، ( جب یہ حدیث بیان کی جارہی تھی ) تواس مجلس میں ایک شخص نے ، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے ، بنو زہری کے مولیٰ تھے ، کہا : کیا آپ نے ابو محمد ( قاسم بن محمد ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں ( تکیوں ) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟تو ( عبدالرحمان ) ابن قاسم نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : لیکن میں نے یقیناً ( ان سے ) یہ بات سنی تھی ۔ ان کی مراد ( ان کےوالد ) قاسم بن محمد سے تھی ۔
5533اما مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک ( چھوٹا سا بیٹھنے کے لئے ) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( گدے ) کو دیکھا تو آ پ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے چہر ے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، ( یا کہا : ) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کی آثار محسوس ہوئے ، تو انھوں ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ( سچے دل سے ) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں ۔ میں نے کیاگناہ کیا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے؟ " انھوں نے کہا : میں نے یہ آپ کے لئے خرید اہے ۔ تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان تصویروں ( کےبنانے ) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائےگا اوران سے کہا جائے گا : تم نے جو ( صورتیں ) تخلیق کی ہیں ، ان کو زندہ کرو ۔ " پھر فرمایا؛ " جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔
5534قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ثقفی نے خبر دی ، کہا : ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی ، عبدالوارث بن عبدالصمد نےکہا : ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی ، ہارون بن سعید ایلی نے کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ، ابو بکر اسحاق نے کہا : ہمیں ابو سلمہ خزاعی نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی ، ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر ) نے نافع سے ، انھوں نے قاسم سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور ( ابو سلمہ خزاعی نے ) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے فرمایا : میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ۔
5535عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو لو گ تصویریں بنا تے ہیں انھیں قیامت کے دن عذاب دیا جا ئے گا ، ان سے کہا جا ئے گا جن کو تم نے تخلیق کیا ( اب ان کو زندہ کرو ۔)
5536ایو ب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اسی حدیث کے مانند روایت کی ، جس طرح عبید اللہ نے نافع سے ، انھوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
5537عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں ( گرفتار تصویر بنانے والے ہو ں گے ۔ " اشج نے یقیناً " ( کا لفظ ) بیان نہیں کیا ۔
5538یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب سب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ( ابو معاویہ اور سفیان ) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابو معاویہ سے یحییٰ اور ابو کریب روایت میں ہے ، " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والوں میں سے تصویر بنا نے والے ہیں ۔ " اور سفیان کی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح ہے ۔
5546بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( رحمت کے ) فرشتے ( سفرکے ) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہواور نہ ( ان کے ساتھ جن کے پاس ) گھنٹی ہو ۔
5547جریر اور عبد العزیز دراوردی دونوں نے سہل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
5548حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھنٹی شیطان کی بانسری ہے ۔
5549امام مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ عبد اللہ ابو بکر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : لو گ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے ۔ ( اور حکم دیا ) : "" کسیاونٹ کی گردن میں تانت ( کمان کے دونوں سرے جوڑے نے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری ) کا ہا ر ۔ یا کو ئی بھی ہار ۔ نہ چھوڑ اجا ئے مگر اسے کاٹ دیا جا ئے ۔ "" امام مالک نے فرما یا : "" میراخیال ہے کہ یہ ( ہار ) نظر بد سے بچانے کے لیے ( گلے میں ڈالے جا تے ) تھے ۔
5550علی بن مسہر نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرما یا کہ ( جانور کو ) منہ پر مارا جا ئے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے ۔
5551حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا : سابقہ حدیث کے مانند ۔
5552معقل نے ابو ہریرہ سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے اسے ( منہ پر ) داغاہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔
5553حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔
5554محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے مجھ سے کہا : انس !اس بچے کا دھیان رکھو ، اس کے منہ میں کو ئی چیز نہ جا ئے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا ؤ آپ اسے گھٹی دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں صبح کے وقت آیا ، اس وقت آپ باغ میں تھے ، آپ کے جسم پر ایک کا لے رنگ کی بنوجون کی بنا ئی ہو ئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں ( کے جسم ) پرنشان ثبت فر ما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں ( فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے مو قع پر ) آپ کو حاصل ہو ئے تھے ۔
5555محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، کہ جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان ( بکریوں ) کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔ ( اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے ۔)
5558اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگا نے والا آلہ دیکھا ، آپ صدقے میں آئے ہو ئے اونٹوں پر نشان ثبت فر ما رہے تھے ۔
5559یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبردی ۔ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا ، میں نے نافع سے پو چھا : قزع کیا ہے ؟انھوں نے کہا : بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈدیے جا ئیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جا ئے ۔
5560ابو اسامہ اور عبد اللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انھوں نے ابو اسامہ کی حدیث میں ( قزع کی ) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قراردیا ہے ۔ ( ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی ۔)
5561عثمان بن عثمان غطفانی اور روح ( بن قاسم ) نے عمر بن نافع سے عبید اللہ کی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی اور دونوں نے تفسیر ( قزع کی وضاحت ) کو حدیث کا لا حقہ بنا یا ۔ ( الگ سے بیان نہیں کیا ۔)
5562ایوب اور عبد الرحمٰن سراج نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔
5563حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔
5564عبد العزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5565ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میری بیٹی دلہن ہے ۔ اسے خسرہ ( بعض روایات میں چیچک ) نکالاتھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں ( اس کے بالوں کے ساتھ ) دوسرے بال جوڑ دوں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی ( دونوں ) پر لعنت کی ہے ۔
5566عبداللہ بن نمیر ، عبدہ ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں " " ( اس کے بال چھدرے ہوگئے ہیں ) کے الفاظ کہے ۔
5567منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے ، اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمادیا ۔
5568عمرو بن مر ہ نے کہا : میں نے حسن بن مسلم سے سنا ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوا ل کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی ( دونوں ) پر لعنت فرمائی ۔
5573جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر ( تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں ) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت ( پیدائش ) بدلنے والیوں پر ۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی ، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں ، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا ، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو ‘ ( الحشر : 7 ) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا ۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے ۔
5574سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے ، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں : " گودنے والیاں اور گدوانے والیاں " ہے ، جبکہ مفضل کی روایت میں " گودنے والیاں اور جن ( کے جسم ) پر گودا جاتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔ ( مقصود ایک ہی ہے ۔)
5575شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ام یعقوب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پورے واقعے کے بغیر ہی بیان کی ہے ۔
5576اعمش نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھون نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے ۔
5577۔ ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر ( کے بالوں ) کے ساتھ کسی بھی چیز کو جوڑنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ۔
5578امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی ، انھوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، جس سال انھوں نے حج کیا ، سنا ، وہ منبر پر تھے ، انھوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی ( جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں ) اور کہہ رہے تھے : مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ ان ( لٹوں وغیرہ ) سے منع فرماتے تھے اورفرمارہے تھے : " جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنا نا شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے ۔ " ( جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش وتنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا ۔)
5579سفیان بن عینیہ ، یونس اور معمر ، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں : " بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کردیا گیا " کے الفاظ ہیں ۔
5580عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینے آئے ، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کاایک گچھہ نکال کرفرمایا : میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ ( فریب کاری ) کا نام دیا تھا ۔
5581قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے ، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی ( لیر ) تھی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : سنو! یہ جھوٹ ہے ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ دھجیاں ( لیریں ) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں ۔
5582سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا ۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں ، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں ( یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں ) ، سیدھی راہ سے بہکانے والی ، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی ( اونٹ کی ایک قسم ہے ) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی ۔
5583حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( اگر ) میں یہ کہوں : مجھے ( یہ سب ) میرےخاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( کھانا ) نہیں ملا ، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا ، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
5584عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے فاطمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا : میری ایک سوکن ہے ، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں خود کو ا پنے خاوند کے ایسے مال سے سیر ہوجانے والی ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو نہیں دیا گیا اس ( مال یاکھانے ) سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
5585ابو اسامہ اورابو معاویہ ، دونوں نے ہشام سے ، اس سند کے ساتھ روایت کی ۔
ذریعہ: Sahih Muslim
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath