حدیث
واپس

صحیح مسلم 33 · The Book on Government

4701عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے مغیرہ حزامی سے اور زہیر بن حرب اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے ( مغیرہ اور سفیان ) دونوں نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور زہیر کی حدیث میں ہے ، انہوں ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( آپ سے بیان کی ) اور عمرو نے کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " لوگ اس اہم معاملے ( حکومت ) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں اور کافر ، قریشی کافروں کے پیچھے چلنے والے ہیں

4702ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگ اس معاملے ( خلافت یا حکومت ) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں اور کافر ، قریشی کافروں کے پیچھے چلنے والے ہیں

4703حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اچھائی اور برائی ( دونوں ) میں لوگ قریش کی پیروی کرتے ہیں

4704حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک ( ان ) لوگوں میں دو انسان بھی باقی رہیں گے ، امرِ حکومت قریش میں ہو گا

4705حصین ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے والد ( حضرت سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اس امر کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اس میں بارہ جانشیں نہ گزریں ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا ہے : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے

4706عبدالملک بن عمیر نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں کی امارت جاری رہے گی یہاں تک کہ بارہ اشخاص ان کے والی بنیں گے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے

4707ابو عوانہ نے سماک سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے یہ بیان نہیں کیا : " لوگوں کی امارت کا سلسلہ چلتا رہے گا

4708حماد بن سلمہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بارہ خلیفوں ( کے عہد ) تک اسلام غالب رہے گا ۔ " پھر آپ نے ایک کلمہ فرمایا جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے

4709داود نے شعبی سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بارہ خلفاء ( کے عہد ) تک اسلام کا غلبہ جاری رہے گا ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے

4710(عبداللہ ) بن عون نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ، میرے ساتھ میرے والد تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بارہ خلفاء ( کے عہد ) تک مسلسل یہ دین غالب اور ( دشمنوں سے ) محفوظ رہے گا ۔ " پھر آپ نے کوئی کلمہ فرمایا جسے لوگوں نے مجھے سننے نہ دیا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے

4711حاتم بن اسماعیل نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ اس جمعہ کے دن جس کی شام کو حضرت ( ماعز ) اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " قیامت تک یہ دین قائم رہے گا ، یا جب تک مسلمانوں پر بارہ خلفاء حکومت کریں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کا سفید محل فتح کرے گی ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے قریب کچھ کذاب ظاہر ہوں گے ، ان سے بچنا ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی اچھی چیز دے تو وہ اپنے اور اپنے گھر والوں سے آغاز کرے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا : " میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا

4712ابن ابی ذئب نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ انہوں نے ابن سمرہ عدوی رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ، وہ ہمیں بیان کیجیے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ پھر حاتم کی حدیث کی طرح بیان کیا

4713ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب میرے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا : "" اللہ آپ کو اچھی جزا دے! "" انہوں ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ( بیک وقت ) رغبت رکھنے والا اور ڈرنے والا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : آپ کسی کو اپنا ( جانشیں ) بنا دیجیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں زندگی میں بھی تمہارے معاملات کا بوجھ اٹھاؤں اور مرنے کے بعد بھی؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ ( قیامت کے روز ) اس خلافت سے میرے حصے میں یہ آ جاے کہ ( حساب کتاب ) برابر سرابر ہو جائے ۔ نہ میرے خلاف ہو ، نہ میرے حق میں ( چاہے انعام نہ ملے ، مگر سزا سے بچ جاؤں ) اگر میں جانشیں مقرر کروں تو انہوں نے مقرر کیا جو مجھ سے بہتر تھے ، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اگر میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں تو انہوں نے تمہیں ( جانشیں مقرر کیے بغیر ) چھوڑ دیا جو مجھ سے ( بہت زیادہ ) بہتر تھے ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ جانشیں مقرر نہیں کریں گے

4714سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، کہا : میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، انہوں نے کہا : کیا تم کو علم ہے کہ تمہارے والد کسی کو ( اپنا ) جانشیں مقرر نہیں کر رہے؟ میں نے کہا : وہ ایسا نہیں کریں گے ۔ وہ کہنے لگیں : وہ یہی کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے قسم کھائی کہ میں اس معاملے میں ان سے بات کروں گا ، پھر میں خاموش ہو گیا حتی کہ صبح ہو گئی اور میں نے ان سے اس معاملے میں بات نہیں کی تھی ، اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پہاڑ اٹھایا ہوا ہے ( مجھ پر اپنی قسم کا بہت زیادہ بوجھ تھا ) آخر کار میں واپس آیا اور ان کے پاس گیا ، انہوں نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا ، میں آپ کو حالات سے باخبر کرنے لگا ، پھر میں نے ان سے کہا : میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی اور وہ سن کر میں نے قسم کھائی کہ وہ میں آپ سے ضرور بیان کروں گا ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کسی کو اپنا جانشیں نہیں بنائیں گے اور بات یہ ہے کہ اگر آپ کا کوئی اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا ہو اور وہ آپ کے پاس چلا آئے اور ان کو ایسے ہی چھوڑ دے تو آپ یہی کہیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کر دیا ہے ۔ سو لوگوں کی نگہبانی تو اس سے زیادہ ضروری ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو میری رائے ٹھیک معلوم ہوئی ، انہوں نے گھڑی بھر سر جھکائے رکھا ، پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا : بلاشبہ اللہ عزوجل اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور اگر میں کسی کو جانشیں نہ بناؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو جانشیں مقرر نہیں کیا تھا اور اگر میں کسی کو جانشیں بناؤں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جانشیں بنایا تھا ۔ ( دونوں میں سے کسی بھی مثال پر عمل کیا جا سکتا ہے ۔ ) انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم! جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کبھی نہیں ہٹیں گے اور وہ کسی کو جانشیں بنانے والے نہیں

4715جریر بن حازم نے کہا : ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے ( امارت ) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے ( اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے ، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی ) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری اعانت ہو گی

4716یونس بن عبید ، منصور ، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی

4717برید بن عبداللہ سے روایت ہے ، انہوں نے ابوبردہ سے ، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ ( اشعری ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے ۔ دوسرے نے بھی یہی کہا ۔ آپ نے فرمایا : " اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کو طلب کرے ، نہ ایسے شخص کو بناتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہو

4718حمید بن ہلال نے کہا : مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب ۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " ابوموسیٰ! " یا فرمایا : " عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا لگتا ہے کہ میں ( آج بھی ) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ کا ہونٹ اوپر کو سمٹا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : " جو شخص خواہش مند ہو گا ہم اسے اپنے کسی کام کی ذمہ داری نہیں یا ( فرمایا : ) ہرگز نہیں دیں گے لیکن ابو موسیٰ! یا فرمایا : عبداللہ بن قیس! تم ( ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ) چلے جاؤ ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا ، پھر ( ساتھ ہی ) ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا ، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا ، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا ، انہوں ( حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ) نے پوچھا : یہ کون ہے؟ ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک یہودی تھا ، پھر یہ مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین ، برائی کے کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے ، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، ( ہم اس کو قتل کرتے ہیں ) آپ بیٹھیے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ، تین ( مرتبہ یہی مکالمہ ہوا ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ، اس شخص کو قتل کر دیا گیا ، پھر ان دونوں نے آپس میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی ۔ دونوں میں سے ایک ( یعنی ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک میرا معاملہ ہے ، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اپنی نیند میں بھی اسی ( اجر ) کی توقع رکھتا ہوں

4719ابن حجیرہ اکبر نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا : " ابوذر! تم کمزور ہو ، اور یہ ( امارت ) امانت ہے اور قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہو گی ، مگر وہ شخص جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوئی تھی اسے ( اچھی طرح ) ادا کیا ۔ ( وہ شرمندگی اور رسوائی سے مستثنیٰ ہو گا)

4720ابو سالم جیشانی نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوذر! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور ہو اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کے متولی بننا

4721ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر تینوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن اوس سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا : انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، زہیر کی حدیث میں ہے ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ) کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں ، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں

4722ابن وہب نے کہا : مجھے حرملہ نے عبدالرحمان بن شماسہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی مسئلے کے بارے میں پوچھنے کے لیے گیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے عرض کی : میں اہلِ مصر میں سے ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تمہارا حاکم حالیہ جنگ کے دوران میں تمہارے ساتھ کیسا رہا؟ میں نے کہا : ہمیں اس کی کوئی بات بری نہیں لگی ، اگر ہم میں سے کشی شخص کا اونٹ مر جاتا تو وہ اس کو اونٹ دے دیتا ، اور اگر غلام مر جاتا تو وہ اس کو غلام دے دیتا اور اگر کسی کو خرچ کی ضرورت ہوتی تو وہ اس کو خرچ دیتا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : " میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اس نے جو کچھ کیا وہ مجھے اس سے نہیں روک سکتا کہ میں تمہیں وہ بات سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں کہتے ہوئے سنی ، ( فرمایا : ) " اے اللہ! جو شخص بھی میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر سختی کرے ، تو اس پر سختی فرما ، اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور ان کے ساتھ نرمی کی ، تو اس کے ساتھ نرمی فرما

4723جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شماسہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 4724 ) لیث نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی ( لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار ) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی ( رعایت پر مامور ) ہے ، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی راعی ہے ، اس سے ان کے متعلق سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال میں راعی ہے ، اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سن رکھو! تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا

4724عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌شخص ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌ہر ‌ایك ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا ‌( ‌حاكم ‌سے ‌مراد ‌منتظم ‌اور ‌نگراں ‌كار ‌اور ‌محافظ ‌ہے ‌) ‌پھر ‌جو ‌كوئی ‌بادشاہ ‌ہے ‌وہ ‌لوگوں ‌كا ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌اس ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا ‌كہ ‌اس ‌نے ‌اپنی ‌رعیت ‌كے ‌حق ‌ادا ‌كیے ‌ان ‌كی ‌جان ‌و ‌مال ‌كی ‌حفاظت ‌كی ‌یا ‌نہیں ‌اور ‌آدمی ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌گھر ‌والوں ‌كا ‌اس ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌ان ‌كا ‌اور ‌عورت ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌خاوند ‌كے ‌گھر ‌كی ‌اور ‌بچوں ‌كی ‌اس ‌سے ‌ان ‌كا ‌سوال ‌ہو گا ‌اور ‌غلام ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌مالك ‌كے ‌مال ‌كا ‌اس ‌سے ‌اس ‌كا ‌سوال ‌ہوگا ‌. ‌غرض ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌ایك ‌شخص ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌ایك ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا

4727اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند ۔ ( یونس نے ) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی ( محافظ ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا

4728بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے

4729ابو اشہب نے حضرت حسب بصری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس مرض میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے جس میں ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اگر مجھے ( پکا ) علم ہوتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا

4730یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت ( بیمار تھے اور ) درد میں مبتلا تھے ، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا : اس ( ابن زیاد ) نے کہا : آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی ، ( تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا ) یا فرمایا : میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا ( حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)

4731ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو ، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے ، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا

4732سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ ( آگے ) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے

4733حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بدترین راعی ، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے ، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو ۔ " اس نے کہا : آپ بیٹھیے : آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں ۔ ( آخر میں چونکہ تنکے ، پتھر ، بھوسی بچ جاتے ہیں ، اس لیے ) انہوں نے کہا : کیا ان میں بھوسی ، تنکے ، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے

4734اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی

4735عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوحیان سے ، جریر نے ان سے اور عمارہ بن قعقاع سے ، ان سب نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوحیان سے اسماعیل کی روایت کردہ حدیث کی طرح روایت بیان کی

4736حماد بن زید نے ایوب سے ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی سنگینی بیان کی اور انہوں ( ایوب ) نے پوری حدیث بیان کی ۔ حماد نے کہا : پھر اس کے بعد میں نے یحییٰ بن سعید کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ انہوں نے بعینہ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ہمیں ایوب نے ان سے بیان کی تھی

4737ہمیں عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ایوب نے یحییٰ بن سعید بن حیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ سے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی

4738ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، ۔ ۔ الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو جسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا ، عامل مقرر کیا ۔ ۔ عمرو اور ابن ابی عمر نے کہا : زکاۃ کی وصولی پر ( مقرر کیا ) ۔ ۔ جب وہ ( زکاۃ وصول کر کے ) آیا تو اس نے کہا : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : "" ایک عامل کا حال کیا ہوتا ہے کہ میں اس کو ( زکاۃ وصول کرنے ) بھیجتا ہوں اور وہ آ کر کہتا ہے : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ، ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کےگھر میں بیٹھتا ، پھر نظر آتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ وہ اس ( مال ) میں سے ( اپنے لیے ) کچھ لے ، مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس نے اسے اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو گا ، قیامت کے دن اونٹ ہو گا ، بلبلا رہا ہو گا ، گائے ہو گی ، ڈکرا رہی ہو گی ، بکری ہو گئی ، ممیا رہی ہو گی ۔ "" پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ہمیں آپ کی دونوں بغلوں کے سفید حصے نظر آئے ، پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟ "" ( 4739 ) معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : "" تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ "" پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا

4739معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا

4740ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، اسے ابن اُتبیہ کہا جاتا تھا ۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ۔ وہ کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت ( انتظام ) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے ۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا ، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی ، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا ، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی ، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی ، " پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، ( اس وقت ) آپ فرما رہے تھے : " اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیگام ) پہنچا دیا؟ " ( ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب ) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا

4741عبدہ ، ابن نمیر اور ابومعاویہ ، اسی طرح عبدالرحیم بن سلیمان اور سفیان سب نے اسی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی ۔ عبدہ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : جب وہ آیا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ، جس طرح ابواسامہ نے کہا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ ( بھی ) ہے : " تم لوگوں کو ضرور پتہ چل جائے گا ، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص جو اس ( مال ) میں سے کوئی چیز لے گا ۔ " سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا ۔ ( حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا : تم لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو ، وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے

4742عبداللہ بن ذکوان یعنی ابوزناد سے روایت ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقات پر عامل مقرر کیا ، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ ملا ہے ، پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔ عروہ نے کہا : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا : براہِ راست آپ کے دہن مبارک سے اپنے کانوں تک ( آتی ہوئی آواز سے سنی)

4743وکیع بن جراح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز ہم سے چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی ، وہ شخص قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا ۔ " ( حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں دیکھ رہا تھا ، ( یہ بات سن کر ) انصار میں سے کالے رنگ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے! آپ نے فرمایا : " تمہیں کیا ہوا؟ " اس نے کہا : میں نے آپ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ( میں اس وعید سے ڈرتا ہوں ۔ ) آپ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام کا عامل بنائیں وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے ، اس کے بعد اس میں سےجو چیز اس کو دی جائے وہ لے لے اور جو چیز اس سے روک لی جائے اس سے دور رہے

4744عبداللہ بن نمیر ، محمد بن بشر اور ابواسامہ سبنے کہا : ہمیں اسماعیل نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی

4745فضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، ان سب کی حدیث کے مانند

4746ابن جریج نے بیان کیا کہ قرآن مجید کی آیت : " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے اختیار والے ہیں " حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر میں ( امیر بنا کر ) روانہ کیا تھا ( ابن جریج نے کہا ) مجھے یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی

4749یونس نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے ( مقرر کردہ ) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی

4750زیاد ( بن سعد ) سے روایت ہے ، انہوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند

4751ابو عوانہ اور شعبہ نے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کی ، انہوں نے علقمہ سے ( حدیث ) سنی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح روایت کی

4752معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی

4753حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ( ازاد کردہ غلام ) ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ( حدیث ) روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " جس نے امیر کی اطاعت کی " فرمایا ، " میرے امیر کی " نہیں فرمایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمام کی روایت کردہ حدیث میں بھی اسی طرح ہے

4754ابو صالح السمان سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر ( امیر کا حکم ) سننا اور ماننا واجب ہے ، اپنی مشکل ( کی کیفیت ) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی ، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور اس وقت بھی جب تک پر ( کسی اور کو ) ترجیح دی جا رہی ہو

4755ابن ادریس نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمران سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ( امیر کی بات ) سنوں اور اطاعت کروں ، چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ہی کیوں نہ ہو

4756محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا : چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ( ہی کیوں نہ ہو)

4757عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں شعبہ سے اور انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، جس طرح ابن ادریس نے کہا : کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ( ہی کیوں نہ ہو)

4758محمد بن مثنیٰ نے کہا : محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنی دادی سے سنا ، وہ بیان کرتی تھیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے دوران میں خطبہ دے رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے : " اگر تم پر ایک غلام کو حاکم بنایا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری راہنمائی کرے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو

4759ابن بشار نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا : حبشی غلام ہو

4760وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو

4761بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی : انہوں نے " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام " نہیں کہا ، اور یہ اضافہ کیا : انہوں ( ام الحصین رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا

4762زید بن ابی انیسہ نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ، پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ، میرا گمان ہے آپ نے " کالا " بھی کہا ، حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو

4763لیث نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے ، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا ( روا ) ہے نہ ماننا

4764ٰ قطان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی

4765زبید نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا ، اس ( امیر ) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا : اس میں داخل ہو جاؤ ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا : ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، فرمایا : " اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے ۔ " اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت صرف نیکی میں ہے

4766ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے

4767ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی

4768ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبادہ بن ولید سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی ، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے ( ہمیشہ ) حق نہیں گے اور اللہ کے ( دین پر چلنے کے ) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے

4769یہی حدیث نے ہمیں ابن نمیر نے بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عجلان ، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی

4770یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند

4771جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں

4772حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌امام ‌سپر ‌ہے ‌اس ‌كے ‌پیچھے ‌مسلمان ‌لڑتے ‌ہیں ‌( كافروں ‌سے ) ‌اور ‌اس ‌كی ‌وجہ ‌سے ‌لوگ ‌بچتے ‌ہیں ‌تكلیف ‌سے ( ‌ظالموں ‌سے ‌اور ‌لٹیروں ‌سے ) ‌۔ ‌پھر ‌اگر ‌وہ ‌حكم ‌كرے ‌اللہ ‌سے ‌ڈرنے ‌كا ‌اور ‌انصاف ‌كرے ‌تو ‌اس ‌كو ‌ثواب ‌ہوگا ‌اور ‌جو ‌اس ‌كے ‌خلاف ‌حكم ‌دے ‌دے ‌تو ‌اس ‌پر ‌وبال ‌ہوگا ‌۔ ‌

4773شعبہ نے ہمیں فرات قزاز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے روایت کی کہ میں پانچ سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہم مجلس رہا ، میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : " بنو اسرائیل کے انبیاء ان کا اجتماعی نظام چلاتے تھے ، جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشیں ہوتا اور ( اب ) بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، اب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے ۔ " صحابہ نے عرض کی : آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : پہلے اور اس کے بعد پھر پہلے کی بیعت کے ساتھ وفا کرو ، انہیں ان کا حق دو اور ( تمہارے حقوق کی ) جو ذمہ داری انہیں دی ہے اس کے متعلق اللہ خود ان سے سوال کرے گا

4774حسن بن فرات نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

4775حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب میرے بعد ( کچھ لوگوں سے ) ترجیحی سلوک ہو گا اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم برا سمجھو گے ۔ " صحابہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! ہم میں سے جو شخص ان حالات کا سامنا کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم پر ( حکام کا ) جو حق ہے تم اس کو ادا کرنا اور جو تمہارا حق ہے وہ تم اللہ سے مانگنا

4776عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا اور پتلا کردے گا ( یعنی بعد کا فتنہ پہلے سے ایسا بڑھ کر ہوگا کہ پہلا فتنہ اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے گا ) او رایک فتنہ آوے گا تو مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے پھر وہ جاتا رہے گا اور دوسرا آوے گا مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے ۔ پھر جو کوئی چاہے کہ جہنم سے بچے او رجنت میں جاوے اس کو چاہیے کہ مرے اﷲ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین رکھ کر اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہو کہ لوگ اس سے کریں ۔ اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیوے اور دل سے نیت کرے اس کی تابعداری کی تو اس کی طاعت کرے اگر طاقت ہو ۔ اب اگر دوسرا امام اس سے لڑنے کو آوے تو ( اس کو منع کرو اگر نہ مانے بعیر لڑائی کے تو ) اس کی گردن مارو ۔ یہ سن کر میں عبداﷲ کے پسا گیا اور ان سے کہا میں تم کو قسم دیتا ہوں اﷲ کی تم نے یہ رسول اﷲ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا ہاتھ سے اور کہا میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ۔ میں نے کہا تمہارے چچا کے بیٹے معاویہؓ ہم کو حکم کرتے ہیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے لیے او راپنی جانوں کو تباہ کرنے کے لیے اور اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اے ایمان والو! مت کھاؤ اپنے مال ناحق مگر راضی سے دوداگری کرکے اور مت مارو اپنی جانوں کو بے شک اﷲ تعالیٰ تم پر مہربان ہے ۔ یہ سن کر عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر کہا معاویہؓ کی اطاعت کرو اس کام میں جو اﷲ کے حکم کے موافق ہو اور جو کام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اس میں معاویہؓ کا کہنا نہ مانو ۔

4777وکیع اور ابومعاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی

4778عامر نے عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ صائدی سے روایت کی ، کہا : میں نے کعبہ کے پاس ایک مجمع دیکھا ، پھر اعمش کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

4779محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک انصاری نے تنہائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور عرض کی : کیا جس طرح آپ نے فلاں شخص کو عامل بنایا ہے مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا : " میرے بعد تم خود کو ( دوسروں پر ) ترجیح ( دینے کا معاملہ ) دیکھو گے تم اس پر صبر کرتے رہنا ، یہاں تک کہ حوض ( کوثر ) پر مجھ سے آن ملو ۔ " ( وہاں تمہیں میری شفاعت پر اس صبر و تحمل کا بے پناہ اجر ملے گا ۔)

4782محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن وائل حضرمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، اس نے دوبارہ سوال کیا ، آپ نے پھر اعراض فرمایا ، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے ، اس کا بوجھ تم پر ہے

4783شبابہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا : اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس ( پوچھنے والے ) کو کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو ، جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی اس کا بوجھ ان پر ہے اور جو تم پر ڈالی گئی اس کا بوجھ تم پر ہے

4784حذیفہ بن الیمان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے لوگ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے بھلی باتوں کو پوچھا کرتے اور میں بری بات کو پوچھتا اس ڈر سے کہ کہیں برائی میں نہ پڑجاؤں۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اﷲ نے ہم کو یہ بھلائی دی ( یعنی اسلام ) اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں لیکن اس میں دھبہ ہے۔ میں نے کہا وہ دھبہ کیسا؟ آپ نے فرمایا ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے او رمیرے طریقہ کے سوا اور راہ پر چلیں گے، ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔ میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد برائی ہوگی؟ آپ نے فرمایا ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہنم کے دروازے کی طرف لوگوں کو بلاویں گے، جو ان کے بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔ میں نے کہا یا رسول اﷲؐ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے؟ آپ نے فرمایا ان کا رنگ ہمارا ساہی ہوگا اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲؐ! اگر اس زمانہ کو میں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہ اور ان کے امام کے ساتھ رہ۔ کہا اگر جماعت اور امام نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا تو سب فرقوں کو چھوڑ دے اور اگرچہ ایک درخت کی جڑ دانت سے چباتا رہے مرتے دم تک۔

4785حذیفہ بن الیمان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم برائی میں تھے پھر اﷲ تعالیٰ نے بھلائی دی اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ میں نے کہا پھر اس کے بعد بھلائی ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیسے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے او ران میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے او ربدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! اس وقت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیرے پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔

4786۔ ابوہریرہ رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲؐ نے فرمایا جو شخص حاکم کی اطاعت سے باہر ہوجاوے اور جماعت کا ساتھ چھوڑ دے پھر وہ مرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص اندھے جھنڈے کے تلے لڑے ( جس لڑائی کی درستی شریعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو ) غصہ ہو قوم کے لحاظ سے یا بلاتا ہو قوم کی طرف یا مدد کرتا ہو قوم کی او رخدا کی رضامندی مقصود نہ ہو پھر مارا جاوے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کے زمانے کا سا ہوگا اور جو شخص ( میری امت پر ) دست درازی کرے اور اچھے اور بروں کو ان میں کے قتل کرے اور مومن کو بھی نہ چھورے اور جس سے عہد ہوا ہو اس کا عہد پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے علاقہ نہیں رکھتا او رمیں اس سے تعلق نہیں رکھتا ( یعنی وہ مسلمان نہیں ہے ) ۔

4787۔ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

4788۔ ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اطاعت سے نکل جاوے اور جماعت چھوڑ دے پھ رمرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص ایذا دھندہ جھندے کے تلے مارا جاوے جو غصہ ہوتا ہو قوم کے پاس سے اور لڑتا ہو قوم کے خیال سے وہ میرے امت میں سے نہیں ہیں اور جو میری امت پر نکلے مارتا ہوا ان کے نیکوں اور بدوں کو مومن کو بھی نہ چھوڑے جس سے عہد ہو وہ بھی پورا نہ کرے تو وہ میری امت میں نہیں ہے۔

4789ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

4790ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے اس لیے کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوجاوے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

4791ابن عباس رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی بادشاہ سے بالشت بھر جدا ہو پھر مرے اسی حال میں اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔

4792جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے جھندے کے تلے مارا جاوے اور وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہوگا۔

4793نافع رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ عبداﷲ بن مطیع رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے جو حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس طرح طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی ‌اللہ ‌عنہ ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ) کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲؐ سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔

4794ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4795ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4796شعبہ نے زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عَرفجہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی فتنوں پر فتنے برپا ہوں گے ، تو جو شخص اس امت کے معاملے ( نظام سلطنت ) کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہے جبکہ وہ متحد ہو تو اسے تلوار کا نشانہ بنا دو ، وہ جو کوئی بھی ہو ، سو ہو

4797ابو عوانہ ، شیبان ، اسرائیل ، عبداللہ بن مختار اور ایک آدمی جس کا حماد نے نام لیا تھا ، ان سب نے زیاد بن علاقہ سے ، انہوں نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر ان سب کی حدیث میں : " اسے قتل کر دو " کے الفاظ ہیں

4798ابو یعفور نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تمہارا نظام ( حکومت ) ایک شخص کے ذمے ہو ، پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسے قتل کر دو

4799حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو

4800ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں ( کچھ کاموں میں ) صحیح اور ( کچھ میں ) غلط پاؤ گے ۔ جس نے ( ان کی رہنمائی میں ) نیک کام کیے وہ بَری ٹھہرا اور جس نے ( ان کے غلط کاموں سے ) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور ( ان کی ) پیروی کی ( وہ بَری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ( جنگ نہ کرو)

4801ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حسن نے ضبہ بن محصب عنزی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی ، جس نے ( برے کاموں کو ) ناپسند کیا ، وہ بری ہو گیا ، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا ، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا ( وہ بری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں ، آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا جس نے دل سے ناپسند کیا اور دل سے برا جانا

4802ماد بن زید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن زیاد اور ہشام نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سابقہ حدیث کی طرح ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جس نے انکار کیا ، وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا ، وہ بچ گیا

4803ابن مبارک نے ہشام سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر اسی کے مانند بیان کیا ، سوائے ان الفاظ کے : " جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا " یہ الفاظ بیان نہیں کیے

4804یزید بن یزید بن جابر نے رُزیق بن حیان سے ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے بہترین امام ( خلیفہ ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں ، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! کیا ہم ان کو تلوار کے زور سے پھینک ( ہٹا ) نہ دیں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے عمل کو ناپسند کرو اور اس کی اطاعت سے دستکش نہ ہو

4805داود بن رُشید نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے بنو فزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق بن حیان نے خبر دی کہ انہوں نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد مسلم بن قرظہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" تمہارے بہترین امام ( حکمران ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں ۔ اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ "" ( حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے ) کہا : صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ایسے موقع پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، سن رکھو! جس پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا ، پھر اس نے اس حاکم کو اللہ کی کسی معصیت میں مبتلا دیکھا تو وہ اللہ کی اس معصیت کو برا جانے اور اس کی اطاعت سے ہرگز ہاتھ نہ کھینچے ۔ "" ابن جابر نے کہا : میں نے رزیق سے ، جب انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ، پوچھا : ابو مقدام! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، واقعی انہوں نے یہ حدیث آپ کو بیان کی ، یا آپ نے مسلم بن قرظہ سے سنی جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے عوف ( بن مالک ) رضی اللہ عنہ سے سنی اور وہ یہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کہا : تو وہ ( رزیق ) دو زانو بیٹھ گئے اور قبلے کی طرف منہ کر لیا اور کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! میں نے یہ حدیث مسلم بن قرظہ سے سنی ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا

4806اسحٰق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جابر نے اسی سند سے خبر دی اور کہا : بنو گزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق ۔ امام مسلم نے کہا : یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی ربیعہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی

4807لیث نے ابوزبیر سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ وہ ببول ( کیکر ) کا درخت تھا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی

4808سفیان نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی ، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے

4809محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا

4810مجھے ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مجالد کے آزاد کردہ غلام حجاج بن محمد اعور نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے سوال کیا گیا تھا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ آپ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی اور درخت کے نیچے بیعت نہیں لی ۔ ابن جریج نے کہا : انہیں ابوزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا کی تھی

4811عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : "" آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا

4812عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد ) کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے

4813حصین نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) پندرہ سو تھے

4814اعمش نے کہا : مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا : ایک ہزار چار سو ۔ ( یعنی بیعت کرنے والے)

4815عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے ۔ ( انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی)

4816ابوداود اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی

4817خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے

4818یونس نے اسی سند سے ، یعنی حکم بن عبداللہ سے روایت کی

4821قتادہ نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے وہ درخت دیکھا تھا ، پھر میں اس کے بعد وہاں گیا تو میں اس درخت کو نہ پہچان سکا ۔

4822حاتم بن اسماعیل نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید بن عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا : موت پر

4823حماد بن مسعدہ نے کہا ہمیں یزید نے سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےاسی کی مانند حدیث بیان کی ہے

4824عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا : ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں؟ پوچھا : کس چیز پر؟ کہا : موت پر ۔ کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ساتھ اس بات پر بیعت نہیں کروں گا ۔

4825یزید بن ابی عبید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حجاج کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابن اکوع! کیا آپ واپس پچھلی روش پر لوٹ گئے ہیں ، بادیہ میں رہنے لگے ہیں؟ انہوں نے کہا : نہیں ( پچھلی روش پر نہیں لوٹا ) لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادیہ میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔

4826اسماعیل بن زکریا نے عاصم احول سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہجرت کی بیعت کرنے والوں کا وقت گزر گیا ، البتہ اسلام ، جہاد اور خیر پر بیعت ( جائز ) ہے ۔

4827علی بن مسہر نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہا : میں اپنے بھائی ابومعبد کے ساتھ فتح ( مکہ ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے ، آپ نے فرمایا : "" ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت ( کا مرحلہ ) گزر گیا ۔ "" میں نے عرض کی : پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا : "" اسلام ، جہاد اور خیر پر ۔ "" ابو عثمان نے کہا : میری حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔

4828محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ، ابومعبد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔

4829جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کے دن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔

4830سفیان ، مفضل بن مُہلہل اور اسرائیل ، سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی

4831حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " فتح ( مکہ ) کے بعد ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔

4832ولید بن مسلم نے کہا : ہمیں عبدلرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب زہری نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ان سب کو حدیث سنائی ، کہا : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : " تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ تو بہت مشکل ہے ، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ " اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " پانیوں ( چشموں ، دریاؤں ، سمندروں وغیرہ ) کے پار ( رہتے ہوئے ) عمل کرتے رہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔

4833محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا " اور یہ اضافہ کیا ، آپ نے فرمایا : " جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے ( گھاٹ یا چشمے پر ) آتی ہیں تو کیا تم ( ضرورت مندوں ، مسکینوں ، مسافروں کو پلانے کے لیے ) ان کا دودھ دوہتے ہو؟ " اس نے کہا : ہاں ۔

4834یونس بن یزید نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مسلمان عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا : "" اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں ، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی ، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی "" آیت کے آخر تک ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی ، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی ( مثلا : ان سے سوال کیا جاتا : کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں : نہیں کریں گی ، تو یہی ان کا اقرار ہوتا ، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا ۔ ) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے : "" جاؤ ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں ۔ "" اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی ، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرما دیتے : "" میں نے تم سے بیعت لے لی ۔

4835امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عورتوں کی بیعت کے متعلق بتایا ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ، البتہ آپ ان سے ( زبانی ) عہد لیتے تھے اور جب وہ عہد کر لیتیں تو آپ فرماتے : " جاؤ ، میں نے تم سے بیعت لے لی ۔

4836عبداللہ بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم سننے اور اطاعت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے اور آپ ہم سے فرماتے تھے : " ( کہو : ) جس کی مجھے استطاعت ہو گی ۔

4837عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ ( کے معاملے ) میں میرا معاینہ فرمایا ، اس وقت میری عمر چودہ سال تھی ، آپ نے مجھے ( جنگ میں شمولیت کی ) اجازت نہیں دی اور غزوہ خندق کے دن میرا معاینہ فرمایا جبکہ میں پندرہ برس کا تھا تو آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔ نافع نے کہا : جس زمانے میں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ تھے میں نے ان کے پاس جا کر یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا : یہ صغیر ( نابالغ ) اور کبیر ( بالغ ) کے درمیان حد ( فاصل ) ہے ، پھر انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھ بھیجا کہ جو شخص پندرہ سال کا ہو اس کا ( پورا ) حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم کا ہو اس کو بچوں میں شمار کریں ۔ ( اس کے مطابق وظیفہ دیں ۔)

4838عبداللہ بن ادریس ، عبدالرحیم بن سلیمان اور عبدالوہاب ثقفی سن نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ہے : " اور جب میں چودہ سال کا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کم سن قرار دیا ۔

4839امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ۔

4840لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف کی بنا پر کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ، دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے ۔

4841حماد نے ایوب سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو ، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ۔ "" ایوب نے کہا : قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے ( اسے آڑ بنا کر ) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا ۔

4842اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے : "" مجھے خوف ہے "" اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے : "" اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے ۔

4843امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گھوڑوں کی حفیاء کے مقام سے مسابقت ( دوڑ ) کروائی جنہیں ( عربی طریقے سے ) فالتو چربی زائل کر کے سبک اندام بنایا گیا تھا ۔ ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع تک تھی اور جن کو سبک اندام نہ بنایا گیا تھا ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زُریق تک کرائی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے ۔

4844یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے حدیث بیان کی ۔ خلف بن ہشام ، ابو ربیع اور ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں اسماعیل نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ عبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور یحییٰ قطان سب نے عبیداللہ سے روایت کی ۔ علی بن حجر ، احمد بن عبدہ اور ابن ابی عمر نے مجھے حدیث سنائی ، سب نے کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث سنائی ۔ ابن جریج نے کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ۔ ابن وہب نے کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ۔ ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ بن زید ) نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی نافع سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی ، حماد اور ابن علیہ کی ایوب سے روایت میں یہ اضافہ کیا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں اول آیا اور گھوڑا مجھ سمیت مسجد ( بنو زُریق ) سے آگے نکل گیا ۔ ( جہاں پہنچنا تھا ، تیز رفتاری کی بنا پر اس جگہ سے آگے نکل گیا ۔)

4845حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں برکت ہے اور خوبی قیامت تک۔

4846ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4847جریر بن عبداﷲ رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲؐ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال انگلی سے مل رہے تھے اور فرماتے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں سے برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک یعنی ثواب او رغنیمت۔

4848ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4849عروہ بارقی سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک یعنی ثواب اور غنیمت۔

4850عروہ بارقی سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے۔ لوگوں نے عرض کیا کیونکر یا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ! آپ نے فرمایا ثواب ہے اور غنیمت قیامت تک ( کیونکہ جہاد قائم رہے گا قیامت تک ) ۔

4851ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4852ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4853ترجمہ وہی جو اوپر گزرا اس روایت میں ثواب اور غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔

4854انس رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔

4855ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4856وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے سلم بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں میں شِکال کو ناپسند فرماتے تھے ۔ ( شِکال کا مفہوم اگلی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔)

4857عبداللہ بن نمیر اور عبدالرزاق نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو ( الٹی طرف کے آگے اور پیچھے دو قدم سفید ہوں ۔)

4858محمد بن جعفر اور وہب بن جریر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید نخعی سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح وکیع کی حدیث ہے ۔ اور وہب کی روایت میں ( سند اس طرح ) ہے : انہوں نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی لیکن نخعی کا ذکر نہیں کیا ۔

4859جریر نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے خود ( ایسے شخص کی ) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا ، میرے راستے میں جہاد ، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا ، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ ( میری خاطر ) نکلا تھا ، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ( تو زخم کھانے والا ) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا ، اس ( زخم ) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے ( گھر میں ) نہ بیٹھتا ، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان ( سب ) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ اس ذات کی قسم کس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں ۔

4860ابن فضیل نے عمارہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

4861مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اسے اپنےگھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ ( شہید ہو گیا تو ) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا ، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ ( جہاد کے لیے ) نکلا تھا ۔

4862عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا ، رنگ خوب کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ۔

4863ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ، قیامت کے دن پھر اسی طرح اپنی اسی حالت میں ہو گا جس طرح زخم لگتے وقت تھا ، اس سے خون ٹپک رہا ہو گا ، اس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ بیٹھا رہتا ، لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان ( مسلمانوں ) کو سواریاں مہیا کروں ، نہ ان کے پاس اتنی وسعت ہے کہ وہ سواریاں مہیا کر کے میرے پیچھے آئیں ، ان کے دل اس پر ( بھی ) راضی نہیں ہوتے کہ وہ میرے پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں ۔

4864ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا ۔ " ان کی حدیث کے مانند ۔ اور اسی سند کے ساتھ ( اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق ۔

4865یحییٰ بن سعید نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ ( خدشہ ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل میں ڈالوں گا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں ۔ " ان سب کی حدیث کی مانند ۔

4866سہیل منے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا ، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے " سے لے کر " میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا " تک ۔

4867ابو خالد احمر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ اور حُمید سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " کوئی بھی ذی روح جو فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے بھلائی موجود ہو ، یہ بات پسند نہیں کرتا کہ وہ دنیا میں واپس جائے یا دنیا اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے ، اس کو مل جائے ، سوائے شہید کے ، صرف وہ شہادت کی جو فضیلت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اللہ کی راہ میں ( دوبارہ ) شہید کیا جائے ۔

4868محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : " جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے ، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے ، سوائے شہید کے ، وہ ( اپنی ) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے ۔

4869خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا ، آپ نے ہر بار فرمایا : " تم اس کی اسطاعت نہیں رکھتے ۔ " تیسری بار فرمایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو ، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو ، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے ، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے ۔

4870ابو عوانہ ، جریر اور ابو معاویہ سب نے اسی سند کے ساتھ سہیل سے اسی کے مانند روایت کی ۔

4871ابوتوبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید بن سلام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاؤں اور اس کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ دوسرے نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف مسجد حرام کو آباد کروں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ تیسرے نے کہا : جو تم سب نے کہا اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آواز اونچی نہ کرو ۔ ( پھر بتایا کہ ) وہ جمعے کا دن تھا ۔ لیکن ( جمعے سے پہلے گفتگو کرنے کے بجائے ) جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو حاضر خدمت ہوں گا اور جس کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا ، تو ( اس موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( ہوئی ) بھی ( جو آپ نے سنائی ) : " کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے ( عمل ) جیسا سمجھتے ہو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ( اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا؟ ) " آیت کے آخر تک ۔

4872یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا ، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے ۔

4873حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح کو یا شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔

4874عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔

4875سفیان نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔

4876حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔

4877عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔

4878عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب اور حیوہ بن شریح نے بتایا ، دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بالکل پچھلی روایت کے مانند ۔

4879حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوسعید! جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ( دل کی گہرائیوں ) سے راضی ہو گیا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ " حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے : اللہ کے رسول! یہی بات میرے سامنے دوبارہ ارشاد فرمائیں ، آپ نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد فرمایا : " ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے رفعت بخشی جاتی ہے اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔ " کہا : ( میں نے عرض کی ) اللہ کے رسول! وہ ( بات ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔

4880لیث نے سعید بن ابی سعید ( مقبری ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور انہیں بتایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ( باقی ) تمام اعمال سے افضل ہے ۔ " ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے کس طرح کہا تھا؟ " اس نے عرض کی ( میں نے اس طرح کہا تھا ) : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے ۔ " آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اس حالت میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ کہ صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ، ( تو سارے گناہ مٹا دیے جائیں گے ) سوائے قرض کے ۔ جبریل علیہ السلام نے ( ابھی آ کر ) مجھ سے یہ کہا ہے ۔

4881یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)

4882عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ان ( عمرو اور ابن عجلان ) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ منبر پر تھے ، اس نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ ( کافر کو قتل کروں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ، آگے ) مقبری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)

4883مفضل بن فضالہ نے عباس قِتبانی کے بیٹے عیاس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید ابو عبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، سوائے قرض کے ۔

4884سعید بن ابی ایوب نے کہا : مجھے عیاش بن عباس قتبانی نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے سے قرض کے سوا باقی تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔

4885مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں ۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا ( جھانک کر دیکھا اور پوچھا ۔ ) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا ، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے نے کہا : اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں ۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا ۔

4886محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پوچھا : لوگوں میں سے کون سا شخص افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ۔ " اس نے پوچھا : اس کے بعد پھر کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : " وہ مومن افضل ہے جو کسی پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں رہتا ہے ، اللہ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے ۔

4887معمر نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! لوگوں میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " ایسا مومن جو اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ۔ " اس نے پوچھا : اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا : " پھر وہ آدمی جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا رہتا ہے ، اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے ۔

4888اوزاعی نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اورآدمی جو کسی گھاٹی میں ہے کہا ۔ پھر وہ آدمی نہیں کہا

4889یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بعجہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی نے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو ، اس کی پیٹح پر اللہ کی راہ میں اڑتا ( تیزی سے حرکت کرتا ) پھرے ، جب بھی ( دشمن کی ) آہٹ یا ( کسی کے ) ڈرنے کی آواز سنے ، اڑ کر وہاں پہنچ جائے ، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو یا پھر وہ آدمی جو بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ان چوٹیوں میں سے کسی ایک چھوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہو ، نماز قائم کرے ، زکاۃ دے اور یقینی انجام ( موت ) تک اپنے رب کی عبادت کرے ، اچھائی کے معاملات کے سوا لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔

4890قتیبہ بن سعید نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے ، انہوں نے اور یعقوب بن عبدالرحمٰن دونوں نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ( بعجہ کا مکمل نام لیتے ہوئے ) بعجہ بن عبداللہ بن بدر کہا ۔ اور یحییٰ کی روایت کے برعکس ( ان وادیوں میں سے ایک وادی کے بجائے ) " ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں " کہا ۔

4891اسامہ بن زید نے بعجہ بن عبداللہ جہنی سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی جو ابوحازم نے بعجہ سے روایت کی ۔ اور انہوں نے " گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں " کہا ۔

4892محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ( دیکھ کر ) ہنستا ہے ، ان دونوں میں سے ایک آدمی دوسرے کو قتل کرتا ہے اور دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ کیسے ( ممکن ) ہے؟ آپ نے فرمایا : " ایک شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ، پھر اللہ اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے ، پھر وہ ( بھی ) اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے ۔ " ( جیسا کہ حضرت حمزہ اور وحشی بن حرب رضی اللہ عنہما ہیں ۔)

4893وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

4894ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے ، ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! کیسے؟ آپ نے فرمایا : " یہ شخص شہید کیا جاتا ہے اور جنت کے اندر چلا جاتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے ( قاتل ) پر نظر عنایت فرماتا ہے ، اسے اسلام کی ہدایت عطا کرتا ہے ، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے ۔

4895علاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر اور اس کو قتل کرنے والا ( مسلمان ) جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔

4896سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو شخص جہنم میں اس طرح اکٹھے نہیں ہوں گے کہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کو نقصان پہنچا سکے ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ فرمایا : " وہ مومن جس نے ( جہاد کرتے ہوئے ) کسی کافر کو قتل کیا ، پھر دین پر مضبوطی سے جما رہا ۔

4897جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے ، انہوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے آیا اور کہنے لگا : یہ اللہ کی راہ ( جہاد ) میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس کے بدلے میں قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور سبھی نکیل سمیت ہوں گی ۔

4898زائدہ اور شعبہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی

4899ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے ، انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول! میرا سواری کا جانور ضائع ہو گیا ہے ، آپ مجھے سواری مہیا کر دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس سواری نہیں ہے ۔ " ایک شخص سے عرض کی : اللہ کے رسول! میں اس کو ایسا شخص بتاتا ہوں جو اسے سواری کا جانور مہیا کر دے گا ۔ آپ نے فرمایا : " جس شخص نے کسی نیکی کا پتہ بتایا ، اس کے لیے ( بھی ) نیکی کرنے والے کے جیسا اجر ہے ۔

4900عیسیٰ بن یونس ، شعبہ اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔

4901ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ قبیلہ اسلم کے ایک نوجوان نے آ کر عرض کی : اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور میرے پاس استطاعت نہیں کہ اس کا سامان باندھ سکوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہو گیا ہے ۔ " وہ نوجوان اس آدمی کے پاس گیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں : وہ سارا سامان مجھے دے دوجو تم نے ( جہاد کے لیے ) تیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا : اے فلاں بی بی! میں نے جو کچھ ( جہاد کے لیے ) تیار کیا تھا اسے دے دو اور اس میں سے کوئی چیز بچا کے نہ رکھو ، اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہو گا کہ تم اس میں سے کچھ بچا کے رکھو اور اس میں سے تمہارے لیے برکت ہو ۔

4902بکیر بن اشج نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کسی آدمی کو لیس کیا ( سامانِ جہاد مہیا کیا ) تو یقینا اس نے بھی جہاد کیا اور جس شخص نے غازی کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی تو یقینا اس نے بھی جہاد کیا ۔

4903ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مجاہد کے لیے سامان مہیا کیا تو یقینا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا

4904علی بن مبارک نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے خلاف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا : " ہر ( گھر کے ) دو مردوں میں سے ایک مرد اٹھے اور جائے ، ثواب میں دونوں شریک ہوں گے ۔

4907مہری کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ نے بنولحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا : " ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی ( جہاد کے لیے نکلے ) اور فرمایا : " تم میں سے جو شخص بھی ( جہاد کے لیے ) نکلنے والے کے اہل و عیال اور مال و متاع کی اچھی طرح دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہے گا ، نکلنے والے کے اجر میں سے آدھا اسے ملے گا ۔ " ( یعنی جہاد کرنے والے اور پیچھے خیال رکھنے والے دونوں کے لیے ثواب ہے ۔ پیچھے رہ کر خیال رکھنے والے کو بھی گھر میں رہتے ہوئے آدھا ثواب مل جائے گا ۔)

4908سفیان ( ثوری ) نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھر میں بیٹھنے والوں کے لیے مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی حرمت و عزت ہے ۔ اور گھروں میں بیٹھنے والوں میں سے جو بھی شخص مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے ، پھر ان کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے ( پوری طرح دیکھ بھال نہیں کرتا ) تو اس کو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے عمل میں سے جتنا چاہے گا لے لے گا ، اب تمہارا ( اس سزا کے بارے میں ) کیا خیال ہے؟ " ( کوتاہی کرنے والے نے مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کر کے نیک اعمال بھی کیے ہوں گے تو وہ اس سے چھن جائیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے ۔)

4909مسعر نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن بریدہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( پھر سفیان ) ثوری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)

4910قعنب نے علقمہ بن مرثد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی : " اور فرمایا : ( اسے کہا جائے گا کہ ) تم اس کی نیکیوں میں سے جو چاہو لے لو " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : " تم کیا سمجھتے ہو؟

4911محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت براء ( بن عازب رضی اللہ عنہ ) سے سنا ، وہ قرآن مجید کی آیت : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں "" کے بارے میں کہہ رہے تھے ( آیت ، درمیان والے حصے "" جو معذور نہیں "" کے بغیر نازل ہوئی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ ایک شانے کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی ۔ اس موقع پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی ، تب یہ آیت ( درمیان کے حصے سمیت اس طرح ) اتری : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ۔ "" شعبہ نے کہا : مجھے ایک شخص نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے آیت : "" بیٹھنے والے برابر نہیں "" حضرت براء رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مانند بیان کی ، ابن بشار نے اپنی روایت میں کہا : سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے ، انہوں نے ایک آدمی سے ، اس نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( پہلی حدیث کی سند مکمل اور صحیح ہے ۔ یہ دونوں سندیں ضبط و تائید کے لیے ہیں ۔)

4912مسعر نے ابواسحاق سے ، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب آیت : " مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے مجاہدوں کے برابر نہیں " نازل ہوئی تو ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ، تب ( غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ ) ( جو معذور نہیں ) کے الفاظ نازل ہوئے ۔

4913سعید بن عمرو اشعثی اور سعید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی : ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے خبر دی : انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! اگر میں ( اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے ) شہید کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ فرمایا : " جنت میں ۔ " اس شخص کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینکا ، پھر لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ۔ اور سوید کی روایت میں یہ ہے : ایک شخص نے اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ۔

4914حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : انصار کے ایک قبیلے ، بنو نبیت میں سے ایک شخص ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) آیا اور اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بلاشبہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آگے بڑھا ، ( خوب ) جنگ کی حتی کہ شہید کر دیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس شخص نے عمل بہت کم کیا اور اس کو اجر بہت زیادہ عطا کیا گیا ۔

4915ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی خبر لانے کے لئے بُسیسہ ( خزرجی انصاری ) رضی اللہ عنہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دیکھے ابوسفیان کے ( تجارتی ) قافلے کی کیا صورتِ حال ہے ۔ جس وقت وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں تھا ، ۔ ۔ ( ثابت نے ) کہا : مجھے انس رضی اللہ عنہ کا کسی ام المومنین کو مستثنیٰ کرنا معلوم نہیں ۔ ۔ کہا : اس نے آ کر آپ کو ساری بات بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : " ہمیں کچھ ( کرنا ) مطلوب ہے ، سو جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے ۔ " کچھ لوگ بالائی مدینہ میں ( موجود ) اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا : " نہیں ، صرف وہی لوگ ( ساتھ چلیں ) جن کی سواریاں یہیں موجود ہوں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پہنچ گئے ، مشرکین بھی آ پہنچے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص ، جب تک میں اس کے پیچھے نہ ہوں ، کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ۔ " مشرکین قریب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں ۔ " کہا : ( یہ سن کر ) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یا رسول اللہ! جنت جس کا عرض آسمان اور زمین ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " اس نے کہا : واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟ " اس نے کہا : اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں ( کہا ) کہ میں ( بھی ) جنت والوں میں سے ہو جاؤں ، آپ نے فرمایا : " بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو ۔ " حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں ، پھر کہنے لگے : اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی ( یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی ) ، پھر انہوں نے ، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں ، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔

4916ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے ، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے ، سنا : وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ( ہوتے ) ہیں ۔ " یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا : میں تمہیں ( الوداعی ) سلام کہتا ہوں ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا ، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا ۔

4917ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ( ہمیں ) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں ۔ آپ نے ان کے ساتھ ستر انصاری بھیج دیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا ، ان میں میرے ماموں حضرت حرام ( بن ملحان رضی اللہ عنہ ) بھی تھے ، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے ، ایک دوسرے کو سناتے تھے ، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے ، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان ( آنے والے کافروں ) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے ( راستے ہی میں دھوکے سے ) ان پر حملہ کر دیا اور انہیں شہید کر دیا ، اس وقت انہوں نے کہا : اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہو گئی ہے ، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے ۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں ، حرام ( بن ملحان ) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہو گیا تو انہوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : " تمہارے بھائی شہید کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے : " اے اللہ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کر لی ہے ، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے ۔

4918حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعمرو! کدھر؟ ( پھر کہا : ) جنت کی خوشبو کیسی عجیب ہے! جو مجھے کوہِ احد کے پیچھے سے آ رہی ہے ، پھر وہ کافروں سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیروں کے اَسی سے اوپر زخم پائے گئے ۔ ان کی بہن ، میری پھوپھی ، ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنے بھائی ( کی لاش ) کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا ، ( اسی موقع پر ) یہ آیت نازل ہوئی : " ( مومنوں میں سے ) کتنے مرد ہیں کہ جس ( قول ) پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ، اسے سچ کر دکھایا ، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر دیا ، اور ان میں سے کوئی ایسے ہیں جو منتظر ہیں ، وہ ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئے ( اپنے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد پر قائم ہیں ۔ ) " صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔

4919عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل ( شقیق ) سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اللہ کے رسول! کوئی شخص مال غنیمت کی خاطر لڑتا ہے ، کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس ( کے کارناموں ) کا ذکر ہو اور کوئی اس لیے لڑتا ہے کہ ( لڑائی اور شجاعت ) میں اس کے مقام کو دیکھا جائے ، ان میں سے اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ اونچا ہو ، وہی اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) ہے ۔

4920ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے ، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو شجاعت کے لیے لڑتا ہے ، کوئی ( قومی ) حمیت کے لیے لڑتا ہے ، کوئی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے ، ان میں سے اللہ کی راہ میں ( لڑنے والا ) کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اس لیے لڑا کہ اللہ کا کلمہ سب سے اونچا ہو تو وہی اللہ کے لئے لڑنے والا ہے ۔

4921عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی شخص اظہار شجاعت کے لیے لڑتا ہے ۔ پھر اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

4922منصور نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کیا اور کہا : ایک شخص غصے کی وجہ سے جنگ کرتا ہے ، ایک شخص ( قومی ) حمیت کی بنا پر جنگ کرتا ہے ۔ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا اور صرف اس لیے اٹھایا کہ وہ آدمی کھڑا ہوا تھا اور فرمایا : " جو شخص اس لیے لڑا کہ اللہ کا کلمہ سب سے اونچا ہو ، وہی اللہ کی راہ میں ( لڑنے والا ) ہے ۔

4923خالد بن حارث نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ( جمگھٹے کے بعد ) لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل ( بن قیس جزامی رئیس اہل شام ) نے ان سے کہا : شیخ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، کہا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا ، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا ۔ اسے پیش کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی ( عطا کردہ ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا ۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے : یہ ( شخص ) جری ہے ۔ اور یہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی ، اسے پیش کیا جائے گا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان کر لے گا ، وہ فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی ، ( اللہ ) فرمائے گا : تو نے جھوٹ بولا ، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے ( یہ ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے : یہ قاری ہے ، وہ کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا ، اسے لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان لے گا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا : میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے جھوٹ بولا ہے ، تم نے ( یہ سب ) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے ، وہ سخی ہے ، ایسا ہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا ، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔

4924حجاج بن محمد نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو ناتل شامی نے کہا ۔ ۔ ۔ اور ( اس کے بعد ) خالد بن حارث کی طرح حدیث بیان کی ۔

4925حیوہ بن شریح نے ابوہانی سے روایت کی ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لڑنے والی کوئی بھی جماعت جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتی ہے ، پھر وہ لوگ مالِ غنیمت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آخرت کے اجر سے دو حصے فورا حاصل کر لیتے ہیں ، ان کے لیے ایک باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ غنیمت حاصل نہیں کرتے تو ( آخرت میں ) ان کا اجر پورا ہو گا ۔

4926نافع بن یزید نے کہا : مجھے ابوہانی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوعبدالرحمٰن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو بھی غازہ جماعت یا لشکر جہاد کرے ، غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے تو انہوں نے اپنے دو تہائی اجر فورا ( یہیں ) حاصل کر لیے اور جو بھی غازی جماعت یا لشکر خالی ہاتھ لوٹے اور زخم کھائے تو ان لوگوں کے اجر مکمل ہوں گے ۔

4927امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے ، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے ، اور آدمی کے لیے وہی ( اجر ) ہے جس کی اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی ۔

4928لیث ، حماد بن زید ، عبدالوہاب ثقفی ، سلیمان بن حیان ، حفص بن غیاث ، یزید بن ہارون ، ابن مبارک اور سفیان سب نے یحییٰ بن سعید سے ، مالک کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔ سفیان کی حدیث میں ہے : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔

4929حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سچے دل سے شہادت طلب کی ، اسے عطا کر دی جاتی ہے ( اجر عطا کر دیا جاتا ہے ) چاہے وہ اسے ( عملا ) حاصل نہ ہو سکے ۔

4930ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ حرملہ کے ہیں ۔ ۔ ابوطاہر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، حرملہ نے کہا : حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوشریح نے حدیث بیان کی کہ سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے ، اللہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے ، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو ۔ " ابوطاہر نے اپنی حدیث میں " سچے ( دل ) سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔

4931محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم انطاکی نے کہا : ہمیں عبداللہ بن مبارک نے وہیب مکی سے خبر دی ، انہوں نے عمر بن محمد بن منکدر سے ، انہوں نے سمی سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا ، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا ۔ "" ابن سہم نے کہا : عبداللہ بن مبارک کا قول ہے : ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ ( حکم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا ( جب جہاد کی سنگین ضرورت تھی ۔ بہت بڑے ممالک اسلام میں داخل ہونے اور دشمنوں سے مامون ہو جانے کے بعد اب ہر کسی کی جہاد میں شمولیت کی اتنی شدید ضرورت نہیں رہی ۔)

4932جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوسفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے فرمایا : " مدینہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم کسی راستے پر نہیں چلتے یا کسی وادی کو طے نہیں کرتے مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ، انہیں بیماری نے روک رکھا ہے ۔

4933ابومعاویہ ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگر وکیع کی حدیث میں ( " مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں " کے بجائے ) " مگر وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہوتے ہیں " ہے ۔

4934اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ( جو حضور کی رضاعی خالہ لگتی تھیں ) کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھانا پیش کرتی تھیں ، ( بعد ازاں ) وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ( آ گئی ) تھیں ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں گئے ، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا اور پھر بیٹھ کر آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" میری امت کے کچھ لوگ ، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے ، وہ اس سمندر کی پشت پر سوار ہوں گے ۔ وہ تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ "" انہٰں شک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا : تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان مجاہدین میں شامل کر دے ۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور پھر اپنا سر ( تکیے پر ) رکھ کر سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" مجھے ( خواب میں ) میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے ۔ "" جس طرح پہلی مرتبہ فرمایا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم اولین لوگوں میں سے ہو ۔ "" پھر حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر میں ( بحری بیڑے پر ) سوار ہوئیں اور جب سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری کے جانور سے گر کر شہید ہو گئیں ۔ ( اس طرح شہادت پائی ۔)

4935لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابن حبان سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس بحر اخضر پر سوار ہو کر جا رہے ہیں ۔ " پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

4936لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابن حبان سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس بحر اخضر پر سوار ہو کر جا رہے ہیں ۔ " پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

4937عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خالہ ، بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے ہاں ( تکیے پر ) سر رکھ کر سو گئے ، اس کے بعد اسحاق بن ابی طلحہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

4938لیث بن سعد نے ہمیں ایوب بن موسیٰ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے شرجیل بن سمط سے ، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرپ دینا ، ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر ( پہرہ دینے والا ) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا ، ( آئندہ بھی ) جاری رہے گا ، اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ ( قبر میں سوالات کر کے ) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا ۔

4939ابوعبیدہ بن عقبہ نے شرجیل بن سمط سے ، انہوں نے سلمان خیر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ایوب بن موسیٰ سے لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت کی

4940سُمی نے ابوصالح سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک بار ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا ، اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس کو ( راستے سے ) پیچھے کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے عمل کی جزا دی اور اس کو بخش دیا ۔ " پھر آپ نے فرمایا : " شہید پانچ ( قسم کے اشخاص ) ہیں : ( 1 ) طاعون کی بیماری میں مرنے والا ۔ ( 2 ) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا ۔ ( 3 ) ڈوب کر مرنے والا ۔ ( 4 ) کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا ۔ ( 5 ) اور جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ( لڑتے ہوئے ) شہید ہوا ۔

4941جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم آپس میں ( بات کرتے ہوئے ) شہید کس کو شمار کرتے ہو؟ "" صحابہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر تو میری امت کے شہداء بہت کم ہوئے ۔ "" صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! پھر وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( طلبِ علم ، سفرِ حج ، جہاد کے دوران میں اپنی موت ) مر جائے وہ شہید ہے ، جو شخص طاعون میں مرے وہ شہید ہے ، جو شخص پیٹ کی بیماری میں ( مبتلا ہو کر ) مر جائے وہ شہید ہے ۔ "" ( ابوصالح سے بیان کرنے والے ایک اور راوی عبیداللہ ) بن مقسم نے ( سہیل بن ابی صالح سے ) کہا : میں تمہارے والد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ( حدیث بیان کرتے ہوئے یہ بھی ) کہا تھا : "" اور غرق ہونے والا شہید ہے ۔

4942خالد نے ہمیں سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ ان کی حدیث میں ہے : سہیل نے کہا : عبیداللہ بن مقسم نے ( سہیل سے ) کہا کہ میں تمہارے بھائی کے بارے میں ( بھی ) گواہی دیتا ہوں کہ اس حدیث ( کو اپنے والد سے بیان کرتے ہوئے اس ) میں یہ اضافہ کیا تھا : " اور جو غرق ہو جائے وہ شہید ہے ۔

4943وہیب نے کہا : ہمیں سہیل نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ہے ، کہا : مجھے عبیداللہ بن مقسم نے ابوصالح سے خبر دی ، اور اس میں اضافہ کیا : " غرق ہونے والا شہید ہے ۔

4944عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں عاصم نے حفصہ بنت سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : یحییٰ بن ابی عمرہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : طاعون سے ۔ انہوں نے کہا : تو انہوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاعون ( سے موت ) ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔

4945علی بن مسہر نےعاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

4946ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرما رہے تھے : " ( عربی ) " تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو ، قوت تیار کرو ۔ " ( الانفال 60 : 8 ) سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ۔

4947ابن وہب نے کہا : مجھے عمرو بن حارث نے ابوعلی ( ثمامہ بن شفی ) سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی تمہارے لیے بہت سی زمینوں ( پر قبضے ) کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا ، اس لیے تم میں سے کوئی اپنے تیروں کی مشق سے غافل نہ رہے ۔

4948حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔

4949حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔

4950حضرت ثوبان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا کوئی ان کا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آوے ( یعنی قیامت ) اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔

4951ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ ( اس حدیث کا بیان کتاب الایمان میں گزرا ) ۔

4952ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

4953جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا یہ دین برابر قائم رہے گا اور اس کے اوپر لڑتی رہے گی ایک جماعت ( کافروں سے اور مخالفوں سے ) مسلمانوں کی قیامت ہوئے تک۔

4954جابر بن عبداﷲ سے روایت ہے میں نے سنا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے آپ فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا حق پر لڑتا رہے گا قیامت تک۔

4955عمیر بن ہانی سے روایت ہے میں نے معاویہ رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا منبر پر، وہ کہتے تھے میں نے سنا رسول اﷲؐ سے آپ فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا اﷲ کے حکم پر قائم رہے گا جو کوئی ان کو بگاڑنا چاہے وہ کچھ بگاڑ نہ سکے گا یہاں تک کہ اﷲ کا حکم آن پہنچے اور وہ غالب رہیں گے لوگوں پر۔

4956معاویہ رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جس شخص کی اﷲ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور ہمیشہ ایک جماعت مسلمانوں کی حق پر لڑتی رہے گی او رغالب رہے گی ان پر جو ان سے لڑیں قیامت تک۔

4957عبدالرحمن بن شماسہ مہری سے روایت ہے میں مسلمہ بن مخلدون کے پاس بیٹھا تھا ان کے پاس عبداﷲ بن عمرو بن العاص تھے۔ عبداﷲ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا قیامت قائم نہ ہوگی مگر بدترین خلق اﷲ پر وہ بدتر ہوں گے جاہلیت والوں سے اﷲ تعالیٰ سے جس بات کی دعا کریں گے اﷲ تعالیٰ ان کو دے دے گا۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ عقبہ بن عامر آئے مسلمہ نے ان سے کہا اے عقبہ عبداﷲ کیا کہتے ہیں؟عقبہ نے کہا وہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں پر میں نے تو رسول اﷲؐ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ یا ایک جماعت اﷲ کے حکم پر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمن پر غالب رہے گی جو کوئی ان کا خلاف کرے گا ان کو کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ قیامت آجاوے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ عبداﷲ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا بے شک ( حضرت نے ایسا فرمایا ) لیکن پھر اﷲ ایک ہوا بھیجے گا جس میں مشک کی سی بو ہوگی اور ریشم کی طرح بدن پر لگے گی وہ نہ چھوڑے گی، کسی شخص کو جس کے دل میں ایک دانے برابر بھی ایمان ہوگا بلکہ اس کو مارے جاوے گی بعد اس کے سب برے کافر لوگ رہ جاویں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی۔

4958سعد بن ابی وقاص رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲؐ نے فرمایا ہمیشہ مغرب والے ( عینی عرب یا شام والے ) حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔

4959جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم شادابی ( کے زمانے ) میں سفر کرو تو زمین میں سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی ( یا قحط زدہ زمین ) میں سفر کرو تو اس زمین پر سے جلدی گزرو اور جب تم رات کے آخری حصے میں منزل کرو تو گزر گاہ سے ہٹ جاؤ کیونکہ رات کو وہ ( راستے کی ) جگہ حشرات الارض کا ٹھکانا ہوتی ہے ، " ( وہاں اپنی خوراک کے حصول کے لیے آتے ہیں ۔)

4960عبدالعزیز بن محمد نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم شادابی ( کے زمانے ) میں سفر کرو تو زمین سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو اس ( سے متاثرہ علاقے میں ) سے ان ( اونٹوں کی ٹانگوں ) کا گودا بچا کر لے جاؤ ( تیز رفتاری سے نکل جاؤ تاکہ زیادہ عرصہ بھوکے رہ کر وہ کمزور نہ ہو جائیں ) اور جب تم رات کے آخری حصے میں قیام کرو تو گزرگاہ میں ٹھہرنے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ جانوروں کی گزر گاہ اور حشرات الارض کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔

4961یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : سمی نے آپ کو ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، وہ تم میں سے ایک ( مسافر ) کو سونے ، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص وہ کام سر انجام دے چکے جو اس کے پیشِ نظر تھا تو وہ جلد اپنے گھر آئے " ؟ انہوں ( امام مالک ) نے کہا : ہاں ۔

4962یزید بن ہارون نے ہمام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر والوں پر دستک نہ دیتے تھے ۔ آپ ( سفر سے گھر والوں کے پاس ) صبح کو یا شام کو تشریف لاتے تھے ۔

4963عبدالصمد بن عبدالوارث نے کہا : ہمیں حمام نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ انہوں نے کہا : ( گھروں ) داخل نہ ہوتے تھے ۔

4964ہشیم نے سیار سے ، انہوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم گھروں کے اندر داخل ہونے کے لیے جانے لگے تو آپ نے فرمایا : " رک جاؤ ، حتی کہ ہم ( کچھ تاخیر سے ) رات کے وقت ، یعنی عشاء کے وقت جائین تاکہ بکھرے بالوں والی اپنے بال سنوار لے اور اور شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کرے ۔

4965عبدالصمد نے کہا : ہمیں شعبہ نے سیار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر ( شعبی ) سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت گھر واپس آئے تو رات کو ( اچانک ) اپنے گھر میں داخل نہ ہو ( بلکہ اتنی دیر توقف کرے ) کہ شوہر کی غیر حاضری میں رہنے والی اپنی صفائی کر لے اور الجھے بالوں والی بال سنوار لے ۔

4966رَوح بن عبادہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

4967محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب کوئی انسان لمبا وقت گھر سے دور رہا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رات کو اچانک گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا ۔

ذریعہ: Sahih Muslim

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath