صحیح مسلم 23 · The Book of the Rules of Inheritance
4140حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا ، نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے ۔
4141وہیب نے ہمیں ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مقررہ حصے حقداروں کو دو اور جو بچ جائے وہ سب سے قریبی رشتہ رکھنے والے مرد کے لیے ہے ۔
4142روح بن قاسم نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو اور ان سے جو باقی بچے وہ سب سے قریبی مرد کا ہے ۔
4143معمر نے ہمیں ابن طاوس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مال کو اللہ کی کتاب کی رو سے مقررہ کردہ حصے والوں کے درمیان تقسیم کرو اور جو ان حصوں سے بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے ۔
4144یحییٰ بن ایوب نے ابن طاوس سے اسی سند کے ساتھ وہیب اور روح بن قاسم کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی
4145سفیان بن عیینہ نے ہمیں محمد بن منکدر سے حدیث بیان کی : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کرنے کے لیے پیدل چل کر تشریف لائے ، مجھ پر غشی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہو گیا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ ( اس کو ایسے ہی چھوڑ جاؤں یا وصیت کروں ، وصیت کروں تو کتنے حصے میں؟ اس وقت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد زندہ تھے نہ اور کوئی بیٹا تھا ۔ ) آپ نے مجھے جواب نہ دیا حتی کہ وراثت کی آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے فتویٰ مانتے ہیں ، کہہ دیجئے : اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ۔
4146ابن جریج نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنوسلمہ ( کے علاقے ) میں پیدل چل کر میری عیادت کی ، آپ نے مجھے اس حالت میں پایا کہ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ، آپ نے پانی منگوایا ، وضو کیا ، پھر اس میں سے مجھ پر چھینٹے مارے تو مجھے افاقہ ہو گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ تو ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے ۔
4147سفیان ( ثوری ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں بیمار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، دونوں پیدل چل کر تشریف لائے ۔ آپ نے مجھے ( اس حالت میں ) پایا کہ مجھ پر غشی طاری تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا ، میں ہوش میں آ گیا تو دیکھا سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیا کروں؟ کہا : آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وراثت کی آیت نازل ہوئی ۔
4148بہز نے ہمیں حدیث بیان کی : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بیمار تھا اور بے ہوش تھا ، آپ نے وضو کیا تو لوگوں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا ، ( اس پر ) مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میرا وارث کلالہ بنے گا ۔ ( اس وقت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بہنیں ہی تھیں جو وارث بنتی تھیں ) اس پر وراثت کی آیت نازل ہوئی ۔ میں نے محمد بن منکدر سے پوچھا : ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) ( والی آیت ) ؟ انہوں نے کہا : اسی طرح ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے سوال پر ) نازل کی گئی ۔
4149نضر بن شمیل ، ابو عامر عقدی اور وہب بن جریر سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، وہب بن جریر کی حدیث میں ہے : تو آیت فرائض نازل ہوئی ۔ اور ان میں سے کسی کی حدیث میں ابن منکدر سے شعبہ کے سوال کا تذکرہ نہیں ہے ۔
4150ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا ، پھر کہا : میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ رہا جو میرے ہاں کلالہ سے زیادہ اہم ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں اتنی مراجعت نہیں کی جتنی کلالہ کے بارے میں کی ، اور آپ نے بھی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں اتنی شدت اختیار نہیں فرمائی جتنی کلالہ کے بارے میں فرمائی حتی کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینے میں چبھوئی اور فرمایا : " اے عمر! تمہیں موسم گرما ( میں نازل ہونے ) والی آیت کافی نہیں جو سورہ نساء کے آخر میں ہے؟ ( جس سے مسئلہ واضح ہو گیا ہے ) " اور میں ( عمر ) اگر زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا واضح فیصلہ کروں گا جس ( کو دیکھتے ہوئے ) ایسا شخص ( بھی ) فیصلہ کر سکے گا جو قرآن پڑھتا ( اور سمجھتا ) ہے اور وہ بھی جو قرآن نہیں پڑھتا ۔
4151سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
4152ابن ابی خالد نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء ( بن عازب ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قرآن کی آخری آیت جو نازل ہوئی ( یہ تھی ) ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) " وہ آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں ، کہہ دیجئے : اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے
4153شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : آخری آیت جو نازل کی گئی ، آیت کلالہ ہے اور آخری سورت جو نازل کی گئی ، سورہ براءت ہے ۔ ( سورہ توبہ کا دوسرا نام ، سورت براءت ہے)
4154زکریا نے ہمیں ابواسحاق کے واسطے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ آخری سورت جو پوری نازل کی گئی ، سورہ توبہ ہے اور آخری آیت جو نازل کی گئی ، آیت کلالہ ہے
4155عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق کے حوالے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا : آخری سورت جو مکمل نازل کی گئی ۔ ( تامة کے بجائے كاملة کے الفاظ ہیں)
4156ابوسفر نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : آخری آیت جو اتاری گئی ، ( يَسْتَفْتُونَكَ ) ہے
4157یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ( ایسے ) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے
4158عقیل ، ابن شہاب ( زہری ) کے بھتیجے اور ابن ابی ذئب سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی
4159اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روئے زمین پر کوئی مومن نہیں مگر میں سب لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جس نے بھی جو قرض یا اولاد چھوڑی ( جس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے ) تو میں اس کا ذمہ دار ہوں اور جس نے مال چھوڑا وہ عصبہ ( قرابت دار جو کسی طرح بھی وارث بن سکتا ہو اس ) کا ہے ، وہ جو بھی ہو
4160ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے ، ( ان کی اپنی ذات سمیت ) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں ( ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد ) اس کے عصبہ ( قریب ترین مرد رشتہ دار ) کو ترجیح دی جائے ، وہ جو بھی ہو
4161معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں شعبہ نے عدی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوحازم سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے بوجھ ( بے سہارا اولاد ہو یا قرض ) چھوڑا وہ ہمارے ذمہ ہے
4162(محمد بن جعفر ) غندر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر غندر کی حدیث میں ہے : " جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی
ذریعہ: Sahih Muslim
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath