حدیث
واپس

موطا ملک 9 · Shortening the Prayer

326اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں

327معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔

328نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کر لیتے مغرب اور عشاء کو ۔

329عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا ۔

330نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمع کر لیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء بارش کے وقت میں۔

332ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کر تے ہیں ۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے ۔

333امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھیتجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے ۔

334حضرت ام المومنیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ کہا انہوں نے نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئیں تھیں حضر میں اور سفر میں بعد اس کے سفر میں نماز اپنے حال پر رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی ۔

335یحیی بن سعید نے کہا سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں سالم نے کہا آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں ۔

336نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب مدینہ سے نکلتے مکہ کو حج یا عمرہ کے لئے تو قصر کر تے نماز کو ذوالحلیفہ سے

337سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر مدینہ سے سوار ہوئے ریم کو جانے کے لئے تو قصر کیا نماز کو راہ میں

338سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سوار ہوئے مدینہ سے ذات النصب کو تو قصر کیا نماز کو راہ میں ۔

339عبداللہ بن عمر سفر کرتے تھے مدینہ سے خیبر کا تو قصر کرتے تھے نماز کو۔

340سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قصر کرتے تھے نماز کو پورے ایک دن کی مسافت میں ۔

342نافع سفر کرتے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ ایک برید کا تو نہیں قصر کرتے تھے نماز کا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس قصر کرتے تھے نماز کو اس قدر مسافرت میں جتنی مکہ اور طائف کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور جدہ کے بیچ میں ہے ۔

343سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عرم کہتے تھے میں نماز قصر کیا کرتا ہوں جب تک نیت نہیں کرتا اقامت کی اگرچہ بارہ راتوں تک پڑا رہوں ۔

344نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر مکہ میں دس رات تک ٹھہرے رہے اور نماز کا قصر کرتے رہے مگر جب امام کے ساتھ پڑھتے تو پوری پڑھ لیتے۔

345سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص نیت کرے چار رات کے رہنے کی تو وہ پورا پڑھے نماز کو ۔

346عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب جب مدینہ سے مکہ آئے تو جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیتے پھر کہتے اے مکہ والو تم اپنی نماز پوری پڑھو کیونکہ میں مسافر ہوں ۔

348نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر امام کے پیچھے منی میں چار رکعتیں پڑھتے تھے اور جب اکیلے پڑھتے تھے تو دو رکعتیں پڑھتے ۔

349صفوان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر عیادت کرنے آئے عبداللہ بن صفوان کے پاس تو دو رکعتیں پڑھائیں پھر جب انہوں نے سلام پھیرا ہم اٹھے اور پورا کیا نماز کو ۔

350عبداللہ بن عمر سفر میں فرض کے ساتھ نفل نہیں پڑھتے تھے نہ آگے فرض کے نہ بعد فرض کے مگر رات کو زمین پر اتر کے اور کبھی اونٹ ہی پر نفل پڑھتے تھے اگرچہ منہ اونٹ کا قبلہ کی طرف نہ ہوتا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن نفل پڑھا کر تے تھے سفر میں ۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے بیٹے عبیداللہ کو سفر میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے پھر کچھ انکار نہ کر تے تھے ان پر ۔

353عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے گدھے پر اور رخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی جانب تھا ۔

354عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اونٹ پر سفر میں جس طرف اونٹ کا منہ ہوتا تھا اسی طرف اپنا منہ کرتے تھے عبداللہ بن دینار نے کہا کہ عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

355یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس کو نماز پڑھتے تھے سفر میں گدھے پر اور منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ تھا رکوع اور سجدہ اشارہ سے کر لیتے تھے بغیر اس امر کے کہ منہ اپنا کسی چیز پر رکھیں ۔

356ام ہانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال مکہ فتح ہوا آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں ایک کپڑا اوڑھ کر ۔

357ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھپائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا ۔

358حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے ۔

359حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں ۔

360انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہو گیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

361عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں گیا عمر بن خطاب کے پاس گرمی کے وقت تو پایا میں نے ان کو نفل پڑھتے ہوئے پس کھڑا ہونے لگا میں یچھے ان کے سو قریب کر لیا انہوں نے مجھ کو اور کھڑا کیا آپ نے برابر داہنی طرف بعد اس کے جب آیا یرفا تو پیچھے ہٹ گیا میں اور صف باندھی ہم دونوں نے پیچھے حضرت عمر کے ۔

362ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔

363ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو ۔

364عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا تو اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے سے گزر جانے سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ تھے عبداللہ بن عمر ناپسند سمجھتے تھے یہ کہ وہ گزرے عورتوں کے آگے سے اور وہ نماز پڑھ رہی ہوں ۔

366نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے ۔

367عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے منی میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہو گیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا ۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں ۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی ۔

370سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں

372ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے ۔

373ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے ۔

374یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔

375نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کو صفیں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے جب وہ لوگ لوٹ کر خبر دیتے کہ صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر کہتے ۔

376مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ تھا میں عثمان بن عفان کے ساتھ اتنے میں تکبیر ہوئی نماز کی اور میں ان سے باتیں کرتا رہا اس لئے کہ میرا کچھ وظیفہ مقرر کریں اور وہ برابر کر رہے تھے کنکریوں کو اپنے جوتوں سے یہاں تک کہ آن پہنچے وہ لوگ جن کو صفیں برابر کرنے کے لئے مقرر کیا تھا اور انہوں نے خبر دی ان کو اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں تو کہا مجھ سے کہ شریک ہو جا صف میں پھر تکبیر کہی ۔

377عبدالکریم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبوت کی باتوں میں سے یہ بات ہے کہ جب تجھے حیاء نہ ہو تو جو جی چاہے کر اور نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا اور روزہ جلدی افطار کرنا اور سحری کھانے میں دیر کرنا۔

378سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا تھا نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا کہا ابوحازم نے کہا میں سمجھتا ہوں سہل اس حدیث کو مرفوع کہتے تھے ۔

379نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قنوت نہیں پڑھتے تھے کسی نماز میں

380عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم امامت کرتے تھے اپنے لوگوں کی تو ایک دن نماز تیار ہوئی لیکن آپ چلے گئے حاجت کو پھر آئے اور بولے کو سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جب قصد کرے کوئی تم میں سے پائخانہ کا تو پہلے پائخانہ کر لے پھر نماز پڑھے ۔

381حضرت عمر نے فرمایا کہ کوئی تم میں نماز نہ پڑھے جب وہ روکے پیشاب یا پائخانہ کو ۔

382ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ اس شخص کے لئے جو بیٹھا رہے اس جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھ چکا ہے جب تک اس کو حدث نہ ہو کہتے ہیں اے اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر ۔

383ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں رہتا ہے وہ شخص جس کو نماز گھر میں جانے سے روکے رہے ۔

384ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص صبح کو یا سہ پہر کو جائے مسجد میں نیک امر سیکھنے کو یا سکھانے کو پھر لوٹ آئے اپنے گھر میں تو گویا جہاد سے غنیمت لے کر لوٹا۔

385ابوہریرہ کہتے تھے جو شخص تم میں سے نماز پڑھ کر وہیں بیٹھا رہے تو ملائکہ دعا کرتے ہیں اس کے لئے یا اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر اگر کھڑا ہو گیا اس جگہ سے لیکن بٹیھا رہا مسجد میں نماز کے انتظار میں تو گویا وہ نماز ہی میں ہے جب تک نماز پڑھے۔

386ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہ بتاؤں میں تم کو وہ چیزیں جو دور کرتی ہیں گناہوں کو اور بڑھاتی ہیں درجوں کو پورا کرنا وضو کا تکلیف کے وقت اور قدم بہت ہونا مسجد تک اور انتظار کرنا نماز کا بعد ایک نماز کے یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط۔ سعید بن مسیب نے کہا کہتے ہیں مسجد سے بعد اذان کے جو نکل جائے اور پھر آنے کا اردہ نہ ہو تو وہ منافق ہے ۔

388ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے ۔

389ابو النضر سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا مجھ سے میں نہیں دیکھتا تمہارے صاحب یعنی عمر بن عبیداللہ کو تحیةالمسجد پڑھتے ہوئے جب آتے ہیں مسجد کو تو بیٹھ جاتے ہیں بغیر پڑھے ہوئے ابونضر نے کہا کہ ابوسلمہ عیب کرتے تھے اس امر کا عمر بن عبیداللہ پر ۔

390نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب سجدہ کرتے تھے تو جس چیز پر سجدہ کرتے تھے اسی پر ہاتھ رکھتے تھے نافع نے کہا کہ سخت جاڑے کے دن میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا اپنے ہاتھ نکالتے تھے جبہ سے اور رکھتے تھے ان کر پتھریلی زمین پر ۔

391نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی زمین پر رکھے پھر منہ اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے اس لئے کہ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں جیسے منہ سجدہ کرتا ہے ۔

392سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے بنی عمرو بن عوف کے پاس ان میں صلح کرنے کو اور وقت آگیا نماز کا تو مؤذن ابوبکر صدیق کے پاس آکر بولا اگر تم نماز پڑھاؤ تو میں تکبیر کہوں بولے اچھا پس شروع کی نماز ابوبکر نے اور آگئے رسول اللہ اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیر کر پہلی صف میں آکر کھڑے ہو گئے پس دستک دی لوگوں نے مگر ابوبکر نماز میں کسی طرف دھیان نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت زور سے دستکیں دینا شروع کیں تب دیکھا ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ارادہ کیا پیچھے ہٹنے کا پس اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو تو دونوں ہاتھ اٹھا کر ابوبکر نے اللہ کا شکر کیا اس بات پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امام رہنے کا حکم دیا پھر پیچھے ہٹ آئے ابوبکر اور آگے بڑھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھا کر فارغ ہوئے پھر فرمایا اے ابوبکر تم کیوں اپنی جگہ پر کھڑے نہ رہے جب میں نے تم کو اشارہ کیا تھا ابوبکر نے کہا بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات پہنچتی ہے کہ نماز پڑھاۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے تم نے اس قدر دستکیں کیوں بجائیں جس شخص کو نماز میں کچھ حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے لوگ اس طرف دیکھ لیں گے اور دستک دینا عورتوں کے لئے ہے

393نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز میں التفات نہیں کرتے تھے ۔

394ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ میں پڑھتا تھا اور عبداللہ بن عمر میرے پیچھے تھے مجھے خبر نہ تھی میں نے ان کو دیکھا تو دباد یا انہوں نے مجھ کو ۔

395ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ زید بن ثابت مسجد میں آئے تو امام کو رکوع میں پایا پس رکوع کر لیا پھر آہستہ چل کر صف میں مل گئے ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ رکوع میں آہتسہ چلتے تھے صف میں مل جانے کو۔

397ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اے پروردگار رحمت اتار اپنی محمد اور ان کی بیبیوں اور آل پر جیسے رحمت کی تو نے ابراہیم پر اور برکت اتار محمد اور ان کی بیبیوں پر اور آل پر جیسے تو نے برکت اتاری ابراہیم کی اولاد پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بڑا ہے ۔

398ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہمارے پاس سعد بن عبادہ کے مکان میں تو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بشیر بن سعد نے حکم کیا ہم کو اللہ جل جلالہ نے درود بھیجنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کیوں کر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پس چپ ہو رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ ہم کو تمنا ہوئی کہ کاش نہ پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید اور سلام بھیجنے کی ترکیب جیسے تم جان چکے ہو ۔

399عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر درود بھیجتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ابوبکر اور عمر پر ۔

400ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ظہر کی اول دو رکعتیں اور بعد ظہر کے دو رکعتیں اور بعد مغرب کے دو رکعتیں اپنے گھر میں اور بعد عشا کے دو رکعتیں اور نہیں پڑھتے تھے بعد جمعہ کے مسجد میں یہاں تک کہ گھر میں آتے تو دو رکعتیں پرھتے ۔

401ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم دیکھتے ہو میرا منہ قبلہ کی طرف قسم اللہ کی مجھ سے چھپا نہیں ہے خشوع تمہارا نماز میں اور رکوع تمہارا میں دیکھتا ہوں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے ۔

402عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تھے قبا میں سوار ہو کر اور پیدل ۔

403نعمان بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رائے ہے تمہاری اس شخص میں جو شراب پئے اور چوری کرے اور زنا کرے اور تھا یہ امر قبل اترنے حکم کے ان کے باب میں تو کہا صحابہ نے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برے کام ہیں ان میں سزا ضرور ہے اور سب چوریوں میں بری نماز کی چوری ہے پوچھا صحابہ نے نماز کا چور کیونکر ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے ۔

404عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ ایک حصہ اپنی نماز میں سے اپنے گھروں میں ادا کرو ۔

405نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے بیمار کو اگر سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو سر سے اشارہ کرے لیکن کوئی چیز اپنی پیشانی کے سامنے اونچی نہ رکھے ۔

406ربیعہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب آتے مسجد میں اور معلوم ہوتا کہ جماعت ہو چکی ہے تو فرض شروع کرتے اور سنتیں نہ پڑھتے ۔

407نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر گزرے ایک شخص پر اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو سلام کیا اس کو اس نے جواب دیا زبان سے پھر لوٹے عبداللہ بن عمر اور کہا اس سے جب کوئی سلام کرے تم پر تم نماز پڑھتے ہو تو زبان سے جواب نہ دو بلکہ ہاتھ سے اشارہ کر دو ۔

408نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص بھول جائے نماز کو پھر یاد کرے اور وہ دوسری نماز میں امام کے پیچھے ہو تو جب امام سلام پھیرے تو چاہئے کہ اس نماز کو پڑھ کر جو نماز امام کے ساتھ پڑھی ہے اس کا اعادہ کرے ۔

409واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے بیٹھے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوا بائیں طرف سے مڑ کر ان کے پاس گیا تو عبداللہ بن عمر نے کہا تو داہنی طرف سے مڑ کر کیوں نہ آیا میں نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر بائیں طرف سے مڑ کر چلا آیا عبداللہ نے کہا تو نے اچھا کیا ایک صاحب کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھ چکے تو داہنی طرف سے مڑ مگر تو جب نماز پڑھے تو جدھر سے چاہے مڑ کر جا داہنی طرف سے یا بائیں طرف سے ۔

410عبداللہ بن عمر بن العاص سے ایک شخص نے پوچھا کیا نماز پڑھوں میں اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نے کہا نہیں لیکن پڑھ لے بکری کے تھانوں میں ۔

411سعید بن مسیب نے کہا کہ وہ کون سی نماز ہے جس میں ہر رکعت کے بعد بیٹھنا پڑے پھر خود ہی کہا وہ نماز مغرب کی ہے جب ایک رکعت فوت ہو جائے امام کے ساتھ۔

412ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اپنی نواسی امامہ کو جو بیٹی زینب کی تھیں ابوالعاص سے اٹھاے ہوئے تو جب سجدہ کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بٹھا دیتے ان کو زمین پر جب کھڑے ہوتے اٹھا لیتے۔

413ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آتے جاتے رہتے ہیں فرشتے تمہارے پاس رات کے جدا ہونے کے وقت اور دن کے جدا ہونے کے وقت اور جمع ہوجاتے ہیں سب عصر کی اور فجر کی نماز میں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے ساتھ رہتے ہیں چڑھ جاتے ہیں اور پس پوچھتا ہے ان سے پروردگار ( حالانکہ وہ خوب جانتا ہے) کس حال میں چھوڑا تم نے میرے بندوں کو؟ کہتے ہیں ہم نے چھوڑا ان کو نماز میں، جب ہم گئے تھے جب بھی نماز پڑھتے تھے ۔

414حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا مرض موت میں ابوبکر کو نماز پڑھانے کا تو کہا میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی تو حکم کیجئے عمر کو نماز پڑھانے کا میں نے حفصہ سے کہا تم کہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوبکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ میں کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی پس حکم کیجئے عمر کو نماز پڑھانے کا سو کہا حضرت نے تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم یوسف کی ساتھی عورتوں کی طرح ہو کہو ابوبکر سے نماز پڑھانے کو پس کہا حفصہ نے عائشہ سے تم سے مجھے بھلائی نہ ہوئی ۔

415عبیداللہ بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور کان میں کچھ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے لگا ہم کو خبر نہیں ہوئی کیا کہتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکار کر بول اٹھے تب معلوم ہوا وہ شخص حضرت سے ایک منافق کے قتل کی اجازت چاہتا تھا تو جب پکار اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کیا وہ شخص گواہی نہیں دیتا اس امر کی کہ کوئی معبود حق نہیں ہے سوا اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اس کے رسول ہیں اس شخص نے کہا ہاں مگر اس کی گواہی کا کچھ اعتبار نہیں تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ نماز نہیں پڑھتا بولا ہاں پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کا کچھ اعتبار نہیں ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا ہے مجھ کو اللہ نے ۔

416عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے پروردگار مت بنا قبر میری کو بت، کہ لوگ اس کو پوجیں بہت بڑا غضب اللہ کا ان لوگوں پر ہے جہنوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔

417محمود بن لبید انصاری سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک امامت کرتے تھے اپنی قوم کی اور ان کی بینائی میں ضعف تھا کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اندھیرا یا پانی یا بہاؤ ہوتا ہے اور میری بینائی میں فرق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں کسی مقام پر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنا مصلی بناؤں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کہا کس جگہ تم میری نماز پڑھنا پسند کرتے ہو انہوں نے ایک جگہ بتادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھ دی۔

418عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چپ لیٹے ہوئے تھے مسجد میں ایک پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرے پاؤں پر تھا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان ایسا کیا کرتے تھے

420یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا ایک شخص سے تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں عمل زیادہ کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر اور لفظوں کا ایساخیال نہیں کیا جاتا پوچھنے والے کم ہیں جواب دینے والے بہت ہیں یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے یاد کئے جائیں گے الفاظ قرآن کے اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو اپنی خواہش نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے ۔

421یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچی ان کو حدیث کہ قیامت کے دن پہلے نماز دیکھی جائے گی اگر نماز قبول ہوگئی تو پھر اور عمل اس کے دیکھے جائیں گے ورنہ کوئی عمل پھر نہ دیکھا جائے گا۔

423حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام بہت پسند تھا جو ہمیشہ آدمی اس کو کرتا رہے ۔ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ دو بھائی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان میں سے ایک دوسرے سے چالیس دن پہلے مر گیا تو لوگوں نے تعریف کی اس کی جو پہلے مرا تھا تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دوسرا بھائی مسلمان نہ تھا بولے ہاں مسلمان تھا وہ بھی کچھ برا نہ تھا تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کیا جانو دوسرے کی نماز نے اس کو کس درجہ پر پہنچایا نماز کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک نہر میٹھے پانی کی بہت گہری کسی نے دروازے پر بہتی ہو اور وہ اس میں پانچ وقت غوطہ لگایا کرے کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہے گی پھر تم کیا جانو کہ نماز نے دوسرے بھائی کے مرتبہ کس درجہ کر پہنچایا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عطاء بن یسار جب دیکھتے کسی شخص کو جو سودا بیچتا ہے مسجد میں پھر بلاتے اس کو پھر پوچھتے اس سے کیا ہے تیرے پاس اور تو کیا چاہتا ہے اگر وہ بولتا کہ میں بیچنا چاہتا ہوں تو کہتے جاؤ دنیا کے بازار میں یہ تو آخرت کا بازار ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر نے ایک جگہ بنا دی مسجد کے کونے میں اس کا نام بطیحا تھا اور کہہ دیا تھا کہ جو کوئی بک بک کرنا چاہے یا اشعار پڑھنا چاہے یا پکارنا چاہے تو اس جگہ کو چلا جائے ۔

426طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے کہ آیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد کا رہنے والا اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی یہاں تک کہ قریب آیا تو وہ پوچھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے معنی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازیں پڑھنا رات دن میں تب وہ شخص بولا سوا ان کے اور بھی کوئی نماز مجھ پر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر نفل پڑھنا چاہے تو تو پڑھ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور روزے رمضان کے بولا سوا ان کے اور بھی کوئی روزہ مجھ پر ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں مگر نفل رکھے تو پھر ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوة کا وہ شخص بولا اس کے سوا بھی کچھ صدقہ مجھ پر فرض ہے فرمایا نہیں مگر اگر اللہ چاہے تو دے پس پیٹھ موڑ کر چلا وہ شخص تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیڑا اس کا پار ہوا اگر سچ بولا ۔

427ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آدمی سو جاتا ہے تو باندھتا ہے شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں ہر گرہ مار کر کہتا جاتا ہے کہ ابھی تجھ کو بڑی رات باقی ہے تو سو رہ پھر اگر جاگتا ہے آدمی اور یاد کرتا ہے اللہ جل جلالہ کو کھل جاتی ہے ایک گرہ اگر وضو کرتا ہے کھل جاتی ہے دوسری گرہ پھر اگر نماز پڑھتا ہے صبح کی کھل جاتی ہے تیسری گرہ پس رہتا ہے وہ شخص اس دن خوش دل اور خوش مزاج ورنہ رہتا ہے بدنفس مجہول ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath