موطا ملک 8 · Prayer in Congregation
287عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی فضیلت رکھتی ہے اکیلی نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ ۔
288ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی افضل ہے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس حصہ۔
289ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے قصد کیا کہ حکم کروں لکڑیاں توڑ کر جلا نے کا پھر حکم کروں میں نماز اور اذان ہو پھر حکم کروں ایک شخص کو امامت کا اور وہ امامت کرے پھر جاؤں میں پیچھے سے ان لوگوں کے پاس جو نہیں آئے جماعت میں اور جلادوں ان کے گھروں کو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کسی کو ان میں سے معلوم ہو جائے کہ ایک ہڈی عمدہ گوشت کی یا دو کھر بکری کے اچھے ملیں گے تو ضرور آئیں عشاء کی نماز میں ۔
290بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن ثابت نے کہا افضل نماز وہ ہے جو گھروں میں پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے ۔
291سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور منافقوں کے درمیاں میں یہ فرق ہے کہ وہ صبح اور عشاء کی جماعت میں نہیں آسکتے یا مثل اس کے کچھ کہا ۔
292ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص جا رہا تھا راہ میں اس نے ایک کانٹا پایا تو اس کو ہٹا دیا پس راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ اس سے تو بخش دیا اس کو اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید پانچ قسم کے لوگ ہیں جو طاعون سے مر جائے یا دستوں کی راہ میں ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مر جائے یا اللہ جل جلالہ کی راہ میں شہید ہو جائے ۔
293ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نہ پایا سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی نماز میں اور عمر بن خطاب گئے بازار کو اور گھر سلیمان کا بازار اور مسجد کے بیچ میں سو ملی ان کو شفا ماں سلیمان کی تو پوچھا حضرت عمر نے شفا سے کہ میں نے نہیں دیکھا سلیمان کو صبح کی نماز میں تو کہا شفا نے کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اس لئے ان کی آنکھیں لگ گئیں تب فرمایا عمر نے البتہ مجھے صبح کی نماز میں حاضر ہونا رات کی عبادت سے بہتر معلوم ہوتا ہے ۔
294عبدالر حمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان آئے مسجد میں نماز عشاء کے لئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں تو لیٹ رہے مسجد میں اخیر میں انتظار کر تے تھے لوگوں کے جمع ہونے کا پس آئے بن ابی عمرہ اور بیٹھے عثمان کے پاس پس پوچھا عثمان نے کہ کون ہو تم بیان کیا ان سے ابن ابی عمرہ نے نام اپنا پھر پوچھا عثمان نے کہ کتنا قرآن تم کو یاد ہے تو بیان کیا انہوں نے پھر فرمایا حضرت عثمان نے ان سے جو شخص حاضر ہو صبح کی جماعت میں تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی ۔
295محجن بن ابی محجن سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے رسول اللہ کے پاس اتنے میں اذان ہوئی نماز کی تو اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھ کر آئے تو دیکھا کہ محجن وہیں بیٹھے ہیں تب فرمایا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں تم نے نماز نہیں پڑھی سب لوگوں کے ساتھ کیا تم مسلمان نہیں ہو کہا محجن نے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ میں پڑھ چکا تھا نماز اپنے گھر میں تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو آئے مسجد میں تو نماز پڑھ لوگوں کے ساتھ اگرچہ تو پڑھ چکا ہو ۔
296نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر پاتا ہوں جماعت کو ساتھ امام کے کیا پھر پڑھوں ساتھ امام کے کہا عبداللہ بن عمر نے ہاں کہا اس شخص نے پس دو نمازوں میں کو نسی نماز کو فرض سمجھوں اور کس کو نفل تو جواب دیا عبداللہ بن عمر نے کہ تجھ کو اس سے کیا مطلب یہ تو اللہ جل جلالہ کا اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے جس کو چاہے نفل کر دے ۔
297یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں سو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتا ہوا کیا پھر پڑھوں اس کے ساتھ نماز کہا سعید نے ہاں تو کہا اس شخص نے پھر کس نماز کو فرض سمجھوں کہا سعید نے تو فرض اور نفل کر سکتا ہے یہ کام اللہ جل جلالہ کا ہے ۔
298ایک شخص سے جو بن اسد کے قبیلہ سے تھا روایت ہے کہ اس نے پوچھا ابوایوب انصاری سے تو کہا کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں تو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتے ہوئے کیا نماز پڑھ لوں دوبارہ ساتھ امام کے کہا ابوایوب نے ہاں جو ایسا کرے گا اس کو ثواب جماعت کو ملے گا یا مثل جماعت کے یا اس کو لشکر اسلام کے ثواب کا ایک حصہ ملے گا یعنی غازی کا ثواب پائے گا اس کو مزدلفہ میں رہنے کا ثواب ملے گا یا اس کو دوہرا ثواب ملے گا ایک اکیلے نماز پڑھنے کا دوسرا جماعت سے نماز پڑھنے کا ۔
299نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص نماز پڑھ لے مغرب یا صبح کی پھر پائے ان دونوں جماعتوں کو تو دوبارہ نہ پڑھے ۔
300ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز پڑھائے کوئی تم میں سے تو چاہیے کہ تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنا چاہے طول کرے ۔
301نافع سے روایت ہے کہ میں کھڑا ہوا نماز میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے اور کوئی نہ تھا سوائے میرے تو پیچھے سے پکڑ کے عبداللہ نے مجھے اپنی داہنی طرف برابر کھڑا کیا ۔
302یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص امامت کرتا تھا لوگوں کی عقیق میں تو منع کروا بھیجا امامت سے اس کو عمر بن عبدالعزیز نے ۔
303انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ایک گھوڑے پر پس گر پڑے اس پر سے تو چھل گیا داہنی جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اور نماز پڑھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے تو فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
304حضرت ام المومنیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری سے بیٹھ کر اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھنا شروع کیا تب اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہ بیٹھ جاؤ پھر جب فارغ ہوئے نماز سے اور فرمایا امام اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب امام رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
305عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے مرض موت میں سو آئے مسجد میں اور پایا ابوبکر کو نماز پڑھا رہے تھے کھڑے ہو کر تو پیچھے ہٹنا چاہا حضرت ابوبکر نے پس اشارہ کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو اور بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر پہلو میں ابوبکر کے تو ابوبکر حضرت کی نماز کی پیروی کرتے تھے اور لوگ ابوبکر کی پیروی کر تے تھے ۔
306عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے بہ نسبت کھڑے ہو کر پڑھنے کے ۔
307عبداللہ بن عمر العاص سے روایت ہے کہ کہ جب آئے ہم مدینہ میں تو بخار وبائی بہت سخت ہو گیا ہم کو پس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس اور وہ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیٹھ کر پڑھے گا اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا
308حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی مگر وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل بیٹھ کر پڑھتے اور سورت کو اس قدر خوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ بڑی سے بڑی ہو جاتی ۔
309حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے مگر جب سن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ ہو گیا تو بیٹھ کر پڑھنے لگے پھر بھی تیس یا چالیس آیتیں رکوع سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھ لیتے پھر رکوع کرتے ۔
310عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو پڑھا کرتے کلام اللہ کو بیٹھے بیٹھے جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کر تے اور دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ امام مالک کو پہنچا عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب سے کہ وہ نفل نماز پڑھتے بیٹھ کر دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے اور سرین زمین سے لگا کر ۔
312ابو یونس سے روایت ہے کہ حکم کیا مجھ کو ام المومنین حضرت عائشہ نے کلام کے لکھنے کا اور کہا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ : 238) تو مجھ کو خبر کر دینا پس جب پہنچا میں اس آیت کو تو خبر دے دی میں نے ان کو، کہا انہوں نے یوں لکھو حافظو علی الصلوت والصلوة الوسطی والصلوة العصر یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور وسطی نماز پر اور عصر کی نماز پر کہا عائشہ سے کہ میں نے سنا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
313عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطی وصلوة العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش ۔
315عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت سے کہتے تھے صلوة الوسطی ظہر کی نماز ہے ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوة وسطی صبح کی نماز ہے ۔
316عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اور دونوں کنارے اس کے دونوں کندھوں پر تھے حضرت ام سلمہ کے گھر میں
317ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نماز درست ہے ایک کپڑے میں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم میں سے ہر کسی کو دو کپڑے ملتے ہیں ۔
318سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ پوچھے گئے ابوہریرہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے کہا درست ہے پس کہا گیا ان سے کیا تم بھی ایسا کرتے ہو جواب دیا ہاں میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہوں باوجود اس بات کے کہ میرے کپڑے تپائی پر رکھے ہوتے ہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری نماز پڑھتے تھے ایک کپڑے میں ۔
321ربیعہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ محمد بن عمرو بن حزم نماز پڑھتے تھے صرف کرتہ پہن کر ۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نہ پائے تو نماز پڑھے ایک کپڑا لپیٹ کر اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور سر بندھن میں
323ام حرام سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ عورت کس قدر کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے تو جواب دیا کہ خمار اور کرتہ میں ایسا لمبا ہو کہ اس سے پاؤں ڈھپ جائیں ۔ عبیداللہ خولانی جو لے پالک تھے حضرت میمونہ ام المومنین کے ان سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور خمار یعنی سر بندھن میں اور ازار نہیں پہنے ہوتی تھیں ۔
325عروہ بن زبیر سے ایک عورت نے پوچھا کہ ازار باندھنا دشوار ہوتا ہے مجھ کو کیا نماز پڑھ لوں کرتہ اور سر بندھن میں جواب دیا عروہ نے کہ ہاں جب کرتہ خوب بڑا ہو۔
ذریعہ: Muwatta Malik
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath