موطا ملک 58 · Sadaqa
1841سعد بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو شخص حلال مال سے صدقہ دے اور اللہ جل جلالہ نہیں قبول کرتا مگر مال حلال کو تو وہ اس صدقے کو اللہ جل جلالہ کی ہتھلی میں رکھتا ہے اور پروردگار اس کو پرورش کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے پالتا ہے اپنے بھپیرے (اونٹ کے بچے کو) کو اور وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔
1842(انس بن مالک کہتے تھے کہ ابوطلحہ سب انصاریوں سے زیادہ مالدار تھے مدینے میں یعنی کھجور کے درخت سب سے زیادہ ان کے پاس تھے اور سب مالوں میں ان کو ایک باغ بہت پسند تھا جس کو بیر حاء کہتے تھے اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیا کرتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ" 3۔ ال عمران : 92) یعنی تم نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو گے اس مال میں سے جس کو تم چاہتے ہو تو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ نے ارشاد فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اور مجھے اپنے سب مالوں میں بیر حاء پسند ہے وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں اللہ سے اس کی بہتری اور جزاء چاہتا ہوں اور وہ بیر حاء ذخیرہ ہے اللہ کے پاس آپ نے فرمایا واہ واہ یہ مال تو بڑا اجر لانے والا ہے یا بڑے نفع والا ہے اور میں سن چکا ہوں جو تم نے اس مال کے بارے میں کہا ہے میرے نزدیک تم اس مال کو اپنے عزیزوں میں بانٹ دو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بانٹ دوں پھر ابوطلحہ نے اس کو تقسیم کردیا اپنے عزیزں اور چچا کے بیٹوں میں۔
1843زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو وسائل کو اگرچہ آئے وہ گھوڑے پر ۔
1845مالک ، زید بن اسلم، عمرو بن معاذ اشہلی انصاری سے روایت ہے کہ ان کی دادی فرماتی تھیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اے مسلمان عورتو ! نہ حقیر کرے کوئی تم میں سے کسی ہمسائی اپنی کو اگرچہ وہ ایک کھر بھیجے بکری کا جلا ہوا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا اور آپ روزہ دار تھیں اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ نے اپنی لونڈی سے کہا یہ روٹی فقیر کو دیدے وہ بولی آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے آپ نے کہا دیدے لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کردی شام کو ایک گھر سے حصہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا حضرت عائشہ نے لونڈی کو بلا کر کہا کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔ امام مالک نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے انہوں نے ایک آدمی سے کہا ایک دانا انگور کا اٹھا کر اس کو دے وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا حضرت عائشہ نے کہا ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا ۔
1847ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیا پھر انہوں نے سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا تمام ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جہاں تک مال ہوگا میں تم سے دریغ نہ کروں گا لیکن جو سوال سے بچے گا تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو قناعت کر کے اپنی تونگری ظاہر کرے گا تو اللہ اس کو غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے
1848عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور آپ اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔
1849عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا ۔
1851ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے ۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کر دیا ہم کو ۔
1852علاء بن عبدالرحمن کہتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کر دیتا ہے۔
1853امام مالک کو پنہچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درست نہیں ہے صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا ۔
1854ابو بکر بن محمد ، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرخ ہو جاتیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا ۔
1855اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے
ذریعہ: Muwatta Malik
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath