حدیث
واپس

موطا ملک 49 · The Description of the Prophet, may Allah Bless Him and Grant Him Peace

1671انس بن مالک کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لمبے تھے بہت نہ ٹھگنے تھے سفید تھے چونے کی طرح نہ بہت گندمی اور بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت گھونگریالے بھی نہ تھے اور بہت سیدتے بھی نہ تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سن چالیس برس کا ہوا تو اللہ جل جلالہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت عطا فرمائی پھر بعد بنوت کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس رہے اور ساٹح برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ ہوں گے ۔

1672عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے ۔

1673ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنت ہیں ایک ناخن کاٹنا دوسرے مونچھیں کتروانا تیسرے بغل کے بال اکھاڑنا چوتھے زیر ناف کے بال مونڈنا پانچویں ختنہ کرنا ۔

1674سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت ابراہیم ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ کیا ہے اللہ جل جلالہ نے فرمایا یہ عزت اور وقار ہے، حضرت ابراہیم نے کہا تو اے پروردگار زیادہ عزت دے مجھ کو ۔ کہا مالک نے مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔

1675جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا بائیں ہاتھ سے کھانے کو اور ایک جوتا پہن کر چلنے کا اور ایک کپڑا سر سے پاؤں تک لپیٹ لینے کو اور ایک کپڑا اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھنے کو اس طرح کہ شرم گاہ کھلی رہے ۔

1676عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب کوئی کھائے تم میں سے تو اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے پئے اس واسطے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔

1677ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکیں کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے ۔

1678ام بجید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ دو مسکین کو اگرچہ جلا ہوا کھر ہو ۔

1679ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔

1680ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کافر آیا مہمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری کے دودھ دوہنے کا حکم کیا وہ سب پی گیا پھر دوسری بکری کو دوہا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری بکری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا پھر دوسرے دن صبح کو وہ شخص مسلمان ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا دودھ اس کے پینے کو دیا وہ پی نہ سکا تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔

1681ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پئے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے ۔

1682ابو مثنی جہنی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں ابوسعید خدری آئے مروان نے ان سے کہا کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ نے پانی میں پھونکنے سے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا ہاں! ایک شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرکے سانس لے لیا کر پھر وہ شخص بولا میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو بہادے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور عثمان بن عفان کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے ۔

1684ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سعد بن ابی وقاص کھڑے ہو کر پانی پینے میں کچھ قباحت نہیں جانتے تھے ۔

1685ابو جعفر قاری نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے کر پانی پیتے تھے ۔

1686عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے ۔

1687انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے پاس دودھ آیا جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا اور داہنی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدوی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا پہلے داہنی طرف والے کو دو پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے ۔

1688سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟ جو بائیں طرف تھے، لڑکے نے کہا نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو ٹھے میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی لڑکے کو دے دیا ۔

1689انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم سے : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی ۔ تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی ام سلیم نے کچھ روٹیاں جو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں کھڑا ہو رہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پوچھا کیا تجھ کو ابا طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کھانے کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا سب اٹھو! سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور ابوطلحہ کو جا کر خبر کی، ابوطلحہ نے ام سلیم سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ابوطلحہ نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آکر ملے یہاں تک کہ ابوطلحہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں مل کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ! ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا پھر ام سلیم نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی وہ ملیدہ بن گیا اس کے بعد جو اللہ جل جلالہ کو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس کو اور بلاؤ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسی (80) سب سیر ہو گئے ۔

1690ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے ۔

1691جابر بن عبداللہ اسلمی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بند کر دروازے کو اور منہ باندھا کرو مشک کا اور بند رکھا کرو برتن کو اور بجھا دیا کرو چراغ کو کہ شیطان دروازہ کو نہیں کھولتا اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا اور برتن نہیں کھولتا اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے ۔

1692ابی شریح الکعبی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے اور تین رات دن تک جو کچھ خاطر ہو کھلائے اور زیادہ اس سے ثواب ہے اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔

1693ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت شدت سے پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں دیکھا اس میں اتر کر پانی پیا جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ جل جلالہ اس سے خوش ہو گیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کے جگر میں ثواب ہے ۔

1694جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ساحل دریا کی طرف اور ان پر حاکم مقر کیا ابوعیبدہ بن جراح کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے میں بھی ان میں شریک تھا راہ میں کھانا ختم ہوچکا ابوعبیدہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے ابوعبیدہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصہ میں آنے لگی پھر وہ بھی تمام ہوگئی وہب بن کیسان کہتے ہیں میں نے جابر سے پوچھا ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ دریا کے کنارے پر ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا پھر ابوعیبدہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا ۔

1695عمر بن سعد بن معاذ کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو! نہ ذلیل کرے کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو اگرچہ وہ ایک کھر جلا ہوا بکری کا بھیجے ۔

1698عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے وہاں ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔

1699یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے ایک بدو آیا آپ نے اس کے بلایا وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا حضرت عمرب نے فرمایا بڑا ندیدہ ہے اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہو جائے ۔

1700حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔

1701عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں (حلال ہے یا حرام) پوچھا گیا تو کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا ۔

1702حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے حمید نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ حمید نے کہا انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا اور میرے سر پر لادھ دیا، میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ابوہریرہ نے دیکھ کر کہا اللہ اکبر اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا جب وہ چلے گئے تو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا اے بیٹے میرے بھائی کے اچھی طرح رکھ بکریوں کو اور پونچھتا رہ ناک ان کی اور صاف کر جگہ ان کی اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں قسم اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے ۔

1703ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر ۔

1704یحیی بن سعید نے کہا میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہا میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے اس کے اونٹ ہیں کیا میں دودھ ان کا پیوں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اس کے گمے ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے تو دودھ ان کا پی مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے اور نسل کو ضرر پہنچے یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے ۔

1705عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح ، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے ۔

1706حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بچو تم گوشت سے کیونکہ گوشت کی طلب ہو جاتی ہے جیسے شراب پینے سے اس کی طلب ہو جاتی ہے۔

1707یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک ۔

1708عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں

1709صدقہ بن یسار نے سعید بن مسیب سے پوچھا انگوٹھی پہننے کی بابت انہوں نے کہا پہن ! اور لوگوں سے کہہ دے میں نے تجھے پہننے کو کہا ہے۔

1710عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی سفر میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath