حدیث
واپس

موطا ملک 45 · Madina

1598انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اے پروردگار برکت دے مدینہ والوں کی ناپ میں اور برکت دے ان کے صاع میں اور مد میں ۔

1599ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ پہلا میوہ دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے کر فرماتے اے پروردگار برکت دے ہمارے پھلوں میں اور برکت دے ہمارے شہر میں اور برکت دے ہمارے صاع میں اور برکت دے ہمارے مد میں، اے پروردگار ابراہیم نے جو تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور تیرے نبی تھے دعا کی تھی مکہ کے واسطے تیرا بندہ ہوں اور نبی ہوں جیسے ابراہیم نے دعا کی تھی مکہ کے لئے اور اتنی اور اس کے ساتھ(اشارہ کرکے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے چھوٹے بچے کو جو موجود ہوتا بلاتے اور وہ میوہ اس کو دے دیتے ۔

1600یحنس جو مولیٰ تھا زبیر بن عوام کا نقل کرتا ہے میں بیٹھا تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اتنے میں ایک لونڈی آئی ان کی اور بولی میں مدینہ سے نکلنا چاہتی ہوں اے ابوعبدالرحمن کیونکہ یہاں سختیاں ہیں اور وہ زمانہ فساد کا تھا مدینہ میں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بیٹھ نالائق میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے مدینہ کی تکلیف اور سختیوں پر جو صبر کرے گا میں اس کا قیامت کے روز گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔

1601جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر اس کو بخار آنے لگا مدینہ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت تور دیجئے آپ نے انکار کیا پھر آیا اور کہا میری بیعت تور دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا وہ مدینہ سے نکل گیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ مثل دھونکنی یا کھریا (بھٹی) ہے کہ جو میل نکال دیتی ہے اور خالص کندن رکھ لیتی ہے ۔

1602ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ہوا جو بہت سی بستیوں کو کھا جائے گی لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے برے آدمیوں کو نکال باہر کرتا ہے جیسے کھریا لوہے کا میل نکال دیتی ہے ۔

1603عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ کوئی شخص مدینہ سے نفرت کرکے نہیں نکلتا مگر اللہ جل جلالہ اس سے بہتر دوسرا آدمی مدینہ کو دے دیتا ہے ۔

1604سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے کہ فتح ہوگا یمن وہاں سے لوگ سیر کرتے ہوئے مدینہ کو آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کے ساتھ جائے گا مدینہ سے سے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور فتح ہوگا شام وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور عراق فتح ہوگا وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے۔

1605ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے البتہ تم چھوڑ دو گے مدینہ کو اچھے حال میں یہاں تک کہ آئے گا اس میں کتا یا بھیڑیا تو پیشاب کیا کرے گا مسجد کے کھمبوں یا منبر پر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس زمانے میں مدینہ کے پھلوں کو کون کھائے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو جانور بھولے ہوں گے پرندے اور درندے ۔ عمر بن عبدالعزیز جب مدینہ سے نکلے تو مدینہ کی طرف دیکھ کر روئے اور اپنے غلام مزاحم سے کہنے لگے کہ شاید تم اور ہم ان لوگوں میں سے ہوں جن کو مدینہ نے نکال دیا۔

1607انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد کا پہاڑ دکھائی دیا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم بھی اس کو چاہتے ہیں اے میرے رب! ابراہیم نے حرام کیا مکہ کو اور میں حرام کرتا ہوں مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان لڑائی کو ۔

1608ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے اگر میں ہرنوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں ۔

1609ابو ایوب انصاری نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا ۔ کہا مالک نے ابوایوب نے یہ کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے پاس زید بن ثابت آئے اور میں اسواف میں تھا اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا ۔

1611حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے ۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی ) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے ) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں ) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے ۔

1613ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی راہوں پر فرشتے ہیں اس میں نہ طاعون آتا ہے نہ دجال ۔

1614عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری کلام یہ فرمایا اللہ جل جلالہ تباہ کرے یہود اور نصاری کو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔

1615ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رہیں ۔

1616عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا احد کو دیکھ کر کہ یہ پہاڑ ہم کو چاہتا ہے ہم بھی اسے چاہتے ہیں ۔

1617اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے ، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا جب عبداللہ بن عیاش لوٹ کر چلے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلایا اور کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ وہ حرم ہے اللہ کا اور امن کی جگہ ہے اور وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم کا نہیں پوچھتا (بلکہ ان دونوں میں کون سا افضل ہے) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے، عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا حرم ہے اور امن کی جگہ ہے وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم میں کچھ نہیں کہتا پھر عبداللہ بن عیاش چلے گئے۔

1618عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف نکلے جب سرغ(ایک بستی ہے) میں پہنچے تو لشکر کے بڑے بڑے افسران سے ملے جیسے ابوعیبدہ بن جراح اور ان کے ساتھی انہوں نے کہا شام میں آج کل وباء ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ بلاؤ بڑے بڑے مہاجرین کو جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہے تو بلایا ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور بیان کیا ان سے کہ شام میں وباء ہو رہی ہے انہوں نے اختلاف کیا بعضوں نے کہا آپ کام کے واسطے نکلے ہیں لوٹنا مناسب نہیں ہے بعضوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی ہیں اور صحابہ ہیں مناسب نہیں کہ آپ ان کو اس وبا میں لے جائیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جاؤ اور کہا بلاؤ انصار کو ابن عباس کہتے ہیں میں نے انصار کو بلایا اور وہ آئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین کی مثل بیان کی اور اسی طرح اختلاف کیا آپ نے کہا جاؤ۔ پھر کہا قریش کے بوڑھے بوڑھے لوگوں کو جہنوں نے ہجرت کی فتح مکہ کے بعد بلاؤ، میں نے ان کو بلایا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کیا بلکہ سب نے کہا ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ آپ لوٹ جائیں اور لوگوں کو اس وباء میں نہ لے جائیے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں میں منادی کرادی کہ صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر چلے اور اس وقت ابوعیبدہ نے کہا کہ اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے بھاگے جاتے ہو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم بھاگتے ہیں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سر سبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اگر تو اپنے اونٹوں کو سر سبز اور شاداب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو تو نے خشک اور خراب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اتنے میں عبدالرحمن بن عوف آئے اور وہ کہیں کام کو گئے ہوئے تھے انہوں نے کہا میں اس مسئلے کا عالم ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں وباء ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی سر زمین میں وبا پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں کہا ابن عباس نے کہ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی اور لوٹ کھڑے ہوئے ۔

1619سعد بن ابی وقاص نے اسامہ بن زید سے پوچھا تم نے کیا سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بھیجا گیا تھا بنی اسرائیل کے گروہ پر یا یہ کہا کہ ان پر جو تم سے پہلے تھے تو جب سنو تم کسی زمین میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں طاعون پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں ابوالنصر نے کہا نہ نکلو بھاگنے کے قصد سے ۔

1620عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف نکلے جب سرع میں پہنچے ان کو خبر ملی شام میں وبا پڑی ہے تو عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا رسول اللہ نے فرمایا کہ جب کسی زمین میں سنو کہ وبا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وبا پڑے اس زمین میں جس میں تم ہو تو اس سے نکل نہ بھاگو یہ سن کر حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے عبدالرحمن بن عوف کی حدیث سن کر امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک گھر رکبہ میں (ایک مقام ہے درمیان میں عمرہ اور ذات عرق کے) پسند ہے مجھ کو شام میں دس گھروں سے ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath