حدیث
واپس

موطا ملک 42 · Drinks

1537سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے اور کہا میں نے فلانے کے منہ سے شراب کی بو پائی وہ کہتا ہے میں طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہو جائے مثلا دو ثلث جل جائے ایک ثلث رہ جائے) پی اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی ۔

1538ثور بن زید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے صحابہ سے مشورہ لیا خمر کی حد میں (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی حد معین نہیں کی تھی) حضرت علی نے فرمایا میرے نزدیک اسی کوڑے لگانے مناسب ہیں کیونکہ آدمی جب شراب پیے گا مست ہو جائے گا اور جب مست ہو جائے گا واہیات بکے گا اور جب واہیات بکے گا تو کسی کو گالی بھی دے گا ایسا ہی کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کوڑے مقرر کئے خمر میں۔

1539ابن شہاب سے پوچھا گیا غلام اگر شراب پیے تو اس کی کیا حد ہے انہوں نے کہا مجھے یہ پہنچا کہ غلام پر آزاد کی نصف حد ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلاموں کو آزاد کے نصف حد لگائی ۔

1540سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ کوئی گناہ نہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ معاف کر دیا جائے سوائے حد کے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی ایسی شراب پئے جس میں نشہ ہو تو اس کو حد پڑے گی خواہ اس کو نشہ ہوا ہو یا نہ ہواہو۔

1541عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوے میں خطبہ پڑھا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا سننے کے واسطے لیکن میرے پہنچنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو گئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا لوگوں نے کہا منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ بھگونے سے توبنے اور مرتبان میں ۔

1542ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا میوہ تر کرنے سے توبنے اور مرتبان میں۔

1543عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ گدر کھجور اور پکی کھجور ملا کر بھگوئی جائیں یا کھجور اور انگور ملا کر بھگوئے جائیں ۔ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور اور انگور کے ملا کر نیبذ پینے سے اور گدر اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ پینے سے۔ کہا مالک نے اس امر پر اتفاق کیا ہے ہمارے شہر کے علماء نے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے۔

1545حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا بتع ( شہد کی شراب) کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے۔

1546عطاء بن یسار سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہتر نہیں ہے اور منع کیا اس سے ۔

1547عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پئے گا پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا ۔

1548ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ایک مشک شراب کی تحفہ لایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے وہ بولا مجھے خبر نہیں، ایک شخص نے چپکے سے اس کے کان میں کچھ کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تو نے کیا کہا؟ وہ بولا میں نے بیچ ڈالنے کو کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا یہ سن کر اس شخص نے مشک کا منہ کھول دیا سب شراب بہہ گئی ۔

1549انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں ابوعیبد بن جراح اور ابی بن کعب کو شراب پلایا کرتا تھا کھجور اور خشک کھجور کی اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا شراب حرام ہوگئی، ابوطلحہ نے کہا اے انس اٹھو گھڑے پھوڑ دو میں اٹھا اور موسل سے مار کر سب گھڑوں کو پھوڑ دیا ۔

1550حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے بھاری ہونے کا بیان کیا اور کہا بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا آپ نے کہاشہد پیو انہوں نے کہا شہد موافق نہیں ایک شخص بولا ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو آپ نے کہا ہاں، انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے انہوں نے انگلی ڈالی جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ نے فرمایا یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے پینے کی اجازت دی عبادہ بن صامت نے کہا آپ نے حلال کر دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں قسم اللہ کی یا اللہ میں نے کبھی اس چیز کو حلال نہیں کیا جس کو تو نے حرام کیا اور نہ حرام کیا جس کو تو نے حلال کیا ۔

1551عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے لوگوں نے کہا ہم کھجور اور انگور کے پھل خریدتے ہیں پھر اس کی شراب بنا کر بیچتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور فرشتوں کو اور جو سنتے ہیں جن اور آدمی کہ میں اجازت نہیں دیتا تم کو بیچنے کی نہ خریدنے کی نہ نچوڑنے کی نہ پینے کی نہ پلانے کی کیونکہ شراب پلید ہے شیطان کا کام ہے۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath