حدیث
واپس

موطا ملک 2 · Purity

32عمرو بن یحیی المازنی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو دادا ہیں عمرو بن یحیی کے اور اصحاب میں سے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا تم مجھ کو دکھا سکتے ہو کس طرح وضو کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا انہوں نے ہاں تو منگایا انہوں نے پانی وضو کا پھر ڈالا اس کو اپنے ہاتھ پر اور دھویا دونوں ہاتھوں کو دو دو بار پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہینوں تک دو دو بار پھر مسح کیا سر کا دونوں ہاتھوں سے آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے یعنی دونوں ہاتھوں سے مسح شروع کیا پیشانی سے گدی تک پھر لائے گدی سے پیشانی تک پھر دونوں پیر دھوئے ۔

33ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وضو کرے تم میں سے کوئی تو پانی ڈال کر چھینکے اور ڈھیلے لے واسطے استنجاء کے تو طاق لے ۔

35ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص وضو کرے تو ناک چھنکے اور جو ڈھیلے لے تو طاق لے ۔ کہا یحیی نے سنا میں نے مالک سے کہتے تھے اگر کوئی شخص ایک ہی چلو لے کر کلی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے ۔ امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن ابی ابکر صدیق گئے ام المومنین کے پاس جس دن مرے سعد بن ابی وقاص تو منگایا عبدالرحمن نے پانی وضو کا پس کہا عائشہ نے پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے ۔

36عبدالرحمن بن عثمان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو ۔ کہا یحی نے پوچھا گیا امام مالک سے اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا تو بھول کر قبل کلی کرنے کے منہ دھو لیا یا پہلے ہاتھ دھو لئے اور منہ نہ دھویا کہا امام مالک نے جس شخص نے منہ دھو لیا کلی کرنے سے پیشتر تو وہ کلی کر لے اور دوبارہ منہ نہ دھوئے لیکن جس نے ہاتھ دھولئے منہ دھونے سے پیشتر تو اس کو چاہئے کہ منہ دھو کر ہاتھوں کو دوبارہ دھوئے تاکہ دھونا ہاتھ کا بعد دھونے منہ کے ہو جائے جب تک وضو کرنے والا اپنی جگہ میں ہے یا قریب اس کے ۔ کہا یحیی نے پوچھے گئے امام مالک اس شخص سے جو وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اور نماز پڑھ لی کہا مالک نے ہو گئ نماز اس کی دوبارہ پھر نماز پڑھنا لازم نہیں لیکن آئندہ کی نماز کے واسطے کلی کر لے یا ناک میں پانی ڈال لے ۔

37ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سو کر اٹھے کوئی تم میں سے تو پہلے اپنے ہاتھ دھو کر پانی میں ہاتھ ڈالے اس لئے کہ معلوم نہیں کہا رہی ہتھیلی اس کی ۔

38زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا عمر بن خطاب نے جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے ۔

39زید بن اسلم نے کہا یہ جو فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب اٹھو تم نماز کے لئے تو دھؤو منہ اپنا اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک اور مسح کرو سروں پر اور دھؤو پاؤں اپنے ٹخنوں تک اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لئے سو کر ۔

40ابن عمر سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔

41ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو کہا اس نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاک ہے پانی اس کا حلال ہے مردہ اس کا ۔

42کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ انصاری گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لئے پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو ابوقتادہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے دیکھ لیا ابوقتادہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں تو پوچھا ابوقتادہ نے کیا تعجب کرتی ہو؟ اے بھتیجی میری میں نے کہا ہاں۔ تو کہا ابوقتادہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی ناپاک نہیں ہے وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر ۔

43یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔

44عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ مرد اور عورتیں وضو کرتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اکٹھا۔

45ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولد نے پوچھا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ میرا دامن نیچا اور لمبا رہتا ہے اور ناپاک جگہ میں چلنے کا اتفاق ہوتا ہے تو کہا ام سلمہ نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاک کرتا ہے اس کو جو بعد اس کے ہے

46امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کو دیکھا کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے پھر وضو نہیں کیا اور نماز پڑھ لی۔

47نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے خوشبو لگائی سعید بن زید کے بچے کو جو میت تھا اور اٹھایا اس کو پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔

48عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست کا گوشت بکری کا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔

49سوید بن النعمان سے روایت ہے کہ وہ ساتھ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس سال جنگ خبیر ہوئی یہاں تک کہ جب پہنچے صہبا میں پیچھے کی جانب خبیر سے مدینہ کی طرف اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ پھر عصر کی نماز پڑھی اور مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توشہ تو نہ آیا مگر ستو پس حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھولنے کا سو کھولا گیا پھر کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ہم لوگوں نے پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب کے لئے کلی کی اور ہم نے بھی کلیاں کر لیں پھر نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور وضو نہ کیا ۔

50ربیعہ بن عبداللہ نے حضرت عمر کے ساتھ شام کا کھانا کھایا پھر حضرت عمر نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔

51ابان بن عثمان سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان نے روٹی اور گوشت کھا کر کلی کی اور ہاتھ دھو کر منہ پونچھا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی اور عبداللہ بن عباس سے کہ وہ دونوں وضو نہ کرتے تھے اس کھانے سے جو آگ سے پکا ہو ۔

53یحیی بن سعید نے پوچھا عبداللہ بن عامر سے کہ ایک شخص وضو کرے نماز کے لئے پھر کھائے وہ کھانا جو پکا ہوا ہو آگ سے کیا وضو کرے۔ دوبارہ کہا عبداللہ نے کہ دیکھا میں نے اپنے باپ عامر بن ربیعہ بن کعب بن مالک کو کہ وہ آگ کا پکا ہوا کھانا کھاتے پھر وضو نہیں کرتے تھے ۔

54ابو نعیم وہب بن کیسان نے سنا جابر بن عبداللہ سے کہ انہوں نے دیکھا ابوبکر صدیق کو گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔

55محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی گوشت پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ،۔

56عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ انس بن مالک جب آئے عراق تو گئے ان کی ملاقات کو ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو سامنے کیا انس نے ان دونوں کے کھانا جو پکا ہوا تھا آگ سے پھر کھایا سب نے تو اٹھے انس اور وضو کیا پس کہا ابوطلحہ اور ابی بن کعب نے کہ کھانا کھا کر وضو کرنا کیا تم نے عراق سے سیکھا ہے پس کہا انس نے کاش میں وضو نہ کرتا اور کھڑے ہوئے ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو نماز پڑھی دونوں نے اور وضو نہ کیا ۔

57عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا استنجاء کے بارے میں تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہیں پاتا کوئی تم میں سے تین پتھروں کو ۔

58ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے مقبرہ کو سو کہا سلام ہے تمہارے پر اے قوم مومنوں کی اور ہم اگر اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں تمنا کی میں نے کہ میں دیکھ لوں اپنے بھائیوں کو تو کہا صحابہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نہیں ہیں ہم بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم بھائیوں سے بڑھ کر اصحاب ہو میرے اور بھائی میرے وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے دنیا میں اور میں قیامت کے روز ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تب کہا صحابہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر پہچانیں گے ان لوگوں کو قیامت کے روز جو دنیا میں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہوں گے امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ کو بتلاؤ کہ کسی شخص کے سفید منہ اور سفید پاؤں کے گھوڑے خالص مشکی گھوڑوں میں مل جائیں کیا وہ اپنے گھوڑے نہ پہچانے گا کہا صحابہ نے پہچانے گا پس فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے روز بھائی میرے آئیں گے چمکتے ہوں گے منہ اور پاؤں ان کے وضو سے اور میں ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تو ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص نکالا جائے میرے حوض سے جیسے نکالا جاتا ہے وہ اونٹ جو اپنے مالک سے چھٹ گیا ہو تو پکاروں گا میں ان کو ادھر آؤ ادھر آؤ کہا جائے گا مجھ سے کہ ان لوگوں نے بدل دیا سنت تیری کو بعد تیرے تب میں کہنے لگوں گا دور ہو دور ہو ۔

59روایت ہے حمران سے جو غلام ہیں عثمان بن عفان کے کہ عثمان بن عفان بیٹھے تھے چبوترہ پر اتنے میں مؤذن آیا اور نماز عصر کی خبر دی حضرت عثمان نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر کہا کہ اللہ کی قسم میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اگر وہ حدیث اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو میں بیان نہ کرتا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ کوئی آدمی نہیں ہے کہ وضو کرے اچھی طرح پھر نماز پڑھے مگر جتنے گناہ اس کے اس کی نماز سے لے کر دوسری نماز تک ہوں گے معاف کر دئیے جائیں گے یہاں تک کہ دوسری نماز پڑھے ۔

60روایت ہے عبداللہ صنابحی سے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مومن پھر کلی کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے منہ سے پھر جس وقت ناک صاف کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کی ناک سے پھر جس وقت منہ دھوتا ہے نکل جاتے ہیں اس کے منہ سے یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں پلکوں کے اگنے کی جگہ یعنی پپوٹوں سے پھر جس وقت مسح کرتا ہے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے دونوں کانوں سے پھر جس وقت پاؤں دھوتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخنوں سے پھر چلنا اس کا مسجد کی طرف اور نماز الگ ہے یعنی اس کا ثواب جدا گانہ ہے۔

61روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مسلمان یا مومن پھر دھوتا ہے منہ اپنا نکل جاتا ہے اس کے منہ سے وہ گناہ جو دیکھا تھا اس نے اپنی آنکھوں سے ساتھ پانی کے یا سات اخیر قطرہ کے پانی سے پھر جب ہاتھ دھوتا ہے نکل جاتا ہے اس کے ہاتھوں سے جو گناہ کہ پکڑا تھا اس کے ہاتھوں نے ساتھ پانی کے یا ساتھ اخیر قطرے پانی کے پھر جب دھوتا ہے وہ پاؤں اپنے نکل جاتا ہے جو گناہ کہ چلے تھے اس کے لئے پاؤں اس کے ساتھ پانی یا ساتھ آخر قطرے پانی کے یہاں تک کہ نکل آتا ہے پاک صاف گناہوں سے ۔

62انس بن مالک سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریب آگیا عصر کا وقت پس ڈھونڈا لوگوں نے پانی وضو کے لئے مگر نہ پایا اور ایک برتن میں پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا وضو کرنے کا انس کہتے ہیں کہ میں دیکھتا تھا پانی کا فوارہ نکلتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھر وضو کر لیا لوگوں نے یہاں تک کہ جو سب سے اخیر میں تھا اس نے بھی وضو کر لیا ۔

63نعیم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے جس نے وضو کیا اچھی طرح پھر نکلا نماز کی نیت سے تو وہ گویا نماز میں ہے جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے تو جب کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہو کہا انہوں نے کیوں اے ابوہریرہ کہا اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے

64سعید بن مسیب سوال کئے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے ۔

66ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پی جائے کتا تمہارے کسی برتن میں تو دھوئے اس کو سات بار۔ مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھی راہ پر رہو اور نہ شمار کر سکو گے اس کے ثواب کا یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی اور سب کاموں میں تمہارے بہتر نماز ہے اور نہیں محافظت کرے گا وضو پر مگر مومن ۔

68عبداللہ بن عمر اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے ۔ مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے ۔

69عروہ بن زبیر عمامہ سر سے اتار کر سر پر مسح کرتے تھے ۔

70نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں عبداللہ بن عمر کی اتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے اور نافع اس وقت نابالغ تھے ۔

71مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے حاجت ضروری کو جنگ تبوک میں تو میں نے پانی ساتھ لے کر گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈالا تو دھویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ اپنا پھر نکالنے لگے ہاتھ اپنے جبہ کی آستینوں سے مگر وہ اس قدر تنگ تھیں کہ ہاتھ نہ نکل سکے آخر نکالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے اور ہاتھ دھوئے اور مسح کیا سر پر اور موزوں پر پھر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عبدالرحمن بن عوف امامت کر رہے تھے اور ایک رکعت ہو چکی تھی پس پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت جو باقی تھی عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے اور لوگ گھبرائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ اچھا کیا تم نے ۔

72نافع اور عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے کوفے میں سعد بن ابی وقاص پر اور وہ حاکم تھے کوفہ کے تو دیکھا ان کو عبداللہ نے کہ مسح کرتے ہیں موزوں پر پس انکار کیا اس فعل کا عبداللہ نے۔ کہا سعد نے تم اپنے باپ سے پوچھنا جب جانا تو جب آئے عبداللہ بھول گئے پوچھنا اپنے باپ سے یہاں تک کہ سعد آئے اور انہوں نے کہا ذکر کیا تم نے اپنے باپ سے پوچھا تھا عبداللہ نے کہا نہیں پھر پوچھا عبداللہ نے تو فرمایا حضرت عمر نے جب ڈالے تو پاؤں اپنے موزوں کے اندر اور پاؤں پاک ہوں تو مسح کر موزوں پر کہا عبداللہ نے اگرچہ ہم پائخانہ سے ہو کر آئیں کہا ہاں اگرچہ کوئی تم میں سے پائخانہ سے ہو کر آئے ۔

73نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے پیشاب کیا بازار میں پھر وضو کیا اور دھویا منہ اور ہاتھوں کو اپنے اور مسح کیا سر پر پھر بلائے گئے جنازہ کی نماز کے لئے جب جا چکے مسجد میں تو مسح کیا موزوں پر پھر نماز پڑھی جنازہ پر ۔

74سعید بن عبدالرحمن نے دیکھا انس بن مالک کو آئے وہ قبا کو تو پیشاب کیا پھر لایا گیا پانی وضو کا تو وضو کیا دھویا منہ کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کیا سر پر اور مسح کیا موزوں پر پھر مسجد میں آ کر نماز پڑھی۔

75ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کو دیکھا جب مسح کرتے موزوں پر تو مسح کرتے موزوں کی پشت پر نہ کہ اندر کی جانب۔

78نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نکسیر پھوٹتی ان کی نماز میں پھر آتے اور وضو کر کے لوٹ جاتے پھر بنا کرتے اور بات نہ کرتے۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عباس کے نکسیر پھوٹتی تو باہر جا کر خون دھوتے پھر لوٹ کر بنا کر لیتے جس قدر کہ پڑھ چکے تھے ۔

79یزید بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کے نکسیر پھوٹی نماز میں تو آئے حجرہ میں ام سلمہ کے جو بی بی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر لایا گیا پانی وضو کا تو وضو کیا پھر لوٹ گئے اور بنا کرلی نماز اپنی سابق پر ۔

82مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ وہ گئے حضرت عمر کے پاس اس رات کو جس میں وہ زخمی ہوئے تھے تو جگائے گئے حضرت عمر نماز صبح کے واسطے پس فرمایا کہ ہاں اور اچھا نہیں حصہ اس شخص کا اسلام میں جو ترک کرے نماز کو تو نماز پڑھی حضرت عمر نے اور زخم سے ان کے خوں بہتا تھا۔

83یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ جس شخص کا خون نکسیر پھوٹنے سے جاری رہے اور خون بند نہ ہو تو اس کے حق میں تم کیا کہتے ہو یحیی بن سعید نے پھر کہا سعید بن مسیب نے کہ میرے نزدیک نماز اشارہ سے پڑھ لے ۔

84مقداد بن الاسود کو حکم کیا حضرت علی نے کہ پوچھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی مرد نزدیکی کرے اپنی عورت سے اور نکل آئے مذی تو کیا لازم ہوتا ہے اس شخص پر؟ کہا علی نے کہ آنحضرت کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں اس سبب سے مجھے پوچھنے میں شرم آتی ہے تو پوچھا مقداد نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو دھو ڈالو ذکر کو پانی سے اور وضو کرے جیسے وضو ہوتا ہے نماز کے لئے ۔

85اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے کہا مذی اس طرح گرتی ہے مجھ سے جیسے بلور کا دانہ تو جب ایسا اتفاق ہو تم میں کسی کو تو دھو ڈالے اپنے ذکر کو اور وضو کرے جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لئے ۔

86جندب سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے عبداللہ بن عمر سے مذی کا حکم تو کہا انہوں نے جب دیکھے تو مذی کو دھو ڈال ذکر کو اپنے اور وضو کر جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لئے ۔

87یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب سے پوچھا ایک شخص نے اور میں سنتا تھا کہ مجھے تری معلوم ہوتی ہے نماز میں کیا توڑ دوں میں نماز کو تو کہا سعید نے کہ اگر بہہ آئے میری ران تک تو نہ توڑوں میں نماز کو یہاں تک کہ تمام کروں نماز کو۔

88صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سلیمان بن یسار سے کہ تری پاتا ہوں میں۔ کہا پانی چھڑک لے اپنے تہبند یا ازار پر اور غافل ہو جا اس سے یعنی اس کا خیال مت کر اور بھلادے اس کو۔

89عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا عروہ بن زبیر سے کہ میں گیا مروان بن الحکم کے پاس اور ذکر کیا ہم نے ان چیزوں کا جن سے وضو لازم آتا ہے عروہ نے کہا میں اس کو نہیں جانتا مروان نے کہا مجھے خبر دی بسرہ بنت صفوان نے اس نے سنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جب چھوئے تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو تو وضو کرے ۔

90مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ میں کلام اللہ لئے رہتا تھا اور سعد بن ابی وقاص پڑھتے تھے ایک روز میں نے کھجایا تو سعد نے کہا کہ شاید تو نے اپنے ذکر کو چھوا میں نے کہا ہاں تو سعد نے کہا اٹھ وضو کو سو میں کھڑا ہوا اور وضو کیا پھر آیا۔

91نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب چھوئے تم میں سے کوئی ذکر اپنا تو واجب ہوا اس پر وضو

92عروہ بن زبیر کہتے تھے جو شخص چھوئے ذکر کو اپنے تو واجب ہوا اس پر وضو ۔

93سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا اپنے باپ عبداللہ بن عمر کو غسل کر کے پھر وضو کرتے ہیں تو پوچھا میں نے اے باپ میرے کیا غسل کافی نہیں ہے وضو سے کہا ہاں کافی ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعد غسل کے چھو لیتا ہوں ذکر اپنا تو وضو کرتا ہوں ۔

94سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سفر میں ساتھ تھا عبداللہ بن عمر کے تو دیکھا میں نے جب آفتاب نکلا تو وضو کیا انہوں نے اور نماز پڑھی میں نے کہا کہ آج آپ نے ایسی نماز پڑھی جس کو آپ نہ پڑھتے تھے کہا عبداللہ بن عمر نے کہ آج میں نے وضو کر کے اپنے ذکر کو چھو لیا تھا پھر وضو کرنا بھول گیا اور نماز صبح کی میں نے پڑھ لی اس لئے میں نے اب وضو کیا اور نماز کو دوبارہ پڑھ لیا۔

95عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ بوسہ لینا مرد کا اپنی عورت کو اور چھونا اس کا ہاتھ سے ملامست میں داخل ہے تو جو شخص بوسہ لے اپنی عورت کا یا چھوئے اس کو اپنے ہاتھ سے تو اس پر وضو ہے ۔ مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہتے تھے بوسہ سے مرد کے اپنی عورت کو وضو لازم آتا ہے ۔

97ابن شہاب زہری کہتے تھے بوسہ سے مرد کے اپنی عورت کو وضو لازم آتا ہے۔

98ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ آنحضرت جب غسل کرتے جنابت سے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو کرتے جیسے وضو ہوتا ہے نماز کے لئے پھر انگلیاں اپنی پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا انگلیوں سے خلال کرتے پھر اپنے سر پر تین چلو دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالتے پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے ۔

99حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے اس برتن میں جس میں تین صاع پانی آتا تھا جنابت سے۔

100نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب غسل جنابت شروع کرتے تو پہلے اپنا داہنا ہاتھ پانی ڈال کر دھوتے پھر اپنی شرمگاہ دھوتے پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے پھر منہ دھوتے اور آنکھوں کے اندر پانی مارتے پھر داہنا ہاتھ دھوتے پھر بایاں ہاتھ دھوتے پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کرتے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عائشہ ام المومنین سے پوچھا گیا کس طرح غسل کرے عورت جنابت سے کہا کہ ڈالے اپنے سر پر تین چلو دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر اور ملے اپنے سر کر دونوں ہاتھوں سے ۔

102سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عائشہ کا قول یہی تھا کہ جب مس کرے ختنہ ختنہ سے یعنی سر ذکر عورت کی قبل میں غائب ہو جائے تو واجب ہوا غسل ۔

103ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں نے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے تو کہا حضرت عائشہ نے کہ تو جانتا ہے اپنی صفت کو اے ابوسلمہ صفت تیری مثل چوزہ مرغ کے ہے جب مرغ کو بانگ کرتے سنتا ہے تو آپ بھی بانگ کرنے لگتا ہے جب تجاوز کرے ختنہ ختنے سے تو واجب ہوا غسل ۔

104سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری آئے حضرت عائشہ کے پاس اور کہا ان سے کہ بہت سخت گزرا مجھ کو اختلاف صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مسئلے میں شرماتا ہوں کہ ذکر کروں اس کو تمہارے سامنے تو فرمایا عائشہ نے کہ کیا ہے وہ مسئلہ جو تو اپنی ماں سے پوچھ لے مجھ سے کہا ابوموسیٰ نے کوئی جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے اس نے کہا کہ جب تجاوز کر جائے ختنہ ختنے سے واجب ہوا غسل کہا ابوموسیٰ نے کہ اب نہ پوچھوں گا اس مسئلے کو کسی سے بعد تمہارے ۔

105محمود بن لبید انصاری نے پوچھا زید بن ثابت انصاری سے کہا ایک شخص جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو کہا زید نے غسل کرے کہا محمود نے کہ ابی بن کعب اس صورت میں غسل کو واجب نہیں جانتے تھے کہا زید نے کہ ابی بن کعب قبل موت کے پھر گئے اس قول سے ۔

106عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب تجاوز کرے ختنہ ختنہ سے واجب ہوا غسل ۔

107عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ذکر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اسے رات کو نہانے کی حاجت ہوتی ہے تو فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرلے اور دھولے ذکر اپنے کو پھر سو جائے۔

108حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں جب کوئی تم میں سے جماع کرے اپنی عورت سے پھر سونا چاہے قبل غسل کرے تو یہ سوئے یہاں تک کہ وضو کر لے جیسے کہ وضو ہوتا ہے نماز کے لئے۔

109عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب سو رہنے یا کھانے کا ارادہ رکھتے حالت جنابت میں منہ دھوتے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور سر پر مسح کرتے پھر کھانا کھاتے یا سو رہتے ۔

110عطا بن یسار سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی کسی نماز میں نمازوں میں سے پھر اشارہ کیا مقتدیوں کو اپنے ہاتھ سے اس بات کا کہ اپنی جائے پر جمے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے گھر میں بعد اس کے لوٹ کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر پانی کے نشان تھے ۔

111زیبد بن صلت سے روایت ہے کہ نکلا میں ساتھ عمر بن خطاب کے جرف تک تو دیکھا عمر نے اپنے کپڑے کو اور پایا نشان احتلام کا اور نماز پڑھ چکے تھے بغیر غسل کے تب کہا قسم اللہ کی نہیں دیکھتا ہوں میں اپنے کو مگر مجھے احتلام ہوا اور خبر نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا کہا زبید نے پس غسل کیا حضرت عمر نے اور دھویا جو نشان دکھائی دیا کپڑے میں اور جو نہ دکھائی دیا اس پر پانی چھڑک دیا اور اذان کہی یا اقامت کہی پھر نماز پڑھی جب آفتاب بلند ہو گیا اطمینان سے ۔

112سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب صبح کو گئے اپنی زمین میں جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا پھر کہا میں مبتلا ہو گیا احتلام میں جب سے خلیفہ ہوا پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا

113سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے صبح کی نماز پڑھائی لوگوں کو پھر گئے اپنی زمین کی طرف جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا تو کہا کہ جب سے ہم کھانے لگے چربی نرم ہوگئیں رگیں پھر غسل کیا اور دھویا احتلام کے نشان کو اپنے کپڑے سے اور لوٹا یا نماز کو۔

114یحیی بن عبداللہ بن حاطب سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کیا ساتھ عمر بن خطاب سے کئی شتر سواروں میں ان میں عمرو بن عاص بھی تھے اور عمر بن خطاب رات کو اترے قریب پانی کے تو احتلام ہوا حضرت عمر کو اور صبح قریب تھی اور قافلہ میں پانی نہ تھا تو سوار ہو کے حضرت عمر یہاں تک کہ آئے پانی کے پاس اور دھونے لگے کپڑے اپنے یہاں تک کہ روشنی ہوگئی اور عمر بن عاص نے کہا حضرت عمر سے صبح ہوگئی ہمارے پاس کپڑے ہیں اپنا کپڑا چھوڑ دیجئے دھو ڈالا جائے گا اور ہمارے کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیجئے تو کہا عمر بن خطاب نے کہ تعجب ہے اے عمرو بن عاص کیا تمہارے پاس کپڑے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ سب آدمیوں کے پاس کپڑے ہوں گے قسم اللہ کی اگر میں ایسا کروں تو یہ امر سنت ہو جائے بلکہ دھو ڈالتا ہوں میں یہاں نجاست معلوم ہوتی ہے اور پانی چھڑک دیتا ہوں جہاں نہیں معلوم ہوتی ۔

115عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت دیکھے خواب میں جیسا کہ مرد دیکھتا ہے کیا غسل کرے تو کہا عائشہ نے ام سلیم کو نوج نگوڑی کیا عورت بھی دیکھتی ہے خواب میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاک آلود ہو داہنا ہاتھ تیرا اور کہاں سے ہوتی ہے مشابہت۔

116ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ام سلیم آئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں شرماتا اللہ سچ سے کیا عورت پر بھی غسل ہے جو اس کو احتلام ہو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں جب کہ دیکھے پانی کو ۔

117عبداللہ بن عمر کہتے تھے کچھ مضائقہ نہیں کہ مرد غسل کرے اس پانی سے جو عورت کی طہارت سے بچا ہو جبکہ وہ عورت حیض اور جنابت سے نہ ہو ۔

118عبداللہ بن عمر کو پسینہ آتا کپڑے میں اور وہ جنبی ہوتے تھے پھر اسی کپڑے سے نماز پڑھتے تھے ۔

119ابن عمر کی لونڈیاں ان کے پاؤں دھوتی تھیں اور ان کو جائے نماز اٹھا کر دیتی تھیں حالت حیض میں ۔

120عائشہ سے روایت ہے کہ ہم نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں تو جب پہنچے ہم بیدا یا ذات الجیش کو گلوبند میرا ٹوٹ کر گر پڑا تو ٹھہر گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لئے اور لوگ بھی ٹھہر گئے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور وہاں پانی نہ تھا اور نہ ساتھ لوگوں کے پانی تھا تب لوگ آئے ابوبکر صدیق کے پاس اور کہا کہ دیکھا تم نے کیا عائشہ نے ٹھہرا دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو اور نہ یہاں پانی ہے نہ ہمارے ساتھ پانی ہے تو ابوبکر آئے میرے پاس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے تو کہا ابوبکر نے روک دیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو اور نہ پانی ملتا ہے نہ ان کے پاس پانی ہے کہا عائشہ نے غصہ ہوئے میرے اوپر ابوبکر اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مارنے لگے تو میں ہل جاتی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں نہ ہل سکتی تھی پس سوتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ صبح ہوئی اور پانی نہ تھا تو اتاری اللہ جل جلالہ نے آیت تیمم کی تب کہا اسی دن اسید بن الحضیر نے کہا اے ابوبکر کے گھر والوں یہ کچھ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے یعنی تم سے ہمیشہ ایسی ہی برکتیں اور راحتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہیں کہا عائشہ نے جب ہم چلنے لگے تو وہ گلو بن اس اونٹ کے نیچے سے نکلا جس پر ہم سوار تھے ۔

121نافع کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر جرف سے آئے تو جب پہنچے مربد کو اترے عبداللہ اور متوجہ ہوئے پاک زمین کی طرف تو مسح کیا اپنے منہ کا اور ہاتھوں کا کہنیوں تک پھر نماز پڑھی ۔

122نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تیمم کر تے تھے دونوں کہنیوں تک ۔

123عبدالرحمن بن حرملہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ جنبی نے تیمم کیا پھر پایا پانی کو تو کہا سعید نے کہ جنبی پائے پانی تو اس پر غسل واجب ہوگا آئندہ کے واسطے ۔

124زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کیا درست ہے مجھ کو اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھ اس پر تہ بند اس کے پھر تجھے اختیار ہے تہ بند کے اوپر ۔

125ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت عائشہ لیٹی تھیں ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کپڑے میں اتنے میں کود کر الگ ہو گئیں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شائد حیض آیا تجھ کو کہا ہاں تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھ لے تہ بند اپنے پھر آ کو وہیں لیٹ جا ۔

126نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے بھیجا کسی آدمی کو حضرت عائشہ کے پاس اور کہا پوچھو آیا کہ مرد مباشرت کرے اپنی عورت سے حالت حیض میں تو کہا حضرت عائشہ نے چاہیے کہ باندھ لے تہ بند نیچے کے جسم پر پھر اگر چاہے مباشرت کرے اس سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر اور سلیمان بن یسار پوچھے گئے حائضہ عورت سے جب پاک ہو جائے تو جماع کرے خاوند اس کا قبل غسل کے کہا ان دونوں نے نہیں جب تک غسل نہ کرے ۔

128مرجانہ سے جو ماں ہیں علقمہ کی اور مولاة ہیں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ عورتیں ڈبیوں میں روئی رکھ کر حضرت عائشہ کو دکھانے کو بھیجتی تھیں اور اس روئی میں زردی ہوتی تھی حیض کے خون کی پوچھتی تھیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں تو کہتی تھیں حضرت عائشہ مت جلدی کرو تم نماز میں یہاں تک کہ دیکھو سفید قصہ مراد یہ تھی کہ پاک ہو جاؤ حیض سے ۔

129ام کلثوم سے جو بیٹی ہیں زید بن ثابت کی روایت ہے کہ ان کو خبر پہنچی اس بات کی کہ عورتیں منگاتی ہیں چراغ بیچا بیچ رات کو اور دیکھتی ہیں کہ حیض سے پاک ہوئیں ام کلثوم عیب جانتی تھیں اس بات کو اور کہتی تھیں کہ صحابہ کی عورتیں ایسا نہیں کرتیں تھیں ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کہ انہوں نے عورت حاملہ اگر دیکھے خون کو تو چھوڑ دے نماز کو ۔

131امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ عورت حاملہ اگر دیکھے خون کو تو کہا ابن شہاب نے باز رہے نماز سے ۔

132حضرت عائشہ نے کہا کنگھی کرتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں اور حائضہ ہوتی تھی ۔

133اسما بنت ابی بکر صدیق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اگر ہمارے کپڑے کو خون حیض کا لگ جائے تو کیا کریں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھر جائے کسی ایک کے کپڑے میں تم سے خون حیض کا تو مل ڈالے اس کو پھر دھو ڈالے پانی سے پھر نماز پڑھے اس کپڑے سے ۔

134عائشہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بن ابی حبیش نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پاک نہیں ہوتی ہوں تو کیا چھوڑ دوں نماز کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خون کسی رگ کا ہے اور حیض نہیں ہے تو جب حیض آئے تو چھوڑ دے نماز کو پھر جب مدت گزر جائے تو خون دھو کر نماز پڑھ لے ۔

135ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خون بہا کرتا تھا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تو فتوی پوچھا اسی کے واسطے ام سلمہ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شمار کرے ان دنوں اور راتوں کا جن میں حیض آتا تھا قبل اس بیماری کے تو چھوڑ دے نماز کو اس قدر مدت میں ہر مہینے سے پس جب گز رجائے وہ مدت تو غسل کرے اور ایک کپڑا باندھ لے فرج پر پھر نماز پڑھے ۔

136زینب بن ابی سلمہ نے دیکھا زینب بنت جحش کو جو نکاح میں تھیں عبدالرحمن بن عوف کے ان کو استحاضہ تھا اور وہ غسل کر کے نماز پڑھتی تھیں ۔

137قعقاع بن حکیم اور زید بن اسلم نے سمی کو بھیجا سعید بن مسیب کے پاس کہ پوچھیں ان سے کیوں کر غسل کرے مستحاضہ کہا سعید نے غسل کرے ایک طہر سے دوسرے طہر تک اور وضو کرے ہر نماز کے لئے تو اگر خون بہت آئے تو ایک کپڑا باندھ لے اپنی فرج پر ۔

138عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہا انہوں نے مستحاضہ پر ایک ہی غسل ہے پھر وضو کیا کرے ہر نماز کے لئے ۔

139حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لڑکا لائے سو اس نے پیشاب کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پس منگوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی تو ڈال دیا اس پر ۔

140ام قیس سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کو جس نے نہ کھانا کھایا تھا لے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو بٹھا لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو گود میں اپنی تو پیشاب کر دیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پس منگایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور ڈال دیا اس پر اور نہ دھویا کپڑے کو ۔

141یحیی بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا اور ستر اپنا کھولا پیشاب کے لئے تو غل مچایا لوگوں نے اور بڑا پکارا تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دو اس کو پس چھوڑ دیا لوگوں نے جب وہ پیشاب کر چکا تو حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی کا ڈال دیا گیا اس جگہ پر ۔

142عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے کھڑے پیشاب کرتے ۔

143عبیداللہ بن سباق سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جمعہ کو فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عید کا دن کہا ہے تو غسل کرو اور جس کے پاس خوشبو ہو تو آج کے دن خوشبو لگانا نقصان نہیں ہے اور لازم کرلو تم مسواک کو ۔

144ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مشکل نہ گزرتا میری امت پر تو واجب کر دیتا میں مسواک ان پر ۔

145ابوہریرہ نے کہا اگر شاق نہ ہوتا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے ان کو مسواک کرنے کا ہر وضو کے ساتھ ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath