موطا ملک 24 · Slaughtering Animals
1042عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ بدو لوگ گوشے لے کر ہمارے پاس آتے اور ہم کو نہیں معلوم کہ انہوں نے بسم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہی تھی یا نہیں ذبح کے وقت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بسم اللہ کہہ کے اس کو کھالو ۔ کہا مالک نے یہ حدیث ابتدائے اسلام کی ہے ،۔
1043یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عیاش نے حکم کیا اپنے غلام کو ایک جانور ذبح کرنے کا جب وہ ذبح کرنے لگا تو عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ، غلام نے کہا میں کہہ چکا، پھر عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ خرابی ہو تیرے لئے، غلام نے کہا میں کہہ چکا عبداللہ نے کہا قسم ہے اللہ کی میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا ۔
1044عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری اپنی اونٹنی چرا رہا تھا احد میں، یکایک وہ مرنے لگی تو اس نے ایک دھاری دار لکڑی سے ذبح کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اندیشہ نہیں کھاؤ اس کا گوشت ۔
1045معاذ بن سعد سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی سلع میں، ایک بکری اس سے مرنے لگی تو اس نے پتھر سے ذبح کر دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ حرج نہیں کھاؤ اس کو ۔
1046عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ عرب کے نصاری کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں انہوں نے کہا درست ہے بعد اس کے پڑھا اس آیت کو ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۔ مالک کو پہنچا ہے کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے جو چیز کاٹ دے رگوں کو پس کھا لے اس کو ۔
1048سعید بن مسیب کہتے تھے جس چیز سے ذبح کیا جائے جب وہ کاٹ دے کچھ حرج نہیں کھانے میں اس کے جب ضرورت ہو ۔
1049ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کیا گیا کہ ایک بکری ذبح کرتے وقت تھوڑا سا ہلی؟ ابوہریرہ نے اس کے کھانے کا حکم دیا، پھر ابومرہ نے زید بن ثابت سے پوچھا انہوں نے کہا مردہ بھی ہلتا ہے اور منع کیا اس کے کھانے سے ۔
1050عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب نحر کی جائے اونٹنی تو اس کے پیٹ کے بچے کی بھی زکاة ہو جائے گی بشرطیکہ اس بچے کے تمام اعضا پورے ہو گئے ہوں اور بال بالکل نکل آئے ہوں اگر وہ بچہ پیٹ سے زندہ نکل آئے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے تاکہ خون اس کے پیٹ سے نکل جائے ۔
1051سعید بن مسیب کہتے تھے کہ زکاة پیٹ کے بچہ کی اس کی ماں کی زکات سے ہو جائے گی جب وہ بچہ پورا ہو گیا ہو اور بال نکل آئے ہوں ۔
ذریعہ: Muwatta Malik
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath