حدیث
واپس

موطا ملک 22 · Vows and Oaths

1009عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میری ماں مر گئی اور اس پر ایک نذر واجب تھی اس نے ادا نہیں کی آپ نے فرمایا تو ادا کرو اس کی طرف سے ۔

1010عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اپنی پھوپھی سے انہوں نے بیان کیا کہ ان کی دادی نے نذر کی مسجد قبا میں پیدل جانے کی پھر مر گئیں اور اس نذر کو ادا نہیں کیا تو عبداللہ بن عباس نے ان کی بیٹی کو حکم کیا کہ وہ ان کی طرف سے اس نذر کو ادا کریں ۔

1011عبداللہ بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا ایک شخص سے اور میں کمسن تھا کہ اگر کوئی شخص صرف اتنا ہی کہے کہ علی مشئی الی بیت اللہ یعنی میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور یہ نہیں کہا کہ میرے اوپر نذر ہے پیدل چلنے کی بیت اللہ تک تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا، وہ شخص مجھ سے بولا کہ میرے ہاتھ میں یہ ککڑی ہے تجھے دیتا ہوں تو اتنا کہہ دے کہ میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک میں نے کہا ہاں کہتا ہوں تو میں نے کہہ دیا اور میں کم سن تھا پھر ٹھہر کر تھوڑی دیر میں مجھے عقل آئی اور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تجھ پیدل چلنا بیت اللہ تک واجب ہوا میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور ان سے پوچھا انہوں نے بھی کہا کہ تجھ پر پیدل چلنا واجب ہوا بیت اللہ تک تو میں پیدل چلا بیت اللہ تک ۔

1012عروہ بن اذینه لیثی سے روایت ہے کہ کہا میں نکلا اپنی دادی کے ساتھ اور اس نے نذر کی تھی بیت اللہ تک پیدل جانے کی، راستے میں تھک گئیں تو اپنے غلام کو بھیجا عبداللہ بن عمر کے پاس مسئلہ پوچھنے کو میں بھی ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ اب سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے جہاں سے سوار ہوئی تھیں وہاں سے پیدل چلے ۔ کہا مالک نے اور باوجود اس کے ایک ہدیہ بھی اس پر واجب ہے ۔ سعید بن مسیب اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے اس مسئلہ میں جیسا عبداللہ بن عمر نے کہا ۔

1014یحیی بن سعید نے کہا میں نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر کی تھی میری ناف میں درد ہونے لگا میں سوار ہو کر مکے میں آیا اور عطا بن ابی رباح وغیرہ سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو ہدی لازم ہے جب میں مدینہ آیا وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو دوبارہ پیدل چلنا چاہئے جہاں سے سوار ہوا تھا تو پیدل چلائیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور چلے پھر عاجز ہو جائے تو سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے تو جہاں سے سوار ہوا تھا وہاں سے پیدل چلے اگر چلنے کی طاقت نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے چلے پھر سوار ہو جائے اور ہدی میں ایک اونٹ یا گائے دے اگر نہ ہو سکے تو بکری دے ۔

1015حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے ۔

1016قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک عورت عبداللہ بن عباس کے پاس آئی اور بولی میں نے نذر کی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی ابن عباس نے کہا مت ذبح کر اپنے بیٹے کو اور کفارہ دے اپنی قسم کا ایک شخص بولا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس نذر میں کفارہ کیوں ہوگا ابن عباس نے جواب دیا کہ ظہار بھی ایک معصیت ہے اور اس میں اللہ نے کفارہ مقرر کیا ۔

1017کہا مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا اگر کوئی نذر کرے اللہ کی معصیت کی تو معصیت نہ کرے مراد اس سے یہ ہے کہ مثلا آدمی نذر کرے شام یا مصر یا جدہ یا زبدہ میں جانے کی یا اور کسی کام کی جو ثواب نہیں ہے اگر ایسے امورات میں اس کی قسم ٹوٹے مثلا یوں کہے کہ اگر میں زید سے بات کروں تو مصر جاؤں گا پھر زید سے پات کرے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا بلکہ اس نذر کا پورا کرنا ضرور ہے جس میں ثواب ہو۔

1018حضرت ام المومنین عائشہ فرماتی تھیں کہ لغو قسم وہ ہے جو آدمی باتوں میں کہتا ہے نہیں و اللہ ہاں و اللہ ۔

1019عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قسم کھائے اللہ کی پھر کہے انشاء اللہ پھر نہ کرے اس کام کو جس پر قسم کھائی تھی تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی ۔

1020ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف بہتر معلوم ہو تو کفارہ دے قسم کا اور کرے جو بہتر معلوم ہو ۔

1021عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قسم کھائے پھر اس کو مکرر سہ کرر کہے پھر قسم توڑے تو اس پر ایک بردے کا آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا لازم آئے گا اگر ایک ہی مرتبہ کہے تو دس مسکینوں کو کھانا دے ہر مسکین کو ایک مد گہیوں کا اگر اس پر قدرت نہ ہو تو تین روزے رکھے ۔

1022عبداللہ بن عمر جب اپنی قسم کا کفارہ دیتے تھے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہر مسکین کو ایک مد گہیوں کا دیتے تھے اور جب ایک قسم کو چند بار کہتے تھے تو اتنے ہی بردے آزاد کرتے تھے ۔

1023سلیمان بن یسار نے کہا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جب کفارہ قسم کا دیتے تھے تو ہر ایک مسکین کو ایک مد گہیوں کا چھوٹے مد سے دیا کرتے تھے اور اس کو کافی سمجھتے تھے ۔

1024عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے عمر بن خطاب سے اور وہ جا رہے تھے سواروں میں اور قسم کھا رہے تھے اپنے باپ کی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ منع کرتا ہے تم کو اس بات سے کہ قسم کھاؤ تم اپنے باپو کی جو شخص تم میں سے قسم کھانی چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے ۔ امام مالک کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قسم مقلب القلوب کی ۔

1026ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابولبابہ کی توبہ جب اللہ نے قبول کی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا چھوڑ دوں میں اپنی قوم کے گھر کو جس میں میں نے گناہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہوں اور اپنے مال میں سے صدقہ نکالوں اللہ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی مال تجھ کو اپنے مال میں سے صدقہ نکالنا کافی ہے ۔

1027حضرت عائشہ سے سوال ہوا ایک شخص نے کہا مال میرا کعبہ کے دروازے پر وقف ہے انہوں نے کہا اس میں کفارہ قسم کا لازم آئے گا ۔ کہا مالک نے جو شخص یہ کہے کہ مال میرا اللہ کی راہ میں ہے تو تہائی مال صدقہ کرے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی لبابہ کو ایسا ہی حکم کیا ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath