موطا ملک 17 · Zakat
578ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹوں سے کم میں زکوة نہیں ہے اور پانچ اوقیوں سے جو چاندی کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور پانچ وسق سے جو غلہ کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے ۔
579ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھجور پانچ وسق سے کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوة نہیں ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا اپنے عامل کو دمشق میں کہ زکوة سونے چاندی اور زراعت اور جانوروں میں ہے ۔
581محمد بن عقبہ نے پوچھا قاسم بن محمد بن ابی بکر سے کہ میں نے اپنے مکاتب سے مقاطعت کی ہے ایک مال عظیم پر تو کیا زکوة اس میں واجب ہے قاسم بن محمد نے کہا کہ ابوبکر صدیق کسی مال میں سے زکوة نہ لیتے تھے ۔
582قدامہ بن مظعون سے روایت ہے کہ جب میں عثمان بن عفان کے پاس اپنی سالانہ تنخواہ لینے آیا تو مجھ سے پوچھتے کہ تمہارے پاس کوئی ایسا مال ہے جس پر زکوة واجب ہو اگر میں کہتا ہاں تو تنخواہ میں سے زکوة اس مال کی لے لیتے اور جو کہتا نہیں تو تنخواہ دے دیتے ۔
583نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کسی مال میں زکوة واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر کوئی سال نہ گزرے ۔
585کئی ایک لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر کر دی تھیں بلال بن حارث مزنی کو کانیں قبیلہ کی جو فرح کی طرف ہیں تو ان کانوں سے آج تک کچھ نہیں لیا جاتا سوائے زکوة کے ۔
586ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکاز میں پانچواں حصہ لیا جائے گا ۔
587قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ پرورش کرتی تھیں اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کی یتیم بیٹیوں کی اور ان کے پاس زیور تھا تو نہیں نکالتی تھیں اس میں سے زکوة ۔
588نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے اور ان کے زیوروں میں سے زکوة نہیں نکالتے تھے ۔
589امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب نے فرمایا تجارت کرو یتیموں کے مال میں تاکہ زکوة ان کو تمام نہ کرے ۔
590قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ پرورش کرتی تھیں میری اور میرے بھائی کی دونوں یتیم تھے ان کی گود میں تو نکالتی تھیں ہمارے مالوں میں سے زکوة ۔ ا مام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ یتیموں کا مال تاجر کو دیتی تھیں تاکہ وہ اس میں تجارت کریں ۔
592یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کے یتیم لڑکوں کے واسطے کچھ مال خریدا پھر وہ مال بڑی قیمت کا بکا ۔
593سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان فرماتے تھے یہ مہینہ تمہاری زکوة کا ہے تو جس شخص پر کچھ قرض ہو تو چاہئے کہ قرض اپنا ادا کر دے اور باقی جو مال بچ جائے اس کی زکوة ادا کرے ۔
594ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا ایک مال کے بارے میں (جس کو بعض حکام نے ظلم سے چھین لیا تھا) کہ پھیر دیں اس کو مالک کی طرف اور اس میں سے زکوة ان برسوں کی جو گزر گئے وصول کرلیں اس کے بعد ایک نامہ لکھا کہ زکوة ان برسوں کی نہ لی جائے کیونکہ وہ مال ضمار تھا ۔
595یزید بن خصیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سلیمان بن یسار سے ایک شخص کے پاس مال ہے لیکن اس پر اسی قدر قرض ہے کیا زکوة اس پر واجب ہے بولے نہیں ۔
596زریق بن حیان سے روایت ہے کہ وہ مقرر تھے مصر کے محصول خانہ پر ولید اور سلیمان بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا ان کو جو شخص گزرے اوپر تیرے مسلمانوں میں سے تو جو مال ان کو ظاہر ہو اموال تجارت میں سے تو لے اس میں سے ہر چالیس دینار میں سے ایک دینار یعنی چالیسواں حصہ اور جو چالیس دینار سے کم ہو تو اسی حساب سے بیس دینار تک اگر بیس دینار سے ایک تہائی دینار بھی کم تو اس مال کو چھوڑ دے اس میں سے کچھ نہ لے اور جو تیرے اوپر کوئی ذمی گزرے تو اس کے مال تجارت میں سے ہر بیس دینار میں سے ایک دینار لے جو کم ہو اسی حساب سے دس دینار تک اگر دس دینار سے ایک تہائی دینار بھی کم ہو تو کچھ نہ لے اور جو کچھ تو لے اس کی ایک رسید سال تمام کے واسطے لکھ دے ۔
597عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا عبداللہ بن عمر سے کسی نے پوچھا کنز کسے کہتے ہیں جواب دیا کنز وہ مال ہے جس کی زکوة نہ دی جائے ۔
598ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ کہتے تھے جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اس کی زکوة ادا نہ کرے تو قیامت کے روز وہ مال ایک گنجے سانپ کی صورت بنے گا جس کی دو آنکھوں پر سیاہ داغ ہوں گے اور ڈھونڈے گا اپنے مالک کو یہاں تک کہ پائے گا اس کو پھر کہے گا اس سے میں تیرا مال ہوں جس کی زکوة تو نے نہیں دی تھی ۔
599امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل میں چرتی ہوں جب چالیس تک پہنچ جائیں ایک بکری زکوة کی لازم ہوگی اس سے زیادہ میں تین سو بکریوں تک تین بکریاں بعد اس کے ہر سینکڑے میں ایک بکری دینا ہوگی اور زکوة میں بکرا نہ لیا جائے گا اسی طرح بوڑھے اور عیب دار مگر جب زکوۃ لینے والے کی رائے میں مناسب ہو اور جد اجدا اموال ایک نہ کئے جائیں گے اسی طرح ایک مال جدا جدا نہ کیا جائے گا زکوة کے خوف سے اور جو دو آدمی شریک ہوں تو وہ آپس میں رجوع کر لیں برابر کا حصہ لگا کر اور چاندی میں جب پانچ اوقیہ ہو تو چالیسواں حصہ لازم آئے گا ۔
600طاؤس یمانی سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے تیس گایوں میں سے ایک گائے ایک برس کی لی اور چالیس گایوں میں دو برس کی ایک گائے لی اور اس سے کم میں کچھ نہ لیا اور کہا کہ نہیں سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں یہاں تک کہ پوچھوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پس وفات پائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کے آنے سے پہلے ۔
601سفیان بن عبداللہ کو عمر بن خطاب نے متصدق ( یعنی زکوۃ وصول کرنے والا ) کرکے بھیجا تو وہ بکریوں میں بچوں کو بھی شمار کرتے تھے لوگوں نے کہا تم بچوں کو شمار کرتے ہیں لیکن بچہ لیتے نہیں ہو تو جب آئے وہ عمر بن خطاب کے پاس بیان کیا ان سے یہ امر تو کہا حضرت عمر نے ہاں ہم گنتے ہیں بچوں کو بلکہ اس بچے کو جس کو چرواہا اٹھا کر چلتا ہے لیکن نہیں لیتے اس کو نہ موٹی بکری کو جو کھانے کے واسطے موٹی کی جائے اور نہ اس بکری کو جو اپنے بچے کو پالتی ہو اور نہ حاملہ کو اور نہ نر کو اور لیتے ہیں ہم ایک سال یا دوسال کی بکری ہو جو متوسط ہے نہ بچہ ہے نہ بوڑھی ہے نہ بہت عمدہ ہے ۔
602حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے پاس بکریاں آئیں زکوة کی اس میں ایک بکری دیکھی بہت دودھ والی تو پوچھا آپ نے یہ بکری کیسی ہے لوگوں نے کہا زکوة کی بکری ہے حضرت عمر نے فرمایا کہ اس کے مالک نے کبھی اس کو خوشی سے نہ دیا ہوگا لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالو ان کے بہترین اموال نہ لو اور باز آؤ ان کا رزق چھین لینے سے ۔
603محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ خبر دی مجھ کو دو شخصوں نے قبیلہ اشجع سے کہ محمد بن مسلمہ انصاری آتے تھے زکوة لینے کو تو کہتے تھے صاحب مال سے لاؤ میرے پاس زکوة اپنے مال کی پھر وہ جو بکری لے کر آتا اگر وہ زکوة کے لائق ہوتی تو قبول کر لیتے ۔
604عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوة درست نہیں مالدار کی مگر پانچ آدمیوں کو درست ہے پہلے غازی جو جہاد کرتا ہو اللہ کی راہ میں دوسرے جو عامل ہو زکوة کا یعنی زکوة کو وصول اور تحصیل کرتا ہو تیسرے مدیون یعنی جو قرضدار ہو چوتھے جو زکوة کو خرید لے اپنے مال کے عوض میں پانچویں جو مسکین ہمسایہ کے پاس سے بطور ہدیہ کے آئے ۔
605امام مالک سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ اگر نہ دیں گے رسی بھی اونٹ باندھنے کی تو میں جہاد کروں گا ان پر ۔
607زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا وہاں پر جانور زکوة کے پانی پی رہے تھے لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا تو حضرت عمر نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک عامل نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوة نہیں دیتا عمر نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوة نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوة ادا کر دی بعد اس کے عامل نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوة کو اس شخص سے ۔
608سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بارانی اور زیر چشمہ یا تالاب کی زمین میں اور اس کھجور میں جس کو پانی کی حاجت نہ ہو دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جو زمین پانی سینچ کر ترکی جائے اس میں بیسواں حصہ زکوة کا ہے ۔
609ابن شہاب زہری نے کہا کہ کھجور کی زکوۃ میں جعرور (ایک قسم کی خراب کھجور ہے جو سوکھنے سے کوڑا ہو جاتی ہے) اور مصران الفارہ اور عذق بن حبیق(یہ بھی ردی کھجوروں کی قسم ہیں) نہ لی جائیں گی اور مثال ان کی بکریوں کی سی ہے کہ صاحب مال کے مال کے شمار میں سب قسم کی شمار کی جائیں گی لیکن لی نہ جائیں گی ۔
610امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ زیتون میں کیا واجب ہے بولے دسواں حصہ۔
611ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے مسلمان پر اپنے گھوڑے اور غلام کی زکوة ۔
612سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ شام کے لوگوں نے ابوعبیدہ بن جراح سے کہا کہ ہمارے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوة لیا کرو انہوں نے انکار کیا اور حضرت عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا حضرت عمر نے بھی انکار کیا پھر لوگوں نے دوبارہ ابوعبیدہ سے کہا انہوں نے حضرت عمر کو لکھا حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ اگر وہ لوگ ان چیزوں کی زکوة دینا چاہیں تو اسے ان سے لے کر انہی کے فقیروں کو دے دے اور ان کے غلاموں اور لونڈیوں کی خوراک میں صرف کر ۔
613عبداللہ بن ابی حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا خط میرے باپ کے پاس آیا جب وہ منی میں تھے کہ شہد اور گھوڑے کی زکوة کچھ نہ لے ۔
614عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے سعید بن مسیب سے کہ ترکی گھوڑوں میں زکوة کیا ہے انہوں نے جواب دیا کیا گھوڑوں میں بھی زکوة ہے ۔
615ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے ۔
616امام محمد بن باقر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذکر کیا مجوس کا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کیا کروں ان کے بارے میں تو کہا عبدالرحمن بن عوف نے گواہی دیتا ہوں میں کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے وہ طریقہ برتو جو اہل کتاب سے برتتے ہو ۔
617اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے مقرر کیا جزیہ کو سونے والوں پر ہر سال میں چار دینار اور چاندی والوں پر ہر سال میں چالیس درہم اور ساتھ اس کے یہ بھی تھا کہ بھوکے مسلمانوں کو کھانا کھلائیں اور جو کوئی مسلمان ان کے یہاں آکر اترے تو اس کی تین روز کی ضیافت کریں ۔
618اسلم بن عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب سے کہ شتر خانے میں ایک اندھی اونٹنی ہے تو فرمایا حضرت عمر نے وہ اونٹنی کسی گھروالوں کو دے دے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں میں نے کہا وہ اندھی ہے حضرت عمر نے کہا اس کو اونٹوں کی قطار میں باندھ دیں گے میں نے کہا وہ چارہ کیسے کھائے گی حضرت عمر نے کہا وہ جزیے کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے میں نے کہا وہ جزیے کے حضرت عمر نے کہا و اللہ تم لوگوں نے اس کے کھانے کا ارادہ کیا ہے میں نے کہا نہیں اس پر نشانی جزیہ کی موجود ہے تو حکم کیا حضرت عمر نے اور وہ نحر کی گئی اور حضرت عمر کے پاس نو پیالے تھے جو میوہ یا اچھی چیز آتی آپ ان میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو بھیجا کرتے اور سب سے آخر میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس بھیجتے اگر وہ چیز کم ہوتی تو کمی حفصہ کے حصے میں ہوتی تو پہلے آپ نے گوشت کو پیالوں میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو روانہ کیا بعد اس کے پکانے کا حکم کیا اور سب مہاجرین اور انصار کی دعوت کر دی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا اپنے عاملوں کو جو لوگ جزیہ والوں میں سے مسلمان ہوں ان کا جزیہ معاف کریں ۔
620عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نبط کے کافروں سے گیہوں اور تیل کا بیسواں حصہ لیتے تھے تاکہ مدینہ میں اس کی آمدنی زیادہ ہو اور قطنیہ سے دسواں حصہ لیتے تھے ۔
621سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میں عامل تھا عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں تو ہم لیتے تھے نبط کے کفار سے دسواں حصہ ۔
622امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ حضرت عمر کفار نبط سے دسواں حصہ کیسے لیتے تھے تو ابن شہاب نے کہا کہ ایام جاہلیت میں ان لوگوں سے دسواں حصہ لیا جاتا تھا حضرت عمر نے وہی قائم رکھا ان پر ۔
623اسلم بن عددی سے روایت ہے کہ سنا میں نے عمر بن خطاب سے کہتے تھے میں نے ایک شخص کو عمدہ گھوڑا دے دیا اللہ کی راہ میں مگر اس شخص نے اس کو تباہ کیا تو میں نے قصد کیا کہ پھر اس سے خرید لوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ سستا بیچ ڈالے گا سو پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت خرید اس کو اگرچہ وہ ایک درہم کا تجھے دے دے اس لئے کہ صدقہ دے کر پھر اس کو لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کر کے پھر اس کو کھا لے ۔
624عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر قصد کیا اس کے خرید نے کا تو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو ۔
625نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے ۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے ۔
626عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا اور ایک صاع جَو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے ۔
627عیاض بن عبداللہ نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہم نکالتے تھے صدقہ فطر ایک صاع گیہوں سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع انگور خشک سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع سے ۔
628نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے مگر ایک بار جو دئیے ۔
629نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر بھیج دیا کرتے تھے عید سے دو تین روز پہلے اس شخص کے پاس جہاں صدقہ فطر جمع ہوا کرتا تھا ۔ کہا مالک نے میں نے دیکھا اہل علم کو وہ مستحب جانتے تھے صدقہ فطر کو نکالنا جب فجر ہو عید کی قبل نماز کے ۔
ذریعہ: Muwatta Malik
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath