حدیث
واپس

موطا ملک 12 · The Eclipse Prayer

445حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لوگوں کے پس کھڑے ہوئے بہت دیر تک پھر رکوع کیا بڑی دیر تک پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھایا یا رکوع کیا پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب روشن ہو گیا تھا پھر خطبہ پڑھا اور حمد و ثناء کی اللہ جل جلالہ کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں نشانیاں ہیں پروردگار کی نشانیوں سے کسی کی موت یا زیست کے واسطے ان میں گہن نہیں لگتا تو جب دیکھو تو گہن پس دعا کرو اللہ سے اور تکبیر کہو اور صدقہ دو پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی اللہ جل جلالہ سے کسی کو زیادہ غیرت نہیں ہے اس امر میں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے اے امت محمد اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے تم تھوڑا اور روتے بہت۔

446عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج میں تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں نے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک جیسے سورت بقرہ پڑھنے میں دیر ہوتی ہے پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک رکوع لمبا لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کم پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا تو فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے اور آفتاب روشن ہو گیا تھا پس فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے، نہیں گہن لگتا ان میں سے کسی کی زندگی اور موت سے جب تم ایسا دیکھو تو ذکر کرو اللہ کا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے کسی چیز کو لینے کے لئے پھر پیچھے ہٹ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس دیکھا میں نے جنت کو پس لینا چاہا میں نے اس میں سے ایک گچھا اگر میرے ہاتھ لگ جاتا تو تم اس میں سے کھایا کرتے جب تک دنیا باقی رہتی اور میں نے دیکھا جہنم کو ایسی ہو لناک اور ہیبت صورت کہ کبھی میں نے ایس صورت نہ دیکھی ہے نہ دیکھی تھی اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں صحابہ نے کہا کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کی نا شکری نے ان کو جہنم میں ڈالا کہا صحابہ نے کیا کفر کرتی تھیں ساتھ اللہ کے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کرتی ہیں یعنی نا شکری کرتی ہیں خاوند کی اور بھول جاتی ہیں احسان کو اگر کسی عورت کے ساتھ ساری عمر احسان کرو پھر کوئی رنج اس کو پہنچے تو کہنے لگتی ہے خاوند سے مجھے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پہنچی ۔

447حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت آئی ان کے پاس مانگنے کو تو کہا اس نے اللہ بچائے تجھ کو قبر کے عذاب سے پس پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا لوگوں کو عذاب ہوگا قبروں میں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے اس عذاب سے پھر سوار ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سواری پر سو گہن لگا آفتاب کو اور لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجروں کے پیچھے سے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر قیام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی دیر تک پھر سر اٹھایا اور قیام کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر قیام کیا آپ نے بڑی دیر تک لیکن اول رکعت کے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا باتیں کیں پھر حکم کیا ان کو کہ پناہ مانگیں اللہ سے قبر کے عذاب سے ۔

448اسما بنت ابی بکر سے روایت ہے کہ میں آئی عائشہ کے پاس جس وقت گہن لگا آفتاب کو تو دیکھا میں نے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے اور عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کیا ہوا لوگوں کو تو اشارہ کیا حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا کوئی نشانی ہے انہوں نے اشارہ سے کہا ہاں کہا اسما نے تو میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی اللہ کی اور ثنا کی اس کی پھر فرمایا جو چیز میں نے دیکھی تھی وہ آج میں نے سیکھ لی اس جگہ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا اور مجھے وحی سے معلوم ہوا کہ قبر کے بارے میں تم فتنہ میں پڑ جاؤ گے مثل فتنہ دجال کے یا اس کے قریب معلوم نہیں اسماء نے کیا کہا آئیں گے اس کے پاس فرشتے تو پوچھیں گے اس سے تو کیا سمجھتا ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے یا یقین رکھتا ہے معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے ہمارے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور ہدایت یعنی کلام اللہ لے کر پس قبول کیا ہم نے اور ایمان لائے ہم اور پیروی کی ہم نے ان کی تب فرشتے اس سے کہیں گے سو رہ اچھی طرح ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو مومن ہے اور منافق جس کو شک ہے حضرت کی رسالت میں معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا میں نہیں جانتا لوگوں سے میں نے جو سنا وہ کہا ۔

ذریعہ: Muwatta Malik

WEBREATH · 11:11

«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari

Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.

WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath