موطا ملک 10 · The Two 'Ids
428کہا مالک نے کہ میں نے سنا ہے بہت سارے علماء سے کہتے تھے عید الفطر اور عید الضحی میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک مالک نے کہا ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
429نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کر تے تھے عید فطر کے دن قبل عید گاہ جانے کے۔
430روایت ہے ابن شہاب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے عید الفطر اور عید الضحی کی قبل خطبے کے (یعنی خطبہ عیدین کا بعد نماز عیدین کے) پڑھتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ابوبکر اور عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
432ابو عبید سے جو مولیٰ ہیں عبدالرحمن بن ازہر کے روایت ہے کہ میں حاضر ہوا عید کے روز عمر بن خطاب کے ساتھ تو نماز پڑھی حضرت عمر نے پھر فارغ ہوئے اور خطبہ پڑھا تو کہا کہ یہ دو دن وہ دن ہیں کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے ان دنوں میں یہ عید الفطر کا دن ہے جس دن تم روزہ موقوف کرتے ہو اور عید الضحی وہ دن ہے کہ اس دن اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید نے کہا کہ پھر حاضر ہوا میں عید کو عثمان بن عفان کے ساتھ تو انہوں نے آکر نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ آج کے روزہ دو عید ہیں تو جس شخص کا جی چاہے باہر والوں سے تو ٹھہر جائے جمعہ کے واسطے اور جو چاہے کہ اپنے گھر جائے تو چلا جائے میں نے اجازت دی کہا ابوعبید نے پھر حاضر ہوا میں عید کو ساتھ علی بن ابی طالب کے اور عثمان گھرے ہوئے تھے تو حضرت علی نے آکر نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا ۔
433عروہ بن زبیر عیدالفطر کے روز کھانا کھا لیتے قبل نماز کو جانے کے ۔
434سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم ہوتا تھا کھانا کھا لینے کا قبل نماز کو جانے کے ۔
435عمر بن خطاب نے پوچھا ابوواقد لیثی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سورتیں پڑھتے تھے عیدین میں بو لے سورت قاف اور سورت قمر ۔
436نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت کے ۔
438نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے اور نہ بعد نماز کے ۔ مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب عید گاہ کو جاتے تھے نماز صبح کی پڑھ کر قبل طلوع آفتاب کے ۔
439قاسم بن محمد قبل عیدگا جانے کے چار رکعتیں نفل اپنے گھر میں پڑھ کر جاتے تھے ۔
440عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ وہ نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے مسجد میں ۔
ذریعہ: Muwatta Malik
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath