سنن ابن ماجہ 30 · Chapters on Drinks
3371ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ( جگری دوست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی: شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ۱؎۔
3372خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔
3373عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔
3374ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔
3375ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ۱؎۔
3376ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
3377عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ ( اس کے بعد بھی ) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ ۔
3378ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں: کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۔
3379نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے ۔
3380عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب دس طرح سے ملعون ہے، یہ لعنت خود اس پر ہے، اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کر لے جائی جائے، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر ۔
3381انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا
3382ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
3383عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔
3384ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن یعنی زمانہ ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ میری امت کی ایک جماعت اس میں شراب پئے گی، وہ شراب کا نام بدل دے گی ۱؎۔
3385عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بعض لوگ شراب کا دوسرا نام رکھ کر پئیں گے ۔
3386ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
3387عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
3388عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل مصر کی حدیث ہے۔
3389معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر نشہ لانے والی چیز ہر مومن پر حرام ہے ۔ یہ اہل رقہ کی حدیث ہے۔
3390عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے ۔
3391ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
3392عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
3393جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
3394عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
3395جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
3396ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پکی اور کچی کھجوریں ملا کر نبیذ نہ بناؤ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
3397ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
3398ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
3399عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔
3400جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے ایک پیالے میں نبیذ تیار بنائی جاتی تھی۔
3401ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎۔
3402عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت ( روغنی برتن ) ، اور دباء ( کدو کی تونبی ) میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا۔
3403ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا۔
3404عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم ( کے استعمال ) سے منع فرمایا ہے۔
3405بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب ان میں نبیذ تیار کر سکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
3406عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، سنو! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
3407ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے سوال کیا: کیا تم میں سے کوئی عورت اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کے جانور کی کھال سے ایک مشک تیار کرے؟ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اور فلاں فلاں برتن میں بھی، البتہ ان میں سرکہ بنایا جا سکتا ہے۔
3408ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
3409ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۱؎۔
3410جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ۱؎۔
3411ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
3412ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
3413ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
3414حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
3415ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
3416انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔
3417عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی
3418ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
3419عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
3420ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔
3421عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔
3422عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔
3423کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
3424انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔
3425انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے ۱؎۔
3426عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎۔
3427ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
3428عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔
3429عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
3430عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے۔
3431عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی «کرع» ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے ۔
3432جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چنانچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ۱؎۔
3433عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں ۱؎۔
3434ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا ساقی ( پلانے والا ) سب سے آخر میں پیتا ہے ۔
3435عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیشے کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ پیتے تھے۔
ذریعہ: Sunan Ibn Majah
WEBREATH · 11:11
«Should I not be a thankful servant?» — Sahih al-Bukhari
Breath is one for all: everyone lives by it, whoever they are and whatever they believe. Every day at 11:11 local time people stop for sixty seconds, breathe, and thank GOD for the breath — each in their own words, each within themselves. In that minute we are One Breath.
WEBREATH — the Minute at 11:11, your own local time — we are One Breath